فوڈ انفلوئنسر اور صارفین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے ریونت ہیمت سنگھکا (Food Pharmer) کی جانب سے فرانس اور ہندوستان میں فروخت ہونے والے ’’فانٹا‘‘ کا موازنہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔
EPAPER
Updated: July 31, 2026, 5:59 PM IST | New Delhi
فوڈ انفلوئنسر اور صارفین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے ریونت ہیمت سنگھکا (Food Pharmer) کی جانب سے فرانس اور ہندوستان میں فروخت ہونے والے ’’فانٹا‘‘ کا موازنہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔
فوڈ انفلوئنسر اور صارفین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے ریونت ہیمت سنگھکا (Food Pharmer) کی جانب سے فرانس اور ہندوستان میں فروخت ہونے والے ’’فانٹا‘‘ کا موازنہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اس موازنے میں دونوں ممالک میں فروخت ہونے والے ایک ہی برانڈ کے مشروب کی ترکیب، چینی کی مقدار اور غذائی معیار میں نمایاں فرق سامنے آیا ہے۔
I compared Fanta sold in France with the one sold in India.
— Revant Himatsingka “Food Pharmer” (@foodpharmer2) July 30, 2026
French Fanta contains around 4 teaspoons of sugar.
Indian Fanta contains around 10 teaspoons of sugar.
French Fanta does not contain artificial colours.
Indian Fanta contains artificial colours.
French Fanta contains… pic.twitter.com/AGqwsIecBJ
ریونت ہیمت سنگھکا کے مطابق: فرانس میں فروخت ہونے والے فانٹا میں حقیقی سنگترے (Real Oranges) شامل ہیں جبکہ ہندوستان میں فروخت ہونے والے فانٹا میں حقیقی پھل کے بجائے صرف اورنج فلیورز استعمال کیے جاتے ہیں۔ فرانسیسی فانٹا میں تقریباً ۴؍چائے کے چمچ چینی ہوتی ہے جبکہ ہندوستانی فانٹا میں یہ مقدار تقریباً ۱۰؍ چائے کے چمچ تک پہنچ جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’لکی بھاسکر ۲‘‘ کی تیاری شروع، ذوالقر سلمان کی بلاک بسٹر فلم کا سیکوئل بنے گا
فرانس والے فانٹا میں مصنوعی رنگ (Artificial Colours) شامل نہیں جبکہ ہندوستان میں فروخت ہونے والے فانٹا میں مصنوعی رنگ استعمال کیے جاتے ہیں۔ فرانسیسی فانٹا میں تقریباً ۶۹؍ کیلوریز ہیں جبکہ ہندوستانی فانٹا میں تقریباً۱۶۸؍ کیلوریز موجود ہیں۔ ریونت نے سوال اٹھایا کہ اگر ایک ہی عالمی برانڈ مختلف ممالک میں نسبتاً صحت مند فارمولا استعمال کر سکتا ہے تو پھر ہندوستان میں صارفین کو وہی معیار کیوں فراہم نہیں کیا جاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ کم قیمت یا مقامی مارکیٹ کے حالات مختلف فارمولیشن کی وضاحت تو کر سکتے ہیں، لیکن کم معیار کا جواز نہیں بن سکتے۔
یہ بھی پڑھئے:فیفا کا نجی سرمایہ کاری منصوبے پر مشاورت جاری رکھنے کا اعلان، مخالفت برقرار
یہ موازنہ سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ عالمی کمپنیوں کو ہر ملک میں یکساں معیار کی مصنوعات فراہم کرنی چاہئیں جبکہ بعض ماہرین کے مطابق مختلف ممالک میں مقامی قوانین، غذائی ضوابط، صارفین کی پسند اور قیمتوں کے فرق کی وجہ سے مصنوعات کی ترکیب مختلف ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین کے لیے ضروری ہے کہ وہ پیکنگ پر درج غذائی معلومات (Nutrition Label) اور اجزاء (Ingredients) کا بغور جائزہ لیں تاکہ وہ اپنی صحت کے مطابق بہتر انتخاب کر سکیں۔