• Sat, 21 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ خامنہ ای کو قتل کرنے پر غور کر رہے ہیں؟ رپورٹس میں دعویٰ

Updated: February 21, 2026, 10:12 PM IST | Washington

ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ خامنہ ای کو قتل کرنے پر غور کر رہے ہیں، ٹرمپ انتظامیہ میں موجود ایک اہلکار نے کہا کہ ٹرمپ اپنے متبادلکھلے رکھے ہوئے ہیں وہ کسی بھی لمحے حملے کا فیصلہ کر سکتے ہیں،جس میں ایران کی اعلیٰ قیادت کے خلاف براہ راست کارروائی بھی شامل ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے ساتھ، رپورٹس بتاتی ہیں کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سفارت کاری سے کہیں آگے کے کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔دریں اثناء صدر ٹرمپ مبینہ طور پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای، ان کے بیٹے اوردیگر علمائوں کو ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔‘‘
بعد ازاں ایکزیوس کی ایک رپورٹ کے مطابق، جس میں متعدد ذرائع کا حوالہ دیا گیا ہے، ٹرمپ کئی منظرناموں پر غور کر رہے ہیں، جن میں ایک وہ بھی ہے جس میں ایران کے سپریم لیڈر اور ان کے ممکنہ جانشین، ان کے بیٹے مجتبیٰ کا قتل شامل ہے۔جبکہ ٹرمپ کے ایک سینئر مشیر نے ذرائع کو بتایاکہ ان کے پاس ہر منظرنامےکیلئے منصوبہ موجود  ہے۔تاہم، مشیر نے اصرار کیا کہ’’ ٹرمپ نے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے، صدر کیا انتخاب کرتے ہیں، کوئی نہیں جانتا۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ خود جانتے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ایران کا اقوام متحدہ کے سربراہ کوانتباہ، اگرحملہ ہوا توفیصلہ کن جواب دیا جائے گا

مزید برآں ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اور سینئر اہلکار نے تصدیق کی کہ خامنہ ای اور ان کے بیٹے مجتبیٰ کو قتل کرنے کا منصوبہ ہفتوں پہلے ٹرمپ کو پیش کیا گیا تھا۔ٹرمپ نے متبادل کھلے رکھے ہوئے ہیں۔ٹرمپ انتظامیہ میں موجود ایک تیسرے شخص نے کہا، ’’ٹرمپ اپنے آپشنز کھلے رکھے ہوئے ہیں۔ وہ کسی بھی لمحے حملے کا فیصلہ کر سکتے ہیں، جس میں ملک کی اعلیٰ قیادت کے خلاف براہ راست کارروائی بھی شامل ہے۔‘‘
واضح رہے کہ یہ رپورٹیں اس وقت سامنے آئی ہیں جب ٹرمپ نے جمعرات۱۹؍ فروری کو اعتراف کیا کہ اگر ایران ۱۰؍ سے ۱۵؍ دنوں کے اندر امریکہ کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کرتا ہے تو وہ ایران پر محدود حملے پر غور کر رہے ہیں۔ جب ایک رپورٹر نے براہ راست سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا، "میں زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں اس پر غور کر رہا ہوں۔‘‘ جبکہ حالیہ ہفتوں میں، امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے۔ اس سال کے شروع میں یو ایس ایس ابراہم لنکن بحری بیڑے کو تعینات کرنے کے بعد، واشنگٹن نے دوسرے طیارہ بردار بحری جہاز، جیرالڈ فورڈ کو خطے میں بھیجنے کا حکم دیا۔ اس اقدام کو بڑے پیمانے پر دباؤ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد تہران کو اپنے جوہری پروگرام پر روک لگانے پر مجبور کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی جہاز ایران پر حملے کیلئے تیار؛ عالمی سطح پر سفارت کاری کے مطالبات میں شدت، روس کا انتباہ

ساتھ ہی ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران ان کی مقررہ تاریخ ختم ہونے سے پہلے کوئی معاہدہ نہیں کرتا ہے تو "برے نتائج ہوں گے۔یہ تازہ ترین کشیدگی اس وقت سامنے آئی ہے جب مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں۔ جنیوا میں مذاکرات کے بعد، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایک مسودہ تجویز چند دنوں میں تیار ہو سکتا ہے اور تہران میں حتمی منظوری کے بعد اسے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کو سونپ دیا جائے گا۔عراقچی نے ان دعووں کو مسترد کر دیا کہ واشنگٹن نے یورینیم کی افزودگی صفر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے امریکی ٹی وی نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا، ’’ہم نے کوئی معطلی پیش نہیں کی ہے، اور امریکی جانب سے صفر افزودگی کا مطالبہ نہیں کیا گیا ہے۔‘‘ انہوں نے اصرار کیا کہ توجہ اس بات کو یقینی بنانے پر ہے کہ’’ ایران کا جوہری پروگرام پرامن ہے اور ہمیشہ پرامن رہے گا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK