• Sat, 17 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بہار: تین طلاق مخالف قانون کے تحت پہلی سزا، ملزم کو دو سال قید

Updated: October 17, 2026, 4:31 PM IST | Patna

پٹنہ کی ایک عدالت نے بہٹا کے رہائشی نوشاد احمد کو اپنی بیوی کو مبینہ طور پر تین طلاق دینے کے معاملے میں دو سال کی سخت قید اور ۶۵۰۰؍ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ تاہم، عدالت نے بیوی پر تیزاب پھینکنے کی کوشش کے مقدمے میں اسے بری کر دیا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

بہار میں تین طلاق مخالف قانون کے تحت سزا سنائے جانے کا پہلا معاملہ سامنے آیا ہے۔ پٹنہ کی ایک عدالت نے جمعرات کو بہٹا کے رہنے والے ایک شخص کو دو سال کی سخت قید کی سزا سنائی اور جرمانہ بھی عائد کیا۔ تاہم، عدالت نے بیوی پر تیزاب پھینکنے کی کوشش سے متعلق مقدمے میں اسے بری کر دیا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج-۲۴ راجیو رنجن سہائے کی عدالت نے بہٹا تھانہ کے تحت آنے والے گاؤں سمری کے رہائشی نوشاد احمد کو مسلم خواتین (شادی کے حقوق کے تحفظ) ایکٹ، ۲۰۱۹ء کی دفعہ ۴؍ کے ساتھ ساتھ تعزیراتِ ہند (آئی پی سی) کی دفعات ۳۲۳؍ (جان بوجھ کر چوٹ پہنچانا) اور ۳۴۱؍ (غلط طور پر روکنا) کے تحت مجرم قرار دیا۔

یہ بھی پڑھئے: ایل نینو کے اثرات، کمزور مانسون اور عالمی حدت سے ہندوستان میں شکر مہنگی

عدالت نے نوشاد احمد کو دو سال کی سخت قید کی سزا سنائی اور شکایت کنندہ کو ۶۵۰۰؍ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں اسے مزید ایک ماہ اور ۲۲؍ دن قید بھگتنی ہوگی۔ شکایت کنندہ رضیہ سلطان عرف گڑیا کی شادی نوشاد احمد سے ۹؍ نومبر ۲۰۰۱ء کو ہوئی تھی اور اس جوڑے کے تین بچے ہیں۔ پھلواری شریف پولیس اسٹیشن میں درج شکایت کے مطابق، ملزم نے ۲۰۲۲ء میں اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ مارپیٹ کی تھی۔ الزام ہے کہ ایک موقع پر اس نے اپنی بیوی پر تیزاب پھینکنے کی بھی کوشش کی۔ مزید یہ کہ ۵؍ ستمبر ۲۰۲۲ء کو نوشاد نے مبینہ طور پر اپنی بیوی کو ایک ہی وقت میں تین طلاق دے دی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: اےآئی محققین تمباکو نوشی کررہے ہیں، انہیں یقین ہےکہ اےآئی کینسر کا علاج ڈھونڈ لےگا: پلانٹیر سی ٹی او

پولیس کی تفتیش کے بعد ۳۱؍ جولائی ۲۰۲۳ء کو چارج شیٹ داخل کی گئی۔ استغاثہ کے گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کے بعد عدالت نے ملزم کو مجرم قرار دیا۔ دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق نوشاد احمد کے وکیل شیکھر کمار نے ’دی انڈین ایکسپریس‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’میرے مؤکل نوشاد کے خلاف مبینہ تیزاب حملے کے معاملے میں کوئی ثبوت نہیں تھا، اس کے باوجود اسے تین طلاق مخالف قانون کے تحت سزا سنائی گئی ہے۔ ہم عدالتی حکم کا قانونی جائزہ لینے کے بعد ہائی کورٹ میں اس فیصلے کو چیلنج کریں گے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK