Updated: February 21, 2026, 10:13 PM IST
| New York
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق قطر کے العُدید ایئر بیس اور بحرین سے سیکڑوں امریکی فوجیوں کو احتیاطی اقدام کے طور پر نکالا گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آئی ہے، جہاں ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات شدت اختیار کر رہے ہیں۔
امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز نے جمعہ کو پینٹاگون کے گمنام ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ قطر میں واقع العدید ایئر بیس سے سیکڑوں امریکی فوجیوں کو نکال لیا گیا ہے۔ اسی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بحرین سے بھی افواج کو منتقل کیا گیا ہے، جہاں امریکی بحریہ کا یونائیٹڈ اسٹیٹس ففتھ فلیٹ تعینات ہے۔ العدید ایئر بیس مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ سمجھا جاتا ہے، جہاں تقریباً ۱۰؍ ہزار امریکی اہلکار موجود رہتے ہیں۔ یہ اڈہ خطے میں امریکی فضائی کارروائیوں اور لاجسٹک سپورٹ کا مرکزی مرکز ہے۔
یاد رہے کہ امریکہ کی افواج عراق، شام، کویت، سعودی عرب، اردن اور متحدہ عرب امارات سمیت متعدد ممالک میں مختلف فوجی اڈوں پر تعینات ہیں۔ ان تمام کارروائیوں کی نگرانی یو ایس سینٹرل کمانڈ کرتی ہے، جو ایران اور اس کے گرد و نواح کے خطے کا احاطہ کرتی ہے۔ تاہم سینٹرل کمانڈ نے فوری طور پر اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کو پورے مشرق وسطیٰ پر قبضہ کرنے کا انجیلی حق ہے: امریکی ایلچی ہکابی
ایران کی وارننگ
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ جمعرات کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو لکھے گئے خط میں، اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مشن کے سربراہ نے خبردار کیا کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو ’’خطے میں دشمن طاقت کے تمام اڈے، تنصیبات اور اثاثے جائز اہداف ہوں گے۔‘‘ خط میں مزید کہا گیا کہ امریکہ کو کسی بھی ’’غیر متوقع اور بے قابو نتائج‘‘ کی مکمل اور براہ راست ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کی جانب سے اس قسم کے بیانات خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو ممکنہ ہدف بنانے کے اشارے دیتے ہیں، جس کے پیش نظر یہ انخلا احتیاطی اقدام ہو سکتا ہے۔
احتیاط یا ممکنہ تصادم؟
فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ممکنہ حملے یا کشیدگی کے پیش نظر حساس تنصیبات سے اہلکاروں کی جزوی منتقلی ایک معمول کی حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ اس کا مقصد جانی نقصان کے خطرے کو کم کرنا اور آپریشنل لچک برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ تاہم، خطے میں حالیہ بیانات اور عسکری نقل و حرکت نے خدشات کو بڑھا دیا ہے کہ اگر براہ راست تصادم ہوا تو اس کے اثرات صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا مشرق وسطیٰ متاثر ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کا اقوام متحدہ کے سربراہ کوانتباہ، اگرحملہ ہوا توفیصلہ کن جواب دیا جائے گا
علاقائی اور عالمی اثرات
العدید ایئر بیس اور بحرین میں امریکی بحری بیڑے کی موجودگی خلیجی ممالک کی سیکیورٹی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ کسی بھی بڑے فوجی تصادم کی صورت میں تیل کی عالمی سپلائی، بحری راستوں کی سلامتی اور خطے کی سیاسی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پس پردہ رابطے جاری ہو سکتے ہیں، تاہم سرکاری سطح پر کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا۔