Inquilab Logo Happiest Places to Work

مغربی بنگال: قدیم مسجد کے باہر پوجا، بی جے پی لیڈر کا شیو لنگ نصب کرنے کا منصوبہ

Updated: July 25, 2026, 9:04 PM IST | Kolkata

مغربی بنگال کی قدیم مسجد کے باہر بی جےپی لیڈر کے ذریعے پوجا کی گئی، ساتھ ہی شیو لنگ نصب کرکےمندر کے دعوے کو مضبوط کرنے کا منصوبہ بھی بنایا جارہا ہے۔

The 650-year-old Adina Mosque in Malda district. Photo: X
مالدا ضلع میں۶۵۰؍ سال پرانی عدینہ مسجد۔ تصویر: ایکس

مغربی بنگال میں ایک بی جے پی لیڈر کی سربراہی میں انتہا پسند ہندو تنظیم کے ذریعے اب ایک مندر،مسجد کا نیا تنازع کھڑا کیاجا رہا ہے۔ یہ لوگ مالدا ضلع میں۶۵۰؍ سال پرانی ایک مسجد کے قریب پوجا کر رہے ہیں، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ یہ کبھی ایک مندر تھا۔ آئندہ  پیر کو، آدیناتھ پراتن شیو مندر تنظیم،کا مسجد کے باہر ایک بڑا شیو لنگ نصب کرنے کا منصوبہ ہے۔ واضح رہے کہ ۱۳۷۳ء عیسوی میں سکندر شاہ کے ذریعہ تعمیر کی گئی، مالدا کے پانڈوا میں واقع عدینہ مسجد کو محکمہ آثار قدیمہ (آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) ) نےپورے برصغیر میں قرون وسطیٰ کی سب سے بڑی مسجد قرار دیاہے۔ تاہم شر پسند ہندو گروپ اور بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ یہ بھگوان شیو کو وقف آدیناتھ مندرکی جگہ پر تعمیر کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: کرناٹک: جعلی پی ایچ ڈی سند اسکینڈل، ۲۴۹؍ گیسٹ لیکچرر کے خلاف مقدمہ

تنظیم کا دعویٰ ہے کہ مسجد میں شیو لنگ کے علاوہ بہت سے ہندو اور بدھ نقوش موجود ہیں، اور وہ جلد ہی کلکتہ ہائی کورٹ میں اس مسئلے پر اے ایس آئی رپورٹ طلب کرنے کے لیے درخواست دائر کرے گی۔آدیناتھ پراتن شیو مندر کے سرپرست گوسوامی نے ایک بیان میں کہا کہ ،’’ہمارا مقصد مندر کو بحال کرنا اور شیو لنگ کو اس کے اندر رکھنا ہے۔‘‘بعد ازاں ۳؍ اعشاریہ ۶؍ فٹ اونچا شیو لنگ، جس کا وزن ڈیڑھ ٹن ہے، مسجد کے قریب نصب کرنے کے لیے ۲۸۹؍ کلومیٹر دور ترکیشور سے لایا جا رہا ہے۔ جبکہ گوسوامی کا کہنا ہے کہ ہم نے پہلے ہی اے ایس آئی اور پولیس کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ کی ہے، اور انہوں نے ہمیں مسجد کے علاقے سے باہر پوجا کرنے کو کہا ہے۔‘‘ایک سینئر اے ایس آئی اہلکار نے انڈین ایکسپریس کو تصدیق کرتے ہوئے مسجد کو ’’ایک تاریخی یادگار‘‘ قرار دیا ہے، فی الحال مسجد کے اندر کوئی پوجا نہیں ہوتی۔حال ہی میں، مالدا ضلع پولیس نے ایک  بیان میں کہا کہ عوام کو اس طرح مطلع کیا جاتا ہے کہ عدینہ یادگار آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے تحت قومی اہمیت کی مرکزی طور پر محفوظ یادگار ہے اور یہ قدیم یادگاروں اور آثار قدیمہ کے مقامات اور باقیات ایکٹ،۱۹۵۸ء (اے ایم اے ایس آر ایکٹ) کی دفعات کے تحت چلتی ہے۔ محفوظ یادگار کے احاطے کے اندر کوئی مذہبی رسومات یا کوئی بھی غیر مجاز سرگرمیاں ممنوع ہیں۔ اس میں کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں سخت قانونی کارروائی کی تنبیہ کی گئی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر کے رضاکار محمد جنید کا یوپی پولیس پر اہلِ خانہ کو ہراساں کرنے کا الزام

واضح رہے کہ بی جے پی کے راجیہ سبھا ایم پی اور موجودہ بنگال صدر سمک بھٹاچاریہ نے اس مسئلے کو پارلیمنٹ تک پہنچایا۔ایوان میں اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ،’’ عدینہ مسجد ۱۳۷۳ء عیسوی میں بنگال سلطنت کے سلطان سکندر شاہ نے تعمیر کی تھی۔ یہ مسجد پہلے سے موجود ہندو اور بدھ ڈھانچوں کا سامان استعمال کرکے بنائی گئی تھی۔ مندر کو ہر قیمت پر محفوظ کیا جانا چاہیے،یہ ان ہزاروں مندروں میں سے ایک ہے جو مغربی بنگال پر حملے کے بعد حملہ آور گروہوں کے ذریعہ تباہ کیے گئے تھے۔انڈین ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے، بی جے پی کے راجیہ سبھا ایم پی اور سابق مغربی بنگال چیف را ہل سنہا نے اس تنازع کا موازنہ ایودھیا کی بابری مسجد سے کیا، اور دعویٰ کیا،’’بہت پہلے، وہاں پوجا ہوتی تھی، بعد میں، یہ بند ہوگئی۔ مندر سے تعلق رکھنے والی زمین پر بھی قبضہ کر لیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر: پولیس کانسٹیبل نے وردی میں ’’استعفیٰ‘‘ دے دیا، اتراکھنڈ پولیس نے کہا: وہ پہلے ہی معطل تھا

تاہم سی پی آئی (ایم) کے ریاستی سکریٹری اور پولٹ بیورو ممبر محمد سلیم نے کہا کہ یہ بی جے پی کا مانوس حربہ ہے۔  پہلے مرحلے میں، وہ مذہبی سرگرمیاں لاتے ہیں۔ پھر وہ تنازع اور تقسیم پیدا کرتے ہیں۔ عدینہ مسجد تازہ ترین مثال ہے۔سلیم نے متنبہ کیا کہ بی جے پی عدینہ پر نہیں رکے گی۔ وہ ہوگلی، بردھامن، شمالی اور جنوبی۲۴؍ پرگنہ اضلاع میں بھی ایسی چیزیں ڈھونڈنا شروع کریں گے۔ 
 اے ایس آئی کی ویب سائٹ کے مطابق، عدینہ مسجد قرون وسطیٰ میں نہ صرف بنگال بلکہ پورے  برصغیر میں سب سے بڑی مسجد تھی۔ پچھلی دیوار پر ایک کتبہ بتاتا ہے کہ یہ۱۳۷۳؍ میں الیاس شاہ کے بیٹے سکندر شاہ نے تعمیر کی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK