مظاہرین کیلئے لنگر کا انتظام کرنے والے بندرا کا نام دہلی فساد کی چارج شیٹ میں

Updated: June 20, 2020, 4:11 AM IST | New Delhi

چاند باغ میں  ہونےوالے تشدد اور پولیس کانسٹیبل رتن لال کے قتل کے کیس میں   داخل کی گئی چارج شیٹ میں اپنے نام پر بندرا نے حیرت کااظہار کیا، چبھتا ہوا سوال کیا کہ میں نے کیا غلط کیا ہے؟ کیا لنگر کھلانا بھی جرم ہے؟

DS Bindra File photo. Photo: INN
ڈی ایس بندرا۔ فائل فوٹو۔ تصویر: آئی این این

 شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف مظاہروں کے دوران مظاہرین کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے رہنے والے ڈی ایس بندرا کا نام بھی دہلی پولیس نے فساد کی ایک چارج شیٹ میں  شامل کرلیا ہے۔ یاد رہے کہ ڈی ایس بندرا وہی ہیں  جنہوں  نے شاہین باغ کے مظاہرے میں  مظاہرین کیلئے لنگر کا انتظام کیاتھا اور اس کیلئے بجٹ کم پڑنے پر اپنا فلیٹ تک بیچ دیاتھا۔ دہلی فساد میں  کسی بھی طرح ملوث ہونے سے انکار کرتےہوئے ڈی ایس بندرا نے دی کوئنٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’میں  نے جو کیا وہ بس یہ ہے کہ لنگر کابندوبست کیاتھا جس کی تعلیم ہمیں  ہمارے گروؤں  نے دی ہے۔ میری سمجھ میں   نہیں   آرہا کہ اس کی وجہ سے مجھے کیوں  نشانہ بنایا جارہا ہے۔‘‘ ڈی ایس بندرا دہلی میں  رہتے ہیں اور پیشے سے وکیل ہیں ۔ ان کا نام دہلی فساد کے دوران  چاند باغ میں   ہونے والے تشدد اور پولیس کانسٹیبل رتن لال کے قتل کی چارج شیٹ میں  ہے۔ دی کوئنٹ کی جانچ کے مطابق انہیں  اس کیس کے ۱۷؍ ملزمین کی فہرست میں شامل نہیں  کیاگیا ہےتاہم یہ کہا گیا ہے کہ فساد میں  بندرا بھی شامل تھے۔ چاند باغ میں  ہونے والے فساد کی چارج شیٹ میں   پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ’’ یہاں  پر فساد ڈی ایس بندرا، سلمان صدیقی، سلیم خان، سلیم منّا، شاداب،ا طہر اور دیگر مقامی فسادیوں  کی کارستانی کا نتیجہ ہے۔‘‘ پولیس نے بندرا کے خلاف اپنے الزام کی بنیاد چند گواہیوں  کو بنایا ہے۔ 
  اولین گواہ کانسٹیبل سنیل اور گیان سنگھ ہیں  جو چارج شیٹ کے مطابق اس علاقے کے بیٹ افسر تھے۔چارج شیٹ میں کہاگیا ہے کہ ’’وہ دونوں  بیٹ آفیسر ہیں  اور پابندی سے مظاہرہ گاہ کا دورہ کرتے تھے۔ان کے مطابق سلیم خان، سلیم منّا، ڈی ایس بندرا، سلیمان صدیقی، ایوب ،ا طہر ، شاداب، اُپاسنا، رویش اور دیگر اس مظاہرہ گاہ کے منتظمین میں شامل تھے۔ ‘‘چارج شیٹ میں بندرا کے خلاف نجم الحسن، توقیر اور سلمان عرف گڈو نامی افراد کے ایک جیسے بیانات کو بھی شامل کیاگیا ہے۔ نجم الحسن کے بیان کے مطابق’’بندرا نےمقامی لوگوں سے سی اے اے کے خلاف مظاہرہ شروع کرنےکی اپیل کی اور کہا کہ میں  لنگر اور میڈیکل کیمپ کا انتظام کروں گا۔ پورا سکھ سماج آپ کے ساتھ ہے۔ اگرآپ آج باہر نہیں  نکلے تو آپ کا حشر بھی وہی ہوگا جو ۱۹۸۴ء میں سکھوں کا ہوا تھا۔‘‘ توقیر اور سلمان کے بیانات بھی کم وبیش اسی طرح کے ہیں ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ چارج شیٹ میں  کہیں  بھی بندرا پر کسی تشدد میں  ملوث ہونے یا اس کیلئے کسی کو اکسانے کا الزام نہیں  ہے۔ چارج شیٹ میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف مظاہرہ کرنا ہی دہلی فساد کی سازش کا حصہ ہے۔
  دوسری طرف ڈی ایس بندرا فساد میں  ملوث ہونے کے کسی بھی الزام کی تردید کرتےہوئے کہتےہیں کہ ’’میں   نے لنگر کا انتظام کیاتھا۔ یہ میرے سکھ عقیدے کا حصہ ہے۔ لنگر میں  ہرمذہب کے لوگوں نےکسی امتیاز کے بغیر کھانا کھایا ، چاہے وہ مقامی مسلمان رہےہوں  یا وہ سکھ جو پنجاب سے آکر مظاہرہ میں  شریک ہوئے تھے۔‘‘ انہوں  نے مزید کہا کہ ’’ہم نے سکھ مسلمان بھائی چارے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثال پیش کی ہے۔ میرا واحد مقصد پیار اور بھائی چارے کا فروغ تھا۔اس کی پذیرائی کرنے کے بجائے ہمیں  بدنام کیا جارہاہے۔‘‘ انہوں  نے کہا کہ بہت سے مسلمان کہتے ہیں  کہ ہم آپ کیلئے دعا کررہے ہیں مگر وہ بے چارے خود ہی پریشانی میں  ہیں ۔ پتہ نہیں  آگے کیا ہوگا۔ میں  بس یہ کہہ سکتاہوں کہ میں  نے جو کچھ بھی کیا وہ انسانیت کیلئے کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK