تُکارام منڈے کی سخت ہدایات کا اثر، دکانداروں کا معیار اور قدرتی اجزاء پر زور۔
EPAPER
Updated: September 13, 2026, 1:11 PM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
تُکارام منڈے کی سخت ہدایات کا اثر، دکانداروں کا معیار اور قدرتی اجزاء پر زور۔
گنیش اتسو اور دیگر تہواروں کے موسم میں مٹھائیوں کی بڑھتی مانگ کے درمیان کھانے کی اشیاء میں مصنوعی رنگوں کے غیرضروری اور ضابطے کیخلاف استعمال پر انتظامیہ کی سختی کا اثر بازاروں میں نظر آنے لگا ہے۔ فوڈ اینڈ ڈرگس ایڈمنسٹریشن کے کمشنر تُکارام منڈے کی ہدایات کے بعد مٹھائی فروشوں نے شوخ اور غیرمعمولی رنگوں کے استعمال سے گریز شروع کردیا ہے، جس کے باعث مٹھائیوں کی ظاہری چمک نسبتاً کم نظر آ رہی ہے۔ گنیش اتسو کے دوران جلیبی، پیڑا، بوندی، لڈو، چم چم اور رس گلا سمیت مختلف مٹھائیوں کی طلب بڑھ جاتی ہے۔
صارفین کو متوجہ کرنے کیلئے مٹھائیوں میں تیز رنگوں کا استعمال کیا جاتا رہا ہے، تاہم اب دکانداروں میں کارروائی کا خوف بھی ہے اور غذائی معیار کے حوالے سے احتیاط بھی بڑھ رہی ہے۔ انتظامیہ نے صرف مقررہ ضوابط کے تحت اجازت یافتہ فوڈ کلرز استعمال کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انتظامیہ نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ بہت زیادہ گہرے یا غیرمعمولی طور پر شوخ رنگ والی مٹھائی خریدتے وقت احتیاط برتیں اور صرف رنگ و روپ کے بجائے معیار، صفائی اور محفوظ ہونے کو ترجیح دیں۔
تھانے روڈ پر معروف مٹھائی فروش ایوب بھائی مٹھائی والے کے آصف میٹھائی والے نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی رنگوں کے بجائے قدرتی اجزاء سے تیار مٹھائیوں کو ترجیح دینا بہتر ہے۔ انہوں نے کہا ہماری دکان پر برسوں سے قدرتی اجزاء سے ہی میٹھائیاں بنائی جاتی ہیں، جس کے سبب عوام بڑے شوق سے ہماری میٹھائیاں کھاتے ہیں۔ ان کے مطابق صارفین میں بھی مصنوعی رنگوں کے حوالے سے بیداری بڑھ رہی ہے اور ان کے استعمال میں کمی سے کاروبارپر کوئی منفی اثر نہیں پڑا۔ ان کے مطابق محفوظ اور معیاری مٹھائی فراہم کرنا دکانداروں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔