• Sun, 13 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی: فضائی آلودگی پر قابو پانے کیلئے سخت اقدامات

Updated: September 13, 2026, 1:06 PM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

ہائی کورٹ کی ہدایات پر سختی سے عمل درآمد کے لئے میونسپل کمشنر انمول ساگر نے احکامات جاری کئے۔

Municipal Commissioner Anmol Sagar giving instructions to the concerned officers at a review meeting held to control air pollution. Photo: INN
فضائی آلودگی پر قابو پانے کےلئے منعقدہ جائزہ اجلاس میں میونسپل کمشنر انمول ساگر متعلقہ افسران کو ہدایات دیتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

شہر میں تعمیراتی کاموں، انہدام، ملبے اور صنعتی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی پر قابو پانے کیلئے میونسپل انتظامیہ نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ میونسپل کمشنر انمول ساگر نے متعلقہ افسران کو ممبئی ہائی کورٹ کی ہدایات اور محکمہ ماحولیات کی جانب سے جاری رہنما اصولوں پر سختی سے عمل درآمد کرنے کا حکم دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی سطح پر غفلت یا کوتاہی کی صورت میں متعلقہ افسر کو ذاتی طور پر ذمہ دار ٹھہرا کر محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔ 
کمشنر کی صدارت میں منعقدہ اعلیٰ افسران کے جائزہ اجلاس میں ممبئی میٹروپولیٹن ریجن میں فضائی آلودگی سے متعلق ہائی کورٹ کی ہدایات کے نفاذ کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں زیرِ تعمیر اور انہدامی مقامات پر گرد و غبار کی روک تھام، تعمیراتی ملبے کے مناسب انتظام، صنعتی اداروں سے ہونے والی آلودگی پر قابو پانے اور سڑکوں کی مؤثر صفائی کے لئے ضروری اقدامات کی ہدایت دی گئی۔ اس کے ساتھ ٹھوس کچرے کے مؤثر انتظام، عوامی بیداری مہم، ماحول دوست ایندھن کے استعمال، شجرکاری اور شہر میں سبز پٹی کے فروغ کے لئے بھی جامع منصوبہ تیار کرنے پر زور دیا گیا۔ کمشنر نے تمام متعلقہ محکموں کو باہمی تال میل کے ساتھ ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی تاکید کی۔ واضح رہے کہ ممبئی ہائی کورٹ نے ممبئی میٹروپولیٹن ریجن میں فضائی آلودگی سے پیدا ہونے والے مسائل کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے رہنما ہدایات جاری کی ہیں جبکہ ان پر عمل درآمد کی نگرانی کے لئے۲؍ رکنی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔ اجلاس میں ایڈیشنل کمشنر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ، سٹی انجینئر، ڈپٹی کمشنر ماحولیات، ڈپٹی کمشنر صحت، ڈپٹی انجینئر، اسسٹنٹ کمشنر اور وارڈ افسران سمیت متعلقہ افسران موجود تھے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK