جو بائیڈن کا بطور صدر پہلا غیر ملکی دورہ، جی ۷؍اجلاس کیلئے برطانیہ پہنچے

Updated: June 11, 2021, 7:40 AM IST | washington

۸؍ روزہ دورۂ یورپ میں صدر امریکہ یورپی اتحادیوں سے تعلقات مزید مضبوط کرنے کیلئے پرُعزم، چین اور روس کے تئیں بھی مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے کے اہداف پر گامزن

Wife of Jill Biden, Prime Minister of the United Kingdom Boris Johnson, President of the United States Joe Biden and Boris Johnson.Picture:PTI
جل بائیڈن، برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن ، ا مریکہ کے صدر جوبائیڈن اور بورس جانسن کی اہلیہ تصویرپی ٹی آئی

)امریکہ کے صدر جو بائیڈن بطور صدر اپنے پہلے۸؍ روزہ  دورۂ یورپ کے تحت  برطانیہ پہنچ گئے ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن سے ملاقات کی ۔بائیڈن اپنی اہلیہ کے ہمراہ برطانوی ملکہ الزبتھ سے بھی ملیں گے۔ اس کے بعد وہ برطانیہ کی میزبانی میں دنیا کی ۷؍ بڑی معاشی طاقتوں کے جی ۷؍ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ دورہ برطانیہ کے بعد  بائیڈن  امریکی یورپی سمٹ کیلئے برسلز روانہ ہو جائیں گے۔ذرائع کے مطابق برسلز میں  وہ نیٹو کے سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے اور یورپی یونین کے سربراہوں سے ملاقات بھی کریں گے۔
   برطانیہ میںجمعہ سے شروع ہونے والا  جی  اجلاس ۳؍روز تک جاری رہے گا جس میں امریکہ سمیت فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور کینیڈا کے لیڈر شرکت کریں گے۔آسٹریلیا،  ہندوستان، جنوبی کوریا اور جنوبی افریقہ کو بھی اجلاس میں بطور مہمان شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ 
 اجلاس ایجنڈے میں کورونا وبا سے متاثرہ عالمی معیشت کی بحالی، ماحولیاتی تبدیلی، ٹیکس اور روس و چین کی جانب سے ممکنہ چیلنجز شامل ہیں۔ س  دوران صدر بائیڈن اپنے یورپی اتحادیوں کو یہ یقین دلائیں گے کہ امریکہ ان کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کی انتظامیہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کیلئے پُر عزم  ہے اور انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی۔ قابلِ غور ہے کہ سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دور میں امریکہ کے اپنے یورپی اور دیگر اتحادیوں کے ساتھ تعلقات میں گرم جوشی میں کمی آئی تھی جب کہ بائیڈن امریکہ کو عالمی منظرنامے پر قائدانہ کردار کے طور پر سامنے لانے کی  متمنی   ہیں۔  امید کی جارہی ہےبائیڈن کا۸ یہ ؍ روزہ دورہ مذکورہ معاملات ان کی  مثبت کوششوں کی سمصحیح  سمت طے کرے گا۔
صدر امریکہ کےدورے کے  اہم اہداف
 صدر بائیڈن کے واضح اہداف میں چین کے بڑھتے ہوئے اقتصادی اور سفارتی اثر و رسوخ کے مقابلے کیلئے مغرب کو تیار کرنا، روس کو یورپی سرحدوں کے اندر مداخلت اور انٹرنیٹ پر ہیکنگ سے باز رکھنا اور جمہوریت کے فروغ کے ساتھ آمریت کا مقابلہ کرنا شامل ہیں۔صدر بائیڈن جنیوا میں یورپی  لیڈروں کے ساتھ بالمشافہ بات چیت میں صدر پوتن پر اشتعال انگیز کارروائیاں روکنے پر زور دیں گے، جن میں امریکی کاروباروں پر روس میں موجود ہیکرز کے سائبر حملے، حزبِ اختلاف کے لیڈر الیکسی نوالنی کی جیل اور کریملن کی جانب سے امریکی انتخابات میں مداخلت کی کوششیں شامل ہیں۔صدر بائیڈن اپنے یورپی اتحادیوں بشمول آسٹریلیا سے ہ گلوبل وارمنگ کے بڑھتے ہوئے خطرے کا زیادہ قوت سے مقابلہ کرنے اور دیگر مشترکہ امور کے سلسلے میں بھی گفتگو کریں گے۔
 یورپ روانگی  کیلئے ایئر فورس ون طیارے پر سوار ہونے سے قبل بائیڈن نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا دورہ چین اور روس کے رہنماؤں پر یہ واضح کرنے کیلئے ہے کہ امریکہ اور یورپ متحد ہیں۔
   بطور صدراپنے اس  پہلے غیر ملکی دورہپر روانہ ہونے سے قبل بائیڈن نے واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ عالمی بے یقینی کے اس لمحے میں جب کہ دنیا اس صدی میں رونما ہونے والی وبا کا مقابلہ کر رہی ہے۔ اس دورے کا مقصد اپنے اتحادیوں، شراکت داروں اور جمہوریتوں کو امریکہ کے اس عزم کا اعادہ کروانا ہے کہ ۔ امید ہے کہ ہم سب  مل کر سے اس نئے دور کے چیلنجز اور خطروںکا مقابلہ کریں گے۔ 
 ترکی کے صدر سے بھی  ملاقات ہوگی
 یورپی لیڈروں کے علاوہ صدر بائیڈن کی ترکی کے صدر رجب طیب ارد گان کے ساتھ بھی بالمشافہ ملاقات طے ہے۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوگی جب بعض امور پر دونوں ملکوں میں اختلافات پائے جاتے ہیں، جس میں خاص طور پر آرمینیا کے باشندوں کی خلافتِ عثمانیہ کے دور میںہلاکتیں شامل ہیں، جسے حال ہی میں امریکہ نے نسل کشی قرار دیا ہے۔اس کے علاوہ ترکی کی جانب سے نیٹو اتحادی ہونے کے باوجود جدید روسی ہتھیاروں کی خریداری بھی امریکہ سے اختلاف کا ایک سبب ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پو تن   سے بھی ملیں گے
 صدر بائیڈن اپنے  یورپی دورے کا اختتام روسی صدر ولادیمر پوتن  سے ملاقات کے ساتھ کریں گے۔ اس دوران امریکی اداروں اور کاروباروں پر روس کے اندر سے سائبر حملے، امریکی انتخابات میں روسی مداخلت کے الزامات، یورپ کی مشرقی سرحدوں پر روسی دباؤ اور روس کے اندر سیاسی مخالفین کو کچلنے کے امور زیر بحث آ سکتے ہیں۔توقع ہے کہ صدر بائیڈن اپنے روسی ہم منصب پر زور دیں گے کہ وہ عالمی سطح پر مختلف انداز کی مداخلتوں سے باز رہیں۔اس سلسلے میں روس کا کوئی بیان سامنے  نہیں آیا ہے۔

G 7 summit Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK