Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی: تعلیمی اداروں میں طلبہ کی حفاظت کےلئےمحکمہ تعلیم سخت

Updated: May 13, 2026, 1:07 PM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

طلبہ کی سلامتی کیلئے اسکولوں میں سیکوریٹی آڈٹ اور سخت ضوابط نافذ کرنے کی ہدایت،تربیت یافتہ گارڈز اور سی سی ٹی وی سے نگرانی کا بھی حکم ۔

Instructions Have Been Given To Monitor The Entire School Building, Including The Corridor, With CCTV. Photo:INN
راہ داری سمیت اسکول کی پوری عمارت پر سی سی ٹی وی سے نگرانی کی ہدایت دی گئی ہے۔تصویر:آئی این این
شہر میں طلبہ کی حفاظت اور تعلیمی اداروں کی سیکوریٹی کو یقینی بنانے کیلئے محکمہ تعلیم نے سخت قدم اٹھاتے ہوئے تمام نجی امدادی و غیر امدادی اسکولوں اور کالجوں کو فوری حفاظتی اقدامات نافذ کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ شانتی نگر پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع مختلف تعلیمی اداروں کے سیکوریٹی آڈٹ کے دوران کئی اہم خامیاں سامنے آنے کے بعد انتظامیہ نے اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا ہے۔
 
 
اطلاعات کے مطابق پولیس اور تعلیمی محکمہ کے مشترکہ معائنہ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ متعدد اسکولوں میں حفاظتی  دیواریں خستہ حال ہیں، داخلی دروازے غیر محفوظ ہیں جبکہ اسکول بسوں، رکشوں اور دیگر گاڑیوں کے ڈرائیوروں و معاونین کے کریکٹر ویریفکیشن بھی مکمل نہیں کئے گئے ہیں۔ ان خامیوں کو طلبہ کی سلامتی کیلئے خطرناک قرار دیتے ہوئے میونسپل انتظامیہ نے فوری اصلاحی اقدامات کی ہدایت دی ہے۔
 
 
بلدیہ عظمی کی جانب سے جاری کردہ ہدایت نامہ میں واضح کیا گیا ہے کہ تمام تعلیمی ادارے مضبوط گیٹ، تربیت یافتہ سیکوریٹی گارڈز اور جدید سی سی ٹی وی نظام نصب کریں۔ کلاس روم، راہداریوں، کھیل کے میدان، لائبریری، اسٹاف روم اور بیت الخلاء جیسے حساس مقامات پر نگرانی کیلئے اعلیٰ معیار کے کیمرے نصب کرنے کے ساتھ فوٹیج محفوظ رکھنے کیلئے مناسب بیک اپ سسٹم رکھنے کی بھی تاکید کی گئی ہے۔طالبات اور کم عمر بچوں کی حفاظت کے پیش نظر الگ بیت الخلاء، خاتون صفائی ملازمہ اور ۶؍ سال سے کم عمر بچوں کیلئے خاتون معاون کی تقرری لازمی قرار دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ تعلیمی اداروں کو شکایتی پیٹی، فرسٹ ایڈ باکس اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تربیت یافتہ عملہ رکھنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔
محکمہ تعلیم نے اساتذہ و دیگر عملے کا مکمل ریکارڈ محفوظ رکھنے، طلبہ سے غیر تعلیمی کام نہ لینے اور جنسی ہراسانی یا استحصال سے متعلق شکایات و کارروائی کا تفصیلی ریکارڈ برقرار رکھنے پر بھی زور دیا ہے۔ہاسٹل والے اداروں میں طالبات کیلئے خاتون رہائشی وارڈن کی تقرری لازمی قرار دی گئی ہے۔انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ ۱۳؍ مئی ۲۰۲۵ءکے حکومتی فیصلے کے مطابق تمام تعلیمی ادارے فوری طور پر خامیوں کو دور کرکے اپنی کارروائی رپورٹ کارپوریشن اور شانتی نگر پولیس اسٹیشن میں جمع کرائیں۔ طلبہ کی حفاظت سے متعلق کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائےگی۔ اس تعلق سے نیونیشنل اردو ہائی اسکول کے صدر مدرس مرتضیٰ مومن نے انقلاب سے گفتگو کرتے ہوئے سیکوریٹی آڈٹ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انتظامیہ کی جانب سے سیکوریٹی آڈٹ فارم فراہم کیا گیا تھا جسے پُر کرکے جمع کرادیا گیا ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK