نئے سال میں جہاں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھنے اور سبکدوش ملازمین کے پنشن میں اضافہ کی امید ہے وہیں اسمال سیونگ اسکیم پر شرح سود گھٹ سکتاہے، جہاںسی این جی اور پی این جی سستی ہونے کی امید ہے وہیں گاڑیوں کے ۲؍ سے ۳؍ فیصد مہنگے ہونے کا اندیشہ بھی ہے، ملاحظہ چند بڑی تبدیلیاں۔
سرکاری ملازمین کیلئے ۸؍ ویں پے کمیشن کا نفاذ
یکم جنوری سے ملک میں ۸؍ ویں پے کمیشن کے نفاذ کا عمل شروع ہو گاکیوں کہ اُسی دن ۷؍ ویں پے کمیشن کی مدت ختم ہو جائے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد مرکزی ملازمین کی تنخواہ، پنشن اور الاؤنس پر نظرثانی ہے۔ اس سے ملازمین کو ملنے والی رقم میں اضافہ ہوگا۔ مثال کے طور پر اگر ساتویں پے کمیشن کے تحت آپ کی بیسک تنخواہ۳۵؍ ہزار ۴۰۰؍ روپے ہے تو ڈی اے اور ایچ آر اے شامل ہونے کے بعد یہ تقریباً۶۵؍ہزار ۵۰۰؍ ہوجائے گی ۔ ماہرین کے مطابق حالانکہ یکم جنوری ۲۰۲۶ء سے نئے پے کمیشن کو نافذ ہوجانا چاہئے مگر اس کے نفاذ کا حقیقی امکان ۲۰۲۶ء کے اواخر تک ہوسکتاہے۔اس صورت میں سرکاری ملازمین کو خاطر خواہ رقم بقایا جات کی صورت میں ملے گی۔
ریل ٹکٹ کیلئے آدھار لازمی
۱۲؍جنوری سے آن لائن ریلوے ٹکٹ بک کرنے کیلئے دن میں مختلف اوقات میں آدھار لازمی ہوگا۔ وہ صارفین جن کا آئی آر سی ٹی سی اکاؤنٹ آدھار سے لنک نہیں ہے، وہ صبح۸؍ بجے سے رات۱۲؍ بجے تک ٹکٹ بک نہیں کر سکیں گے۔ یہ قاعدہ کسی بھی گاڑی کیلئے ریزرویشن شروع ہونے یعنی گاڑی کی روانگی سے ۶۰؍ دن پہلے ریزرویشن کھلنے والے پہلے دن کیلئے ہوگا۔ اس کا مقصد افتتاحی دن زیادہ سے زیادہ مسافروں کو آن لائن ٹکٹ بک کرنے کا موقع دینا اور فرضی اکاؤنٹس کے ذریعے بکنگ کو روکنا ہے۔
سی این جی سستی ہوگی مگر کاریں ۲؍ سے ۳؍ فیصد مہنگی ہوںگی
پیٹرولیم اینڈ نیچرل گیس ریگولیٹری بورڈ نے یکم جنوری ۲۰۲۶ء سے گیس ٹرانسپورٹیشن چارج کم کر دیا ہے۔ اس کے بعد ملک کی مختلف ریاستوں میں سی این جی اور گھریلو پائپڈ نیچرل گیس یعنی پی این جی کی قیمتیں۲؍ سے۳؍ روپے فی یونٹ تک کم ہو جائیں گی۔ دوسری طرف کاریں ۲؍ سے ۳؍ فیصد مہنگی ہوجائیں گی۔ ماروتی، ٹاٹا اور ہنڈائی جیسی کمپنیوں کی گاڑیاں یکم جنوری سے مہنگی ہو سکتی ہیں۔ کمپنیاں بھی جلد اس کا اعلان کر سکتی ہیں۔
نئے انکم ٹیکس ایکٹ کا نفاذ، ٹیکس کی بچت مگر بچت اسکیموں میں کمی
اس سال نیا انکم ٹیکس نافذ ہوجائے گا جس میں کئی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔اس کے علاوہ نئے آئی ٹی آر سلیب سے پیسہ بچے گا۔اب۱۲؍ لاکھ روپے تک کی آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں دینا ہوگا۔ تاہم چھوٹی بچت اسکیموں کے سود میں کمی کا اندیشہ ہے۔ ریپو ریٹ۲۵؍ بیسس پوائنٹس کم کیاگیا ہے ایسے میں سرکاری بچت اسکیموں کی شرحیں بھی کم ہونے کا امکان ہے۔