Updated: March 18, 2026, 10:17 AM IST
|
Agency
| Mumbai
ہندوستان کی اسکواش کھلاڑی اناہت سنگھ نے پہلی بار اس کھیل کو اولمپک میں شامل کئے جانے پر خوشی کا اظہار کیا اور بہتر کارکردگی کا عزم کیا۔
ہندوستانی اسکواش کھلاڑی اناہت سنگھ(دائیں)اوررمیت ٹنڈن پریس کانفرنس میں۔ تصویر:آئی این این
ہندوستان کی ٹاپ سیڈ اسکواش کھلاڑی اناہت سنگھ نے امید ظاہر کی ہے کہ اگلے ۲؍ برسوں میں دنیا کے تمام اسکواش کھلاڑیوں کی توجہ کا مرکز لاس اینجلس اولمپکس ۲۰۲۸ءہوگا۔واضح رہے کہ اولمپک میں پہلی بار اسکواش کو شامل کیا گیا ہےمنگل کے روز جے ایس ڈبلیو انڈین اوپن کی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اناہت سنگھ نے کہا’’اولمپکس میں میڈل جیتنا ہر کھلاڑی کا دیرینہ خواب ہوتا ہے۔ یہ بہت ہی پُرجوش لمحہ ہے کہ ہمارا کھیل پہلی بار اولمپکس کا حصہ بن رہا ہے اور ہم سب اس کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے قبل کھلاڑی صرف دولت مشترکہ (کامن ویلتھ) کھیلوں تک محدود تھےلیکن اب اولمپک میڈل کا ہدف ان کی طویل مدتی ٹریننگ کا حصہ بن چکا ہے۔اب دنیا بھر کے اسکواش کھلاڑی اولمپک کھیلوں میں تمغہ جیتنے کیلئے مزید محنت کریںگے۔
ہندوستان کے دوسرے ٹاپ رینکنگ مرد کھلاڑی رمیت ٹنڈن نے اس موقع پر کہا کہ اسکواش کو اولمپکس میں شامل کئے جانے سے کارپوریٹ دنیا کی توجہ بھی اس کھیل کی طرف مبذول ہوئی ہے۔ انہوں نے جے ایس ڈبلیو جیسے اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اولمپک کا درجہ ملنے کے بعد پورے اسکواش سسٹم میں مثبت تبدیلی آئی ہے۔
رمیت ٹنڈن نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا’’ورلڈ چمپئنشپ قاہرہ (مصر) میں ہونی ہے جو کہ اس تنازع سے متاثرہ علاقہ ہے۔ ہمیں پی ایس اےکی جانب سے ای میلز موصول ہو رہی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ وہ صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور ضرورت پڑنے پر ٹورنامنٹ کی تاریخوں میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔‘‘
اناہت سنگھ نے اپنی گفتگو کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ وہ فی الحال ایک وقت میں ایک ٹورنامنٹ پر توجہ دے رہی ہیں اور ۲۰۲۳ءمیں ۲؍ کانسے کے تمغے جیتنے کے بعد اب ان کا ہدف ایشیائی کھیلوں میں اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنانا ہے۔انہوںنے کہا ’’ایشیائی کھیلوں سے قبل کئی ٹورنامنٹ ہونے ہیں۔میں اپنی توجہ ایک بار میں ایک ٹورنامنٹ پر مرکوز کرتی ہوں-اس بار اشیائی کھیلوں میں تمغے کا رنگ بدلتے ہوئے اسے گولڈ یا سلور کرنا چاہتی ہوں۔‘‘