• Wed, 11 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی: آزاد کارپوریٹر، کونارک وکاس اگھاڑی میں شامل، میئر الیکشن کیلئے ولاس پاٹل متحرک

Updated: February 11, 2026, 11:58 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

میونسپل کارپوریشن کی سیاست ایک بار پھر فیصلہ کن موڑ پر پہنچتی دکھائی دے رہی ہے۔ واحد آزاد منتخب کارپوریٹر نِتیش اینکر کی کونارک وکاس اگھاڑی میں باضابطہ شمولیت نے نہ صرف سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے بلکہ میئر انتخاب کی سمت اور امکانات پر بھی نئے سوالات قائم کر دیے ہیں۔

Bhiwandi Corporation.Photo:INN
بھیونڈی کا رپوریشن۔ تصویر:آئی این این

میونسپل کارپوریشن کی سیاست ایک بار پھر فیصلہ کن موڑ پر پہنچتی دکھائی دے رہی ہے۔ واحد آزاد منتخب کارپوریٹر نِتیش اینکر کی کونارک وکاس اگھاڑی میں باضابطہ شمولیت نے نہ صرف سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے بلکہ میئر انتخاب کی سمت اور امکانات پر بھی نئے سوالات قائم کر دیے ہیں۔سابق میئر ولاس پاٹل کی قیادت میں کونارک وکاس اگھاڑی کا رجسٹریشن پیر کے روز کوکن ڈویژنل کمشنر کے دفتر میں مکمل ہوا، جس کے فوراً بعد آزاد کارپوریٹر کی شمولیت کو محض ایک عددی اضافہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سیاسی حکمتِ عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ 
ولاس پاٹل کو پیشگی ضمانت ملنے کے بعد ان کی سیاسی سرگرمیوں میں جو غیر معمولی تیزی آئی ہے، اس پیش رفت کو اسی تسلسل کی ایک مضبوط کڑی مانا جا رہا ہے۔آزاد کارپوریٹر کی شمولیت کے بعد کونارک وکاس اگھاڑی کے اراکین کی تعداد بڑھ کر ۵؍ ہو گئی ہے، جن میں سابق میئر ولاس پاٹل، ان کی اہلیہ سابق میئر پرتِبھا پاٹل، فرزند ایڈوکیٹ میوریش پاٹل، نیہا کاتھولے اور نِتیش اینکر شامل ہیں۔ یہ گروپ اگرچہ عددی اعتبار سے محدود ہے، تاہم سیاسی وزن اور علامتی پیغام کے لحاظ سے اسے غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:کیا پرینکا چوپڑہ ’’ڈان ۳‘‘ اور ’’کرش ۴‘‘ کی تیاری کررہی ہیں؟

کونارک وکاس اگھاڑی کی قیادت میں میئر سازی؟ 
سیاسی مبصرین کے مطابق بی جے پی اکثریت سے دور ہونے کے بعد اب شیوسینا (شندے) ولاس پاٹل کی قیادت میں نئی صف بندی پر غور کر رہی ہے، تاکہ پچھلے دروازے سے مہایوتی کی حکومت قائم کرنے کی راہ ہموار کی جا سکے۔سیاسی حلقوں میں یہ بحث بھی زور پکڑ رہی ہے کہ آئندہ دنوں میں کونارک وکاس اگھاڑی کی قیادت میں شیوسینا شندے گروپ، سماجوادی پارٹی اور دیگر پارٹیوں کا ایسا اتحاد تشکیل دیا جا سکتا ہے جسے بالواسطہ یا بلاواسطہ بی جے پی کی حمایت حاصل ہو۔ بعض مبصرین یہاں تک قیاس آرائیاں کر رہے ہیں کہ پڑوسی میونسپل کارپوریشنوں کی طرز پر بھیونڈی میں بھی خاتون میئر کے انتخاب کا راستہ ہموار کیا جا سکتا ہے، اور اس ضمن میں پرتبھا ولاس پاٹل کا نام زیرِ غور آ سکتا ہے۔ دعویٰ تو یہاں تک کیا جارہا ہے کہ اس اتحاد میں ڈپٹی میئر بی جے پی اور اسٹینڈنگ کمیٹی سماج وادی پارٹی کو دیا جاسکتا ہے۔ تاہم، ان تمام امکانات کے باوجود فی الحال کسی بھی سیاسی جماعت کی جانب سے باضابطہ حمایت یا واضح اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:کنیڈا کے صوبے کولمبیا میں فائرنگ، ۱۰؍ افراد ہلاک، ۲۵؍ زخمی

رکن اسمبلی رئیس شیخ کی  انتخاب جلد کرانے کی اپیل 
میونسپل کارپوریشن (بی این سی ایم سی) میں میئر کے انتخاب کو مسلسل مؤخر کیے جانے کو سنگین جمہوری مسئلہ قرار دیتے ہوئے  مشرق اسمبلی حلقہ کے سماجوادی پارٹی کے رکنِ اسمبلی رئیس شیخ نے کہا ہے کہ اس غیر معمولی تاخیر نے سیاسی جوڑ توڑ اور ’ہارس ٹریڈنگ ‘ جیسے غیر جمہوری رجحان کو کھلی چھوٹ دے دی ہے، جو جمہوریت کی روح کے سراسر منافی ہے۔رئیس شیخ کے مطابق میئر انتخاب میں تاخیر محض انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سیاسی حکمتِ عملی بن چکی ہے، جس کے ذریعے منتخب نمائندوں کی وفاداریاں بدلنے اور عددی طاقت کو متاثر کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے ہتھکنڈے بلدیاتی نظام کو کمزور کرنے کے مترادف ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ مقدس ماہِ رمضان کا آغاز۱۸؍ فروری سے ہو رہا ہے، اور ایسے میں میئر انتخاب کو مزید ٹالنا نہ صرف عوامی جذبات سے کھلواڑ ہے بلکہ جمہوری اقدار کی صریح خلاف ورزی بھی ہے۔ اسی لیے انہوں نے مطالبہ کیا کہ رمضان سے قبل میئر انتخاب کی تاریخ فوری طور پر اعلان کی جائے۔رکنِ اسمبلی رئیس شیخ نے بتایا کہ وہ اس معاملے پر کوکن ڈویژنل کمشنر ڈاکٹر وجے سوریہ ونشی سے مسلسل رابطے میں ہیں، تاہم اس کے باوجود انتخابی عمل کو بلا جواز طول دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK