اپوزیشن پارٹیوں کی شدید مخالفت اور بل کو سلیکٹ کمیٹی میں بھیجنے کے مطالبہ کو مسترد کرتے ہوئے فرنویس حکومت نے اس متنازع قانون کو منظور کروالیا
EPAPER
Updated: March 18, 2026, 9:56 AM IST | Mumbai
اپوزیشن پارٹیوں کی شدید مخالفت اور بل کو سلیکٹ کمیٹی میں بھیجنے کے مطالبہ کو مسترد کرتے ہوئے فرنویس حکومت نے اس متنازع قانون کو منظور کروالیا
بجٹ اجلاس میں پیر کو دیر رات جبراً تبدیلی مذہب کی روک تھام کیلئے تشکیل دیا گیا ’مہاراشٹر فریڈم آف رلیجن ایکٹ ۲۰۲۶‘ بل منظور کر لیاگیا۔ اس سے قبل اس بل پر اسمبلی میں رات دیر گئے تک بحث ہوئی ۔ وہاں سے منظوری کے بعد اسےمنگل کوقانون ساز کونسل میں پیش کیا گیا جس پر دن بھر بحث ہوئی اور یہاں بھی مہایوتی حکومت نے اپنی غیر معمولی اکثریت کی بنیاد پر بل منظور کرا لیا ۔ شیو سینا (ادھو) نے اس بل کی حمایت کی جبکہ کانگریس، این سی پی (ایس پی)، سماج وادی پارٹی اور سی پی آئی (ایم) نے اس متنازع بل کی شدید مخالفت کی اور مطالبہ کیا کہ اسے جائزے کیلئے دونوں ایوانوں کی مشترکہ سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجا جائے۔چونکہ یہ بل عوام کے بڑے طبقے کو متاثر کرے گا اس لئے عوام سے تجاویز/اعتراضات بھی طلب کئے جائیں لیکن مہایوتی حکومت نے اپوزیشن کے تمام مطالبات کو اپنی طاقت اور اکثریت کے زعم میں قابل اعتناء نہیں سمجھا اور انہیں مسترد کرتے ہوئے ایوان میں اکثریت کی بنا پر بل کو منظور کروالیا۔
اس سے قبل وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے ایک مرتبہ پھر اپنا وہی بیان دہرایا کہ یہ بل کسی مذہب کے خلاف نہیں ہے اور نہ ہی بل میں کسی مذہب کا نام لیا گیا ہے بلکہ یہ بل سبھی کی مذہبی آزادی کے تحفظ کیلئے ہے۔ اسمبلی کے باہرشیو سینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ مذہب کی آزادی ہر ایک کے لئے ہونی چاہیے اور اگر کوئی طاقت کے ذریعے یا کسی کی بے بسی کا فائدہ اٹھا کر اور انہیں جھوٹا لالچ دے کر مذہب تبدیل کر رہا ہے تو ان کی پارٹی اس کیخلاف ہے