لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے مودی حکومت کے پارلیمانی طریقہ کار پر سخت اعتراضات قائم کئے۔ قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے امیت شاہ نے راہل گاندھی اوراپوزیشن پر الزام تراشی کی
EPAPER
Updated: March 11, 2026, 11:47 PM IST | New Delhi
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے مودی حکومت کے پارلیمانی طریقہ کار پر سخت اعتراضات قائم کئے۔ قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے امیت شاہ نے راہل گاندھی اوراپوزیشن پر الزام تراشی کی
لوک سبھا میں اپوزیشن کے ذریعہ اسپیکراوم برلا کو ہٹانے کیلئے پیش کی گئی قرارداد ناکام ہوگئی ہے۔ایوان میں بدھ زبردست نعرے بازی اور احتجاج کے درمیان اس قرارداد کو صوتی ووٹ سے مسترد کیا گیا۔ووٹنگ کے بعد، کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی کر دی گئی۔یہ تحریک حزب اختلاف کی پارٹیوں کی طرف سے لائی گئی تھی، جس میں اسپیکر پر ایوان کے غیر جانبدارانہ کام کاج کو یقینی بنانے میں ناکام ہونے کا الزام لگایا گیا تھا، اس الزام کو حکومت نے گرما گرم بحث کے دوران سختی سے مسترد کر دیا۔
وزیر اعظم کمپرومائزڈ ہیں: راہل گاندھی
اس سے قبل لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم کمپرومائزڈ ہیں اور اسکے نتائج پورا ملک دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے شکایت کی کہ اپوزیشن کو ایوان میں بار بار بولنے سے روکا جا رہا ہے۔ راہل نے ایوان کی کارروائی کے دوران حکومت اور پارلیمانی طریقہ کار پر سخت اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو اپنی بات رکھنے کا مناسب موقع نہیں دیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی وہ اہم سوالات اٹھاتے ہیں تو انہیں بولنے سے روک دیا جاتا ہے۔ راہل گاندھی نے اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایوان ہندوستان کے عوام کی نمائندگی کرتا ہے اور یہ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پورے ملک کا ادارہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعدد مواقع پر ان کا نام لیا جاتا ہے اور ان کے بارے میں باتیں کی جاتی ہیں مگر جب وہ اپنی وضاحت یا موقف پیش کرنے کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو انہیں روک دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب ہندوستان کی پارلیمانی تاریخ میں قائد حزب اختلاف کو بولنے سے روکا گیا۔
راہل گاندھی نے اپنی تقریر میں کہا کہ گزشتہ مرتبہ جب انہوں نے ایوان میں خطاب کیا تھا تو انہوں نے وزیر اعظم سے متعلق بعض بنیادی سوالات اٹھائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان سوالات میں وزیر اعظم کے کمپرومائزڈ ہو جانے حساس معاملات میں سمجھوتہ چکے)، جنرل منوج مکند نروا نے سے متعلق امور، جیفری ایپسٹین سے جڑے مباحث اور اڈانی گروپ کا معاملہ شامل تھا۔ انکے مطابق ان حساس موضوعات کو اٹھانے کے بعد انہیں خاموش کرانے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام مسائل ہندوستان کے عوام کے لیے انتہائی اہم ہیں اور پارلیمنٹ میں ان پر کھل کر گفتگو ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوری نظام کی بنیاد ہی یہ ہے کہ ایوان میں مختلف نظریات اور آوازوں کو اظہار کا پورا موقع دیا جائے۔
راہل گاندھی اور روی شنکر پرساد میں بحث
لوک سبھا میں بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ روی شنکر پرساد اوررا ہل گاندھی کے درمیان گرما گرم بات چیت کاتبادلہ بھی ہوا۔اوم برلا کو ہٹانے کی اپوزیشن کی قرارداد پر بحث کے دوران بی جے پی لیڈر روی شنکر پرساد نے راہل گاندھی پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم اور قومی سلامتی سے متعلق معاملات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوںنے کہا کہ یہ تکلیف دہ ہے کہ ایوان اس طرح کے معاملے پر بحث کر رہا ہے اور دعویٰ کیا کہ یہ اقدام’ایک لیڈر کی انا‘ کی عکاسی کرتا ہے۔ پارلیمانی عمل اور طریقۂ کار کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے قائد حزب اختلاف پر زور دیا کہ وہ اپنے الفاظ کو احتیاط سےاستعمال کریں۔روی شنکر پرساد کے تبصرے کا جواب دیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ لوک سبھا کسی ایک پارٹی سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ ملک کی نمائندگی کرتی ہے۔
اوم برلا پر کیا الزامات لگائے گئے؟
کانگریس کے ڈاکٹر محمد جاوید اور کچھ دیگر اراکین نے اوم برلا پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے بجٹ سیشن کے پہلے مرحلے کے دوران انہیں عہدے سے ہٹانے کی قرارداد پیش کی تھی، جو سیشن کے دوسرے مرحلے کے پہلے دن۹؍ مارچ کے ایجنڈے میں شامل تھی، لیکن اسے اسی دن پیش کیا گیا۔ منگل کو پیش کیے جانے کے بعد اس پر دو دن تک بحث ہوئی اور ایوان نےبدھ کو اس قرارداد کو صوتی ووٹ کے ذریعے مسترد کر دیا۔
امیت شاہ نے کیا کہا؟
اس قرارداد پر۴۲؍ سے زائد اراکین نے بحث میں حصہ لیا۔ بحث کے اختتام پر وزیر داخلہ امیت شاہ نے اپوزیشن اراکین کو ایوان میں بولنے نہ دینے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اوم برلا ایوان کی کارروائی سب کیساتھ یکساں جذبے سے چلاتے ہیں اور ان کی اخلاقیات پر اپوزیشن سوال نہیں اٹھا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ تاریخ میں لوک سبھا اسپیکر کو ہٹانے کیلئے ۳؍قراردادیں آئی ہیں، لیکن قرارداد کے نمٹارے تک ایوان میں نہ آنے کی اعلیٰ اخلاقی مثال صرف اوم برلا نے ہی پیش کی ہے۔ ماضی میں اسپیکر قرارداد آنے کے باوجود ایوان کی کارروائی چلاتے رہے ہیں، لیکن اوم برلا نے قرارداد دیے جانے کے ساتھ ہی اخلاقی بنیاد پر یہ اعلان کر دیا تھا کہ وہ اس قرارداد پر بحث مکمل ہونے تک ایوان کی صدارت نہیں کریں گے۔ اوم برلا کے خلاف لائی گئی قرارداد میں الزام لگایا گیا تھا کہ وہ ایوان میں اپوزیشن لیڈر اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران کو بولنے کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن کی خاتون اراکین پارلیمنٹ پر بے بنیاد الزامات لگائے۔ انہوں نے عوامی مفاد کے مسائل اٹھانے پر اپوزیشن ارکان کو پورے سیشن کے لیے معطل کیا اور وہ سابق وزرائے اعظم کے خلاف قابلِ اعتراض اور توہین آمیز تبصرے کرنے سے حکمراں پارٹی کے اراکین کو نہیں روکتے۔ اس طرح وہ اپنے جانبدارانہ نقطہ نظر سے ایوان کے اراکین کے حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور ایسے اعلانات کرتے ہیں اور فیصلے لیتے ہیں جو حقوق کو متاثر اور کمزور کرتے ہیں۔ لیکن امیت شاہ نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اوم برلا انتہائی شائستگی، سب کے ساتھ مساوی سلوک، اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے شفاف طریقے اور دیانتداری سے ایوان کی کارروائی چلاتے ہیں۔