اپوزیشن لیڈر کو ملنڈ ٹول ناکہ کے قریب بی جے پی کارکنوں نے سیاہ پرچم دکھائے
EPAPER
Updated: February 21, 2026, 10:27 PM IST | Mumbai
اپوزیشن لیڈر کو ملنڈ ٹول ناکہ کے قریب بی جے پی کارکنوں نے سیاہ پرچم دکھائے
اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی سنیچر کو آر ایس ایس سے متعلق ہتکِ عزت کے مقدمہ میں نئی ضمانت داخل کرنے کیلئے ضلع و سیشن عدالت بھیونڈی کی فاسٹ ٹریک عدالت میں پیش ہوئے۔ قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد عدالت نے ضمانت منظور کرتے ہوئے مقدمہ کی آئندہ سماعت ۴؍اپریل مقرر کر دی۔ یہ سماعت جج پی ایم کولسے کی عدالت میں عمل میں آئی۔ اس سے قبل راہل گاندھی کی ضمانت سابق مرکزی وزیر شیوراج پاٹل چاکورکر نے لی تھی مگر ان کے انتقال کے بعد نئے ضامن کی تقرری ناگزیر ہوگئی تھی۔ مہاراشٹر کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال نے عدالت میں بطور ضامن حلف نامہ داخل کیا۔ وکیل صفائی ایڈوکیٹ نارائن ایئر کے مطابق ضمانتی بانڈ پر دستخط اور دیگر رسمی کارروائی تقریباً بیس منٹ میں مکمل کر لی گئی جس کے بعد راہل گاندھی ممبئی روانہ ہوگئے۔
سخت حفاظتی انتظامات
سماعت صبح۱۰؍ بج کر۴۵؍ منٹ پر مقرر تھی مگر راہل گاندھی مقررہ وقت سے پہلے ہی عدالت پہنچ گئے۔ ان کی آمد کے پیش نظر عدالت کے اطراف سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے اور پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی۔ بعض سڑکوں پر عارضی تبدیلی کے سبب شہر کے مختلف مقامات پر ٹریفک جام کی کیفیت پیدا ہوگئی جس سے شہریوں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
سیاسی حلقوں میں گہماگہمی
راہل گاندھی کی آمد کی اطلاع پر کانگریس کے مقامی عہدیدار اور کارکن عدالت کے باہر موجود رہے لیکن وہ بغیر کسی عوامی خطاب کے کارروائی مکمل کرکے روانہ ہوگئے۔ ممبئی میں ملنڈ ٹول ناکہ کے قریب بعض بی جے پی کارکنوں کی جانب سے سیاہ پرچم دکھائے جانے کی اطلاع پر مقامی کانگریسی لیڈروں نے برہمی ظاہر کرتے ہوئے اسے سیکوریٹی میں کوتاہی قرار دیا۔
شکایت کنندہ راجیش کنٹے نے کہا کہ نئی ضمانت کا داخلہ قانونی تقاضا تھا اور عدالت کی کارروائی سے ظاہر ہے کہ عدلیہ کا عمل بالاتر ہے۔۴؍ اپریل کو ہونے والی آئندہ سماعت کو سیاسی اعتبار سے اہم سمجھا جارہا ہے۔