Updated: March 06, 2026, 10:05 PM IST
| New Delhi
کانگریس کے صدر ملیکارجن کھرگے اور سابق صدر راہل گاندھی نے مودی حکومت پر امریکی دباؤ میں کام کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذمہ دار قوم کے طور پر ہندوستان نے ہمیشہ اپنے فیصلے خود کیے ہیں لیکن حالیہ دنوں میں جس طرح امریکہ کے اشاروں پر کام ہو رہا ہے، اس سے ایسا لگتا ہے کہ ہم اپنی سفارتی شاندار روایت کھو رہے ہیں۔
پی ایم مودی۔ تصویر:پی ٹی آئی
کانگریس کے صدر ملیکارجن کھرگے اور سابق صدر راہل گاندھی نے مودی حکومت پر امریکی دباؤ میں کام کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذمہ دار قوم کے طور پر ہندوستان نے ہمیشہ اپنے فیصلے خود کیے ہیں لیکن حالیہ دنوں میں جس طرح امریکہ کے اشاروں پر کام ہو رہا ہے، اس سے ایسا لگتا ہے کہ ہم اپنی سفارتی شاندار روایت کھو رہے ہیں۔
کھرگے نے کہا کہ ’’ہندوستان کی اسٹریٹیجک خودمختاری اور قومی خودمختاری سنگین خطرے میں ہے کیونکہ وزیراعظم نریندر مودی کو ایپسٹین فائلز اور اڈانی کیس کے حوالے سے بلیک میل کیا جا رہا ہے۔ روس سے تیل خریدنے کی امریکی اجازت جو کہ۳۰؍ دن کی چھوٹ کے طور پر دی گئی ہے، واضح طور پر ظاہر کرتی ہے کہ مودی حکومت مسلسل سفارتی آزادی کھو رہی ہے۔ اس طرح کی زبان پابندی والے ممالک کے لیے استعمال کی جاتی ہے نہ کہ ہندوستان کے لیے جو عالمی نظام میں ایک ذمہ دار اور مساوی شراکت دار رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن سیندور کے دوران سب سے پہلے پاکستان کے ساتھ فوجی کارروائی روکنے کا اعلان پی ایم مودی کے دوست ڈونالڈ ٹرمپ نے کیا، ہم نے نہیں۔ انہوں نے کم از کم۱۰۰؍ بار دعویٰ کیا ہے کہ فوجی کارروائی ان کے کہنے پر روکی گئی جس پر وزیراعظم خاموش رہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو ایرانی تیل نہ خریدنے کے لیے کہا گیا جس پر ہندوستان حکومت نے مان لیا۔ ٹرمپ نے ہندوستان کو روسی تیل نہ خریدنے کا کہا اور ہندوستان نے درآمدات کم کر دی۔ ہند۔امریکہ تجارتی معاہدے کا اعلان اس شرط پر کیا گیا کہ ہندوستان روس سے تیل نہیں خریدے گا اور پی ایم مودی نے اس پر دستخط کر دیے۔ اب امریکہ نے ہندوستان کو عارضی ۳۰؍ دن کی چھوٹ دی ہے اور ہندوستانی ریفائنریوں کو روسی تیل خریدنے کی اجازت دے دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:احمد آباد فائنل سے قبل میدان صاف مہم کا انوکھا سنگ میل
انہوں نے کہا کہ تجارت سے لے کر تیل تک، اعداد و شمار سے لے کر دوست ممالک کے ساتھ ہندوستان کے طویل مدتی تعلقات تک مودی جی نے سب کچھ قربان کر دیا۔ کھرگے نے کہا کہ ’’ہندوستان کو اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے کی ایک شاندار تاریخ رہی ہے اور یہ اب تک بے داغ رہی ہے۔ جواہر لال نہرو، اندرا گاندھی سے لے کر اٹل بہاری واجپائی تک پی ایم مودی کو چھوڑ کر کسی بھی وزیر اعظم نے کسی ملک کے دباؤ میں آ کر ہندوستان کو عملی طور پر ایک جاگیردار ریاست نہیں بنایا۔ میں ملک کو جھکنے نہیں دوں گا صرف انتخابات جیتنے کا ایک نعرہ تھا اور۱۴۰؍ کروڑ ہندوستانیوں کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’دی کیرالا اسٹوری ۲‘‘ کا نام تبدیل کرنے کی درخواست مسترد
راہل گاندھی نے کہا کہ ’’ہندوستان کی خارجہ پالیسی ہمارے عوام کی اجتماعی خواہش سے جنم لیتی ہے۔ اسے ہماری تاریخ، ہماری جغرافیائی حیثیت، سچائی اور عدم تشدد پر مبنی ہماری روحانی فکر میں جڑیں رکھنی چاہئے۔ آج جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ کوئی پالیسی نہیں ہے بلکہ ایک سمجھوتہ کرنے والے شخص کے استحصال کا نتیجہ ہے۔
کے سی وینوگوپال نے کہا کہ ’’امرت کال میں ہندوستانی وزیر اعظم کو اپنی مرضی کے مطابق تیل خریدنے کے لیے دوسرے ممالک سے بھیک مانگنی پڑ رہی ہے۔ روس جیسے پرانے شراکت دار سے تیل خریدنے کے لیے بھی امریکہ سے چھوٹ حاصل کرنا ہندوستان کی خودمختاری اور بین الاقوامی وقار کے لیے انتہائی توہین آمیز ہے۔ امریکہ کی مقرر کردہ شرائط کی مخالفت کرنے کے بجائے سمجھوتہ کرنے والے وزیر اعظم مودی ہماری توانائی کی خودمختاری کو دوسرے ممالک کے سامنے تھالی میں پیش کر رہے ہیں۔