Inquilab Logo Happiest Places to Work

تلنگانہ: مودی سے متعلق قابلِ اعتراض پوسٹس، میٹا انڈیا ہیڈ کے خلاف ایف آئی آر

Updated: July 31, 2026, 6:29 PM IST | Hyderabad

سوشل میڈیا پر وزیرِ اعظم نریندر مودی سے متعلق مبینہ طور پر قابلِ اعتراض مواد کی اشاعت کے معاملے میں حیدرآباد پولیس نے ہندوستان میں میٹا کے سربراہ اور متعدد فیس بک و انسٹاگرام اکاؤنٹس کے خلاف مقدمات درج کئے ہیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

’دی انڈین ایکسپریس‘ کی رپورٹ کے مطابق حیدرآباد پولیس نے نوجوانوں کے احتجاج کے دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فیس بک اور انسٹاگرام پر وزیرِ اعظم نریندر مودی سے متعلق مبینہ طور پر قابلِ اعتراض ویڈیوز اور تصاویر شیئر کئے جانے کے معاملے میں ہندوستان میں ٹیکنالوجی کمپنی میٹا کے سربراہ، نیز فیس بک اور انسٹاگرام کے متعدد اکاؤنٹس کے خلاف مقدمات درج کئے ہیں۔ فرسٹ انفارمیشن رپورٹس (ایف آئی آر) بدھ کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے حامیوں کی شکایات پر درج کی گئیں۔ کانگریس کے زیرِ اقتدار ریاست تلنگانہ کی پولیس نے اس معاملے میں بھارتیہ نیایا سنہتا (BNS) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت کارروائی شروع کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بھوج شالا۔ کمال مولیٰ تنازع: سپریم کورٹ نے ہر جمعہ نماز ادا کرنے کی اجازت دی

شکایت کنندگان میں شامل تلنگانہ بی جے پی کی سوشل میڈیا کور کمیٹی کے رکن ٹی سائی کرن گوڑ نے الزام لگایا کہ تقریباً ۲۰؍فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس نے وزیرِ اعظم کے بارے میں ترمیم شدہ (مورفڈ) مواد شائع کیا۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق، انہوں نے اپنی شکایت میں کہا کہ ’تلنگانہ بی جے پی کی جانب سے ہم بعض انسٹاگرام اکاؤنٹس کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں جو وزیرِ اعظم کے خلاف توہین آمیز مواد شائع اور پھیلا رہے ہیں۔ یہ مواد ملک کی خودمختاری، سالمیت اور عوامی نظم و نسق کیلئے نقصان دہ بیانیے کو فروغ دیتا دکھائی دیتا ہے۔ ‘‘گوڑ نے اس مواد کی میزبانی کرنے پر میٹا کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ میٹا، فیس بک اور انسٹاگرام کی بنیادی (پیرنٹ) کمپنی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’آپ کی جِلد ملک کے مستقبل سے زیادہ روشن ہے‘: دِپکے کا مودی کے ویڈیو پر نیا طنز

ایک اور بی جے پی حامی نے الزام لگایا کہ متعدد انسٹاگرام اکاؤنٹس نے وزیرِ اعظم سے متعلق’فحش‘ ویڈیوز اور تصاویر شیئر کیں۔ دی انڈین ایکسپریس کے مطابق، شکایت میں کہا گیا کہ ’’مجھے وزیرِ اعظم، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور سابق مرکزی وزیر دھرمیندر پردھان کی ڈجیٹل طور پر تبدیل شدہ اور گمراہ کن ویڈیوز اور تصاویر ملیں، جو فحش اور توہین آمیز نوعیت کی تھیں۔ ایسا مواد عوام کو گمراہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ‘‘ٹائمز آف انڈیا کے مطابق، شکایات میں درج تمام لنکس جمعرات تک غیر فعال ہو چکے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: سابق بس ڈرائیور کے پاس سے ۲۸؍ کروڑ نقد برآمد

یہ مواد اس وقت آن لائن شیئر کیا گیا جب کاکروچ جنتا پارٹی کی سیاسی مہم کے تحت نوجوانوں نے اُس وقت کے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ مظاہرین کا الزام تھا کہ مسابقتی امتحانات کے انعقاد میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔ ۲۰؍ جولائی کو دہلی میں ہزاروں افراد نے احتجاج میں شرکت کی۔ یہ احتجاج اس واقعے کے دو دن بعد ہوا جب پولیس نے تین ہفتوں سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے سماجی کارکن سونم وانگچک کو زبردستی اسپتال منتقل کیا تھا۔ پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا، آنسو گیس کے گولے داغے اور پیلٹ گن کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ پولیس کارروائی کے بعد احتجاجی تحریک نے مزید شدت اختیار کر لی اور ملک کے دیگر حصوں تک پھیل گئی۔

یہ بھی پڑھئے: تمل ناڈو: مڈ ڈے میل میں چکن بریانی پیش کرنے پر غور

دہلی پولیس کی’ ایکس‘ کے خلاف ایف آئی آر
حیدرآباد میں مقدمہ درج ہونے سے دو روز قبل دہلی پولیس نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے خلاف وزیرِ اعظم مودی سے متعلق مبینہ طور پر قابلِ اعتراض اور ہتک آمیز مواد کی اشاعت پر مقدمہ درج کیا تھا۔ ایف آئی آر اسپیشل سیل کے انٹیلی جنس فیوژن اینڈ اسٹریٹجک آپریشنز یونٹ میں درج کی گئی، جس میں مجرمانہ دھمکی، عوام میں شرانگیزی اور ہتکِ عزت سے متعلق دفعات شامل کی گئیں۔ دہلی پولیس نے ایکس کو خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ ’آئینی عہدوں پر فائز شخصیات‘ کے خلاف موجود’توہین آمیز، بدنیتی پر مبنی اور ہتک آمیز مواد‘ کو فوری طور پر پلیٹ فارم سے ہٹایا جائے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’بی جے پی میں شامل ہو جاؤ ورنہ اڑا دیں گے‘‘

پولیس نے یہ بھی کہا کہ جس اکاؤنٹ سے یہ مواد پوسٹ کیا گیا، اس کے مالک کا نام، پتہ، رابطہ نمبر، ای میل آئی ڈی، لاگ اِن اور لاگ آؤٹ کی تفصیلات، تاریخ اور وقت کے ریکارڈ فراہم کئے جائیں۔ اس کے علاوہ، پلیٹ فارم کو ہدایت دی گئی کہ متعلقہ پوسٹس اور ویڈیوز کا ریکارڈ آئندہ تحقیقات کیلئے محفوظ رکھا جائے اور بھارتیہ ساکشیہ ادھینیم کی دفعہ ۶۳(۴) کے تحت مطلوبہ سرٹیفکیٹ بھی فراہم کیا جائے۔ اس دفعہ کے مطابق عدالت میں بطور ثبوت پیش کئے جانے والے کسی بھی الیکٹرانک ریکارڈ کے ساتھ تصدیقی سرٹیفکیٹ منسلک ہونا ضروری ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK