• Sat, 13 December, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بہار:کیا ’تیر‘ ہی ’لالٹین‘ ہے اور’ لالٹین‘ ہی ’تیر ‘ہے؟

Updated: November 08, 2025, 12:14 PM IST | Patna

بی جے پی کے اپنے اتحادیوں کے تئیں رویے کی وجہ سےنتیش کمار کی پارٹی جے ڈی یو کا وفادار ووٹر بی جے پی کو ووٹ دینے کے بجائے آر جے ڈی کو ترجیح دے رہا ہے، یہ رجحان ان سیٹوں پر نظر آرہا ہے جہاں آر جے ڈی کا براہ راست مقابلہ بی جے پی یا ایل جے پی سے ہے ،پہلے مرحلے میں عوام کے درمیان یہ نعرہ کافی مقبول ہوا

The long queues of voters at polling booths in the first phase had surprised all parties and analysts. (PTI)
پہلے مرحلے میںپولنگ بوتھوں پر ووٹرس کی طویل قطاروںنےتمام پارٹیوں اور تجزیہ نگاروں کو حیرت میں مبتلا کردیا تھا ۔(پی ٹی آئی )

بہار میں اسمبلی انتخابات کی گہما گہمی کے دوران سیاسی فضا میں ایک نعرہ غیر معمولی طور پر موضوعِ گفتگو بن گیا ہے  ’’تیر ہی لالٹین ہے اور لالٹین ہی تیر ہے۔‘‘ یہ نعرہ ریاست کی سیاست میں اتحادی صف بندی اور نظریاتی قربت کے بدلتے منظرنامے کی طرف اشارہ سمجھا جا رہا ہے، ساتھ ہی یہ بھی واضح کررہا ہے کہ  بی جے پی کو کس طرح سے سائیڈ لائن کیا جارہا ہے۔ راشٹریہ جنتا دل(آر جے ڈی) اور جنتا دل یونائیٹڈ(جے ڈی یو) کی برسوں کی سیاسی کشمکش کے باوجود زمینی طور پر اس کے ووٹرس میں کہیں نہ کہیں اتحاد نظر آرہا ہے۔اگرچہ دونوں جماعتیں باضابطہ طور پر اپنی انتخابی مہم الگ الگ علامتوں  لالٹین (آر جے ڈی) اور تیر (جےڈی یو) کے ساتھ چلا رہی ہیںلیکن ریاست کی عام سیاسی گفتگو، گلی محلوں کی بحث اور سوشل میڈیا پر یہ جملہ سیاسی اتحاد، عملی مفاہمت اور مشترکہ مفادات  کی علامت کے طور پر تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ نتیش کمار کو بی جےپی کے ذریعے وزیراعلیٰ کے عہدہ کا امیدوار نہیںبنانےکے سبب جے ڈی یو کارکنوں کی  شدیدناراضگی کی جو باتیں چل رہی تھیں، اسے پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے بعد کافی تقویت ملی ہے۔ اس کی وجہ چائے خانوں اور چوک چوراہوں کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر ’’لالٹین ہی تیر اور تیر ہی لالٹین ہے‘‘کا شگوفہ ہے۔ شگوفہ اس لیے کہ یہ بات کہا ں سے نکلی اور کن بنیادوں پر کہی جارہی ہے، اس کا کوئی ٹھوس ثبوت  نہیں ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ جے ڈی یو لیڈروں کے ساتھ ہی میڈیا والے بھی ہاں اور ناں  میںبات کررہے ہیں۔ ایک معروف صحافی نے نام نہ ظاہر کرنے کی بنیاد پر بتایا کہ اس بحث کی فی الحال کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہےکیونکہ بہت سے لوگ اپنی خواہش کے مطابق بات کرتے ہیں۔ جو مہاگٹھ بندھن کی سرکار بنانا چاہتے ہیں انہیں لگتا ہے کہ نتیش کمار ابھی سے بی جےپی کا ساتھ چھوڑنے کی تیاری کررہے ہیں۔ ایک اور معروف صحافی نے کہا کہ ایسی باتوں کا اس وقت تک کوئی مطلب نہیں ہے جب تک زمینی سطح سے اعدادوشمار حاصل نہ ہوجائیں ۔ انہوں نے اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر اس طرح کی باتیں ہورہی ہیں تو اس کی وجہ امیت شاہ کا بیان اور چراغ پاسوان کے ذریعے ۲۰۲۰ء کے اسمبلی انتخابات میں نتیش کمار کو پہنچایا گیا نقصان ہے۔
 اس دوران مظفرپور، دربھنگہ، ویشالی اور سمستی پور اضلاع کا دورہ کرکے واپس پٹنہ لوٹ رہے دو صاحبان نے بتایا کہ وہ دربھنگہ میں زیادہ رہے اور وہاں کئی لوگوں نے لالٹین ہی تیر اور تیرہی لالٹین والی بات بتائی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیوان کے ایک صاحب سے گفتگو کے دوران بھی اس کا احساس ہوا کہ چچا بھتیجے کے درمیان رابطہ قائم ہے۔ اس سلسلے میں معروف تجزیہ کار منی کانت ٹھاکر نے کہا کہ یہ سب مہاگٹھ بندھن والوں کی طرف سے پروپیگنڈہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ نتیش کمار این ڈی اے کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اور اس کے بعد جب وہ مہاگٹھ بندھن کی طرف جائیں گے تو ادھر ان کو  وزیراعلیٰ بنا دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس بار تیجسوی یادو وزیراعلیٰ نہیں بنیں گے تو لالو یادو سخت ذہنی اذیت کا شکا رہو جائیں گے۔
 اس بارے میں جے ڈی یو کے تین لیڈروں سے گفتگو ہوئی ۔ ان میں سے ایک نے کہاکہ ’بات میں دم ہے۔‘ دوسرے نے کہا کہ  ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔ تیسرے نے بتایا کہ اس کی ضرورت نہیں پڑی کیونکہ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا بی جےپی کے رویے میں تبدیلی آتی گئی۔

فروری میں وزیراعظم نے لاڈلا وزیراعلیٰ کہا تھا۔ اس کے بعد امت شاہ نے اپنا بیان دے دیا۔ اس کا جو اثر ہونا تھا، وہ ہوا۔ اس کے بعد بی جے پی لیڈروں کے بیانات بدلنے لگے۔ اب این ڈی اے نے مان لیا ہے کہ نتیش کمار ہی وزیراعلیٰ ہوں گے۔ وزیراعلیٰ نتیش کمار کے قریبی جے ڈی یو لیڈر نے کہا کہ ایک وقت ایسا ضرور تھا جب کوئری اور کرمی بی جےپی اور چراغ پاسوان سےناراض تھےلیکن ان کی ناراضگی دورکی گئی ہے۔ نتیش کمار نے چھٹھ کے دن چراغ پاسوان کے یہاں جا کر ایک میسج دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئری اور کرمی اس فکر میں لگ گئے ہیں کہ پہلے اپنی حکومت بناؤ، پھر دیکھاجائے گا۔ 
دریں اثناءسیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق، یہ نعرہ بنیادی طور پر جے ڈی یو اور انڈیا اتحاد کی ممکنہ بعد از انتخابات صف بندی کا  استعارہ بھی ہے۔ حالانکہ یہ بہت دور کا امکان ہے لیکن اصل وجہ جو یہ نعرہ چل رہا ہے وہ یہ ہے کہ  بی جے پی نے اس انتخاب میں اپنے اتحادیوں خاص طور پر نتیش کمار کے تئیں جس طرح کا رویہ رکھا ہے ، جس طرح سے انہیں وزارت اعلیٰ کا امیدوار نہیں بنایا ہے اور مہاراشٹر کی طرز پر انتخابی مہم چلارہی ہے ، اس کی وجہ سے نتیش کمار کی سیاسی زمین ڈول رہی ہے  جبکہ ان کے کٹر حامی اور ووٹرس  بی جے پی کو اپناووٹ ٹرانسفر کرنے سےکترارہے ہیں۔یہ  صورت حال ان سیٹوں پر سب سے زیادہ دیکھی جارہی ہے جہاں  لالو کی پارٹی آر جےڈی کا براہ راست مقابلہ بی جے پی یا ایل جے پی  سے ہے۔ ان سیٹوں پر جے ڈی یو کا ووٹ بی جے پی یا ایل جے پی کو نہیں بلکہ آر جے ڈی کو منتقل ہونے کی اطلاعات ہیں۔انتخابی میدان میں یہ تبدیلی اس لئے بھی قابلِ توجہ ہے کہ پچھلے کئی برسوں سے جنتا دل (یونائیٹڈ)، بی جے پی  کے ساتھ اتحاد میں حکومت چلا رہی ہے۔ مگر انتخابی مہم کے دوران پردے کے پیچھے سے یہ بحث شدت اختیار کرتی رہی کہ بی جے پی اور ایل جے پی کی حکمت عملی نے جے ڈی(یو) کی سیاسی حیثیت اور قیادت کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی۔ واضح رہے کہ یہ نعرہ محض انتخابی جوش کا حصہ نہیں ہے بلکہ زمینی  اورسیاسی حقیقت کا عکاس ہے۔ خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں جے ڈی یو کے ووٹر اپنی ناراضگی بی جے پی کے خلاف ظاہر کر رہے ہیں اور بطور ردعمل مہاگٹھ بندھن کے امیدوار کو ترجیح دے رہے ہیں۔ جے ڈی یو کے ووٹرس کو اس بات کا یقین ہو گیا ہے کہ نتائج کے بعد   اگر این ڈی اے کو اکثریت ملتی ہے تو بی جے پی حکومت پر پوری طرح سے قبضہ کرلے گی اور جے ڈی یو کو کنارے لگادیا جائے گا یا پھر پارٹی ہی ختم کردی جائے گی۔ اسی لئے وہ بی جے پی کو اپنا ووٹ نہیں دینا چاہتے ہیں۔ بی جےپی نے چراغ پاسوان کو جس طرح سے نتیش کے پَر کترنے کے لئے استعمال کیا ہے وہ بھی جے ڈی یو کے ووٹرس کی نظر میں ہے۔ جے ڈی یو کے ووٹرمنظم، وفادار اور بلاک سطح پر مضبوط ہیں۔ یہ ٹرن آؤٹ اور نتیجہ دونوں کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔  اسی وجہ سے جہاں بی جے پی یا ایل جے پی کے امیدوار ہیںوہاں جے ڈی یو کے پرانے اور وفادار ووٹرس آر جے ڈی کی طرف جھکتے  نظر آرہے ہیں۔
bihar patna Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK