ممبئی اور بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کے افسران کی میٹنگ کے بعد ۴۲۶؍کروڑ روپے کی آب رسانی اسکیم کی راہ ہموار
EPAPER
Updated: May 30, 2026, 11:36 PM IST | Mumbai
ممبئی اور بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کے افسران کی میٹنگ کے بعد ۴۲۶؍کروڑ روپے کی آب رسانی اسکیم کی راہ ہموار
شہر میں پانی کی قلت کے مستقل حل کیلئے جاری ۴۲۶؍کروڑ روپے کی توسیعی آب رسانی اسکیم کو درپیش رکاوٹیں دور کرنے کیلئے ممبئی اور بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کے اعلیٰ افسران کے درمیان ایک اہم اور اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں منصوبے سے متعلق زیر التوا معاملات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ میٹنگ میں ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے ایڈیشنل کمشنر (پروجیکٹس) ابھجیت بانگر نے یقین دہانی کرائی کہ پائپ لائن بچھانے کیلئے درکار زمین کی فراہمی سے متعلق تمام رکاوٹیں آئندہ ۱۰؍ دنوں میں دور کر دی جائیں گی۔
بی ایم سی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ اس اعلیٰ سطحی میٹنگ میں بی ایم سی کے ایڈیشنل کمشنر ابھجیت بانگر، بھیونڈی ۔نظام پور میونسپل کارپوریشن کے کمشنر انمول ساگر، رکن اسمبلی رئیس شیخ، ڈپٹی میئر طارق مومن سمیت دونوں میونسپل کارپوریشنوں کے سینئر افسران شریک ہوئے۔ میٹنگ میں بھیونڈی کی آب رسانی اسکیم کی موجودہ صورتحال، زمین کے حصول، تکنیکی منظوریوں اور منصوبے کی رفتار تیز کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
۲۰۵۴ء تک کی آبادی کو ملحوظ رکھ کر منصوبہ بندی
۴۲۶؍کروڑ روپے لاگت کے اس میگا پروجیکٹ کی منصوبہ بندی سال ۲۰۵۴ء تک بھیونڈی کی متوقع ۱۵؍لاکھ ۸۴؍ہزار آبادی کی ضروریات کو سامنے رکھ کر کی گئی ہے۔ منصوبے کے تحت پِسے ڈیم، بی ایم سی ٹیپنگ سورس اور اسٹیم پائپ لائن کے ذریعے روزانہ ۲۷۳؍ ملین لیٹر پانی شہر کو فراہم کیا جائے گا۔
۲۴؍کلومیٹر مرکزی پائپ لائن منصوبے کا حصہ
منصوبے میں جیک ویل، اوورہیڈ پمپ ہاؤس، واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ، بیلنسنگ ٹینک، برقی مراکز، پمپنگ اسٹیشن، ندی اور نالوں پر پلوں کی تعمیرکے علاوہ تقریباً ۲۴؍کلومیٹر طویل فولادی مرکزی پائپ لائن بچھانے کا کام بھی شامل ہے، جو شہر کے پانی کے نظام کو مزید مضبوط بنائے گا۔
۲؍سال میں تکمیل کا دعویٰ
سماجوادی پارٹی کے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے میٹنگ کے بعد بتایا کہ منصوبے کی تقریباً ۷۵؍ فیصد ضروری منظوری حاصل ہو چکی ہے اور زمین کی منتقلی کے بعد تعمیراتی کام میں تیزی لائی جائے گی۔ ان کے مطابق اگر باقی ماندہ کارروائیاں مقررہ وقت میں مکمل ہو جاتی ہیں تو آئندہ ۲؍ برسوں کے اندر یہ اہم منصوبہ پایۂ تکمیل تک پہنچ جائے گا جس سے بھیونڈی کے شہریوں کو پانی کی قلت کے دیرینہ مسئلے سے مستقل راحت ملنے کی امید ہے۔