لاکھوں روزگار خطرے میں، برآمدات سست، پاورلوم یونٹس بند، حکومت مہاراشٹر سے راحتی پیکیج کا مطالبہ۔
EPAPER
Updated: April 18, 2026, 11:55 AM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
لاکھوں روزگار خطرے میں، برآمدات سست، پاورلوم یونٹس بند، حکومت مہاراشٹر سے راحتی پیکیج کا مطالبہ۔
مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے اثرات نے ملک کی اہم ٹیکسٹائل صنعت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پاورلوم کا سب سے بڑا مرکز بھیونڈی اس بحران سے شدید متاثر ہوا ہے۔ برآمدات میں اچانک کمی، خام مال کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال کے باعث شہر کے سیکڑوں پاورلوم یونٹس جزوی یا مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں، جس سے لاکھوں مزدوروں کے روزگار پر خطرات کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔
صنعتی ذرائع کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بیرونی آرڈرز میں نمایاں کمی آئی ہے جبکہ ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک مسائل نے سپلائی چین کو متاثر کیا ہے۔ نتیجتاً کئی صنعتکاروں نے پیداوار گھٹانے یا عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے اثرات براہِ راست مزدور طبقے پر پڑ رہے ہیں۔ اس سنگین صورتحال پر مشرقی حلقہ کے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے حکومت مہاراشٹر کو مکتوب ارسال کرتے ہوئے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ انہوں نےکہا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کئے گئے تو ٹیکسٹائل صنعت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے اور بڑے پیمانے پر بے روزگاری جنم لے سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بائیکلہ ریلوے اسٹیشن کے قریب پارکنگ لاٹ بند کئے جانے سے مکین پریشان
وزیر اعلیٰ دیندر فرنویس اور ریاستی وزیر برائے صنعت ادئےساونت کو بھیجے اپنے مکتوب میں انہوں نے واضح کیا کہ بھیونڈی، مالیگاؤں اور ایچلکرنجی جیسے صنعتی مراکز اس بحران سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ صنعت کو سہارا دینے کیلئے فوری طور پر ایک جامع راحتی پیکیج کا اعلان کیا جائے، جس میں مالی امداد، بجلی بلوں میں رعایت اور دیگر سہولیات شامل ہوں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر حکومت نے فوری اور مؤثر اقدامات نہیں کئے تو نہ صرف ٹیکسٹائل صنعت بلکہ مقامی معیشت بھی شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔ ایسے میں ریاستی حکومت کے لئے یہ ایک بڑا امتحان بن چکا ہے کہ وہ کس حد تک تیزی سے اس صورتحال پر قابو پاتی ہے۔