• Tue, 22 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی: ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام فلائی اوورخستہ حالی کا شکار

Updated: September 22, 2026, 12:01 PM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

جگہ جگہ پڑنے والے بڑے گڑھوں کی وجہ سے ٹریفک جام کا مسئلہ، گاڑی چلانے والوں کو دشواریوں کا سامنا، شہریوں میں ناراضگی۔

Driving on the flyover is difficult due to potholes at several locations. Photo: INN
فلا ئی اوور پر کئی جگہ گڑھوں کی وجہ سے گاڑی چلانے میں دشواری پیش آتی ہے۔ تصویر: آئی این این

شہر میں ٹریفک جام کی مشکل سے شہریوں کو راحت دینے کے مقصد سے بنایا گیا ونجار پٹی ناکہ پر واقع ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام فلائی اوور اس وقت خود ٹریفک جام اور حادثات کی وجہ بنتا جا رہا ہے۔ پل کی سڑک پر جگہ جگہ بڑے بڑے گڑھے پڑ گئے ہیں جبکہ کئی  مقامات پر جوائنٹ کے سلیب بھی کھل گئے ہیں۔ اس خراب حالت کے باعث گاڑی سواروں کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شہریوں نے فلائی ا وور کی خستہ حالی پر انتظامیہ کے تئیں ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

معلوم ہوکہ مذکورہ فلائی اوور ونجار پٹی ناکہ پر ایم ایم آر ڈی اے کی جانب سے جے ایم سی کمپنی کے ذریعے تیار کئے گئے اس فلائی اوور کا افتتاح وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے کیا تھا۔گزشتہ تقریباً ڈیڑھ سال سے مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث فلائی اوور کی حالت خراب ہوتی چلی گئی۔ 

یہ بھی پڑھئے:بھیونڈی: ۱۷۵؍کلو ممنوعہ مانگور مچھلی کا بڑا ذخیرہ ضبط

ڈامر ہٹانے کے بعد مزید خراب ہوئی حالت 

مقامی شہریوں کے مطابق کچھ دن قبل میونسپل کارپوریشن کی جانب سے جے سی بی کے ذریعے فلائی اوور پر موجود ملبہ ہٹایا گیا تھا۔ اس دوران کئی مقامات سے ڈامر بھی اکھڑ گیا، جس کے بعد سڑک کی حالت مزید خراب ہوگئی۔ فلائی اوور پر موجود گڈھوں کے باعث آئے دن حادثات کا خدشہ برقرار رہتا ہے جبکہ واڈا، بھیونڈی اور ناسک کی جانب جانے والے ٹرک اور کنٹینر سمیت بھاری گاڑیوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ 

مرمت پر ۸؍کروڑ روپے کا تخمینہ 

میونسپل کارپوریشن کے ایگزیکٹیو سٹی انجینئر سچن نائک نے بتایا کہ حال ہی میں وی جے ٹی آئی کے ماہر انجینئروں کے ذریعے فلائی اوور کا اسٹرکچرل آڈٹ کرایا گیا ہے۔ آڈٹ کے بعد فلائی اوور کی مرمت کے لئے تقریباً ۸؍ کروڑ روپے کے خرچ کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مرمت کے کام کا بجٹ تیار کرکے انتظامیہ کو فنڈ کے لئے بھیجا جائے گا۔ منظوری اور فنڈ دستیاب ہونے کے بعد مرمت کا کام شروع کیا جائے گا، تاہم اس میں کتنا وقت لگے گا، یہ فی الحال واضح نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK