مرکزی وزیر اشوینی ویشنو نے ’ایکس‘ پر اعلان کیا کہ ”۸۸ ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں نے انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دہلی اعلامیہ پر دستخط کرکے وزیراعظم نریندر مودی کے انسان مرکوز اے آئی کے وژن کی توثیق کی ہے۔“
EPAPER
Updated: February 21, 2026, 10:11 PM IST | New Delhi
مرکزی وزیر اشوینی ویشنو نے ’ایکس‘ پر اعلان کیا کہ ”۸۸ ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں نے انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دہلی اعلامیہ پر دستخط کرکے وزیراعظم نریندر مودی کے انسان مرکوز اے آئی کے وژن کی توثیق کی ہے۔“
نئی دہلی میں منعقدہ ’انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ‘ جمعہ کے دن اختتام پذیر ہوا۔ سمٹ کے آخری دن ۸۵ سے زائد ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں نے اے آئی کے اثرات سے متعلق ’دہلی اعلامیہ‘ کو منظور کیا۔ اس اعلامیہ کو مصنوعی ذہانت پر عالمی تعاون کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جارہا ہے جو معاشی ترقی اور سماجی بہبود کے لئے اے آئی کے استعمال پر وسیع تر عالمی اتفاقِ رائے کی عکاسی کرتا ہے۔
88 countries and international organisatons have signed the AI Impact Summit Declaration. Entire world has endorsed PM @narendramodi Ji’s human-centric vision of AI.
— Ashwini Vaishnaw (@AshwiniVaishnaw) February 21, 2026
The declaration is inspired by the principle of ‘Sarvajana Hitaya, Sarvajana Sukhaya’, for democratising AI… pic.twitter.com/dnnNTIMysl
مرکزی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی، اشوینی ویشنو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اس اعلامیے کی منظوری کا اعلان کیا۔ انہوں نے اپنے پوسٹ میں لکھا کہ ”۸۸ ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں نے اے آئی امپیکٹ سمٹ اعلامیہ پر دستخط کئے ہیں۔ پوری دنیا نے وزیراعظم نریندر مودی کے انسان مرکوز اے آئی کے وژن کی توثیق کی ہے۔ یہ اعلامیہ ’سروجن ہِتائے، سروجن سُکھائے‘ (سب کی فلاح، سب کی خوشی) کے اصول سے متاثر ہے، تاکہ عالمی آبادی کے لئے اے آئی وسائل کو جمہوری بنایا جاسکے۔“
یہ بھی پڑھئے: سوئس صدر، تمام ممالک کیلئے اے آئی کو جمہوری بنانے کے ہندوستانی منصوبے کی حمایت
رپورٹس کے مطابق، دہلی اعلامیہ سات بنیادی ستونوں پر مبنی ہے جو عالمی سطح پر اے آئی تعاون کی بنیاد تشکیل دیتے ہیں۔ ان سات ستونوں میں اے آئی وسائل کی مرکزیت کا خاتمہ، معاشی ترقی اور سماجی بہبود، محفوظ اور قابلِ اعتماد اے آئی، سائنس کے لئے اے آئی، سماجی بااختیار بنانے تک رسائی، انسانی وسائل کی ترقی اور لچکدار، موثر و اختراعی اے آئی سسٹمز شامل ہیں۔ اے آئی امپیکٹ سمٹ میں انسانی وسائل کی ترقی، سماجی بااختیار بنانے کے لئے رسائی میں اضافہ، اے آئی سسٹمز کی موزونیت، اے آئی سسٹمز کی توانائی کی کارکردگی، سائنس میں اے آئی کا استعمال، اے آئی وسائل کی سب تک رسائی اور معاشی ترقی و سماجی بہبود کے لئے اے آئی کا استعمال جیسے اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: مصنوعی ذہانت کا مستقبل چند ممالک کے ہاتھوں میں نہیں ہونا چاہیے: انتونیو غطریس
دہلی اعلامیہ میں اے آئی وسائل کو قابلِ رسائی اور سستا بنانے پر بھی توجہ مرکوز کی گئی تاکہ تمام ممالک اپنے شہریوں کے فائدے کے لئے انہیں تیار کرسکیں اور نافذ کرسکیں۔ اس کے علاوہ، اقتصادی اور سماجی ترقی کے لئے اے آئی اور اس پر مبنی ایپلی کیشنز کا بڑے پیمانے پر استعمال، اے آئی سسٹمز میں سیکیورٹی کی اہمیت کا اعتراف، بین الاقوامی سائنسی تعاون جیسے تحقیق و ترقی کے لئے اے آئی کا استعمال، سماجی طور پر بااختیار بنانے کے لئے اے آئی کو اپنانے میں سہولت فراہم کرنا، اے آئی کے دور میں افرادی قوت کو تیار کرنا اور کم لاگت والے اے آئی سسٹمز پر توجہ جیسے موضوعات کا احاطہ اس دستاویز میں کیا گیا ہے۔