سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت کا تاریخ ساز اعلان، بنیادی حقوق کے فوری تحفظ پر زور۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت ایک پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے ایک اہم اور تاریخ ساز فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ لیگل ایمرجنسی کی صورت میں اب عدالتیں ۲۴؍ گھنٹے سماعت کےلئے دستیاب ہوں گی اور انصاف کے حصول کے لیے آدھی رات کو بھی عدالتوں سے رجوع کیا جا سکے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جانچ ایجنسیوں کی جانب سے گرفتاری کی دھمکی یا فوری خطرے کی صورت میں کوئی بھی شخص اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتا ہے۔
ایک انٹرویو میں چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتوں میں بڑی تعداد میں آئینی نوعیت کی عرضیاں زیر التوا ہیں، جن کے بروقت تصفیے کے لیے مزید آئینی بینچوں کی تشکیل ناگزیر ہے۔ ان میں ایس آئی آر جیسے اہم معاملات بھی شامل ہیں، جن پر فوری سماعت ضروری ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت نے وکلا کے لئے بھی واضح رہنما اصول طے کرتے ہوئے کہا کہ اہم مقدمات میں طویل عرصے تک جاری رہنے والی جرح کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ دلائل کے لیے وقت کا تعین کیا جائے گا اور وکلا کو اسی مقررہ مدت کے اندر اپنے دلائل مکمل کرنے ہوں گے، جس پر سختی سے عمل کرایا جائے گا۔
انہوں نے سبری مالا مندر میں ہر عمر کی خواتین کے داخلے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر عرضیوں کا بھی حوالہ دیا۔ چیف جسٹس کے مطابق یہ معاملہ مذہبی آزادی اور خواتین کے حقوق کے درمیان توازن سے جڑا ہوا ہے، جس کی سماعت کے لیے بھی ایک آئینی بینچ کی ضرورت ہے۔ چیف جسٹس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عدلیہ عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر وقت دستیاب رہے گی اور انصاف تک فوری رسائی کو یقینی بنایا جائے گا۔