Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد: بحث کے وقت اوم برلا اراکین کے درمیان بیٹھیں گے

Updated: March 06, 2026, 9:30 AM IST | New Delhi

۹؍ مارچ سےبحث ،اوم برلا کواپنے دفاع کا اختیار حاصل ہوگا ۔

Lok Sabha Speaker Om Birla. Photo: INN
لوک سبھا اسپیکر اوم برلا ۔ تصویر: آئی این این

پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے کی شروعات۹؍ مارچ سے ہونے جا رہی ہے۔ اس روز لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے دی گئی عہدے سے ہٹانے کی تحریک پر بحث بھی ہوگی۔ اس دوران اوم برلا کارروائی کی صدارت نہیں کریں گے بلکہ اراکین پارلیمنٹ کے درمیان بیٹھیں گے۔ دراصل آئین اور لوک سبھا کے ضوابط کے مطابق جب اسپیکر کو ہٹانے کی تحریک پر ایوان میں غور کیا جاتا ہے تو متعلقہ اسپیکر کارروائی کی صدارت نہیں کر سکتا ۔

یہ بھی پڑھئے: ایران میں پھنسے کشمیریوں کو واپس لانے کیلئے کوششیں جاری ہیں: عمر عبداللہ

اس تحریک کے ذریعے اپوزیشن نے اوم برلا کے خلاف ایوان کی کارروائی کے دوران کھلے عام امتیازی سلوک کا الزام عائد کیا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک کے دوران اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کو بولنے کا مناسب موقع نہیں دیا گیا۔ لوک سبھا میں کانگریس کے چیف وہپ کے سریش نے کانگریس، سماجوادی پارٹی اور ڈی ایم کے سمیت کئی اپوزیشن لیڈروںکی جانب سے لوک سبھا سیکریٹریٹ کو یہ نوٹس سونپا ہے۔

واضح رہے کہ تقریباً۱۱۸؍ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے اس نوٹس پر دستخط کئے ہیں۔ حالانکہ ترنمول کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ نے اس پر دستخط نہیں کئے۔ آئینی ماہر پی ڈی ٹی آچاری کے مطابق یہ تحریک ایوان کے سامنے پیش ہوگی تو اوم برلا کو اپنے دفاع کا آئینی حق حاصل ہوگا۔ وہ بحث میں شامل ہو سکتے ہیں اور اس تحریک کے خلاف ووٹ بھی دے سکتے ہیں، لیکن انہیں ووٹ دینے کے لیے خودکار نظام کے بجائے پرچی کا استعمال کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے: بہار: نتیش کمار وزارت اعلیٰ چھوڑیں گے، راجیہ سبھا کیلئے پرچہ نامزدگی داخل

آئین کی دفعہ۹۶؍ کے مطابق اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر اس وقت ایوان کی صدارت نہیں کر سکتے جب ان کے خلاف عہدے سے ہٹانے کی تحریک پر غور ہو رہا ہو۔ جبکہ دفعہ۹۴؍ کے تحت لوک سبھا اسپیکر کو سادہ اکثریت سے منظور شدہ تحریک کے ذریعہ عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔ لوک سبھا کے قواعد کے مطابق ایسی تحریک کے لئے کم از کم۲؍ اراکین پارلیمنٹ کے دستخط ضروری ہوتے ہیں جبکہ نوٹس پر کتنے بھی اراکین دستخط کر سکتے ہیں۔ تحریک کو ایوان میں لانے سے قبل۱۴؍ روز کا نوٹس دینا ہوتا ہے اور بحث کے بعد۱۰؍ دنوں کے اندر اس کا تصفیہ کیا جانا ضروری ہوتا ہے۔ حالانکہ پارلیمنٹ کی تاریخ میں اب تک لوک سبھا اسپیکر کو ہٹانے کی کوئی تحریک پاس نہیں ہوئی ہے کیونکہ عام طور پر حکومت کے پاس ایوان میں اکثریت ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK