مشتعل کارکنان نے بھگوت کراڈ اور اتل ساوے کی کاروں کو گھیر لیا اور ان پر مکے مارے، تصویروں پر کالک پوتی گئی، نعرے لگائے گئے۔
بی جے پی دفتر کے اندر گھس کر احتجاج کیا گیا۔ تصویر : ایجنسی
اورنگ آباد میں کارپوریشن الیکشن کے ٹکٹوں کی تقسیم بی جے پی کیلئے درد سر بن گئی ہے۔ ناراض کارکنان وزیروں کی گاڑیوں کو گھیر کر ان پر حملہ کرنے پر آمادہ ہو گئے ہیں۔ منگل اور بدھ دونوں ہی روز بی جے پی کارکنان نے شہر میں خوب ہنگامہ کیا۔ یاد رہے کہ بی جے پی نے اچانک شہر میں شیوسینا (شندے) کے ساتھ اتحاد ختم کر دیا ہے ۔ اس پر شیوسینا ( شندے) کے کارکنان بھی ناراض ہیں۔
اورنگ آباد میں منگل کو امیدواروں کی نامزدگی کی آخری تاریخ کے بعد ماحول مزید گرم ہو گیا، کیونکہ مہایوتی ٹوٹنے کے بعد امکان تھا کہ بی جے پی کے زیادہ سے زیادہ کارکنان کو ٹکٹ ملے گا۔ لیکن کئی ایسے امیداوروں کو ٹکٹ نہیں ملا جو صدفی صد پُر امید تھے۔ لہٰذاان کارکنان نے پارٹی دفتر کا گھیراؤ کر کے زبردست ہنگامہ کیا۔بدھ کو بھی یہی منظر دہرایا گیا۔ان کا کارکنان کا الزام ہے کہ پارٹی باہر سے آنے والوں کو ٹکٹ دے رہی ہے اور برسوں سے پارتی کی خدمت کرنے والے وفاداروںکو نظر انداز کر رہی ہے۔ ان کارکنان کو منانے کیلئے رکن پارلیمان بھگوت کراڈ اور ریاستی وزیر اتل ساوے کو بھیجا گیا مگر ان کے آنے سے ماحول اور گرم ہو گیا۔
ناراض امیدوار پرساد بدھانے خودسوزی کی کوشش کی جس پر بی جے پی رکن اسمبلی سنجے کینی کر نے انہیں روکنے کی کوشش کی، مگر وہ زاروقطار رونے لگے اور سوال کرنے لگے کہ ’’میں کہاں کم پڑ گیا صاحب؟‘‘ کینی کر نے وضاحت کی کہ ’’ایک ہی وقت میں سب کو انصاف دینا ممکن نہیں ہے۔‘‘ اسی وقت اتل ساوے اور بھگوت کراڈ وہاں پہنچے۔ان کے آنے سے ماحول امزید بگڑ گیا کیونکہ مشتعل کارکنان نے دونوں کی گاڑیوں کو گھیر لیا، وہاں لگے ہوئے ان کے پوسٹر پھاڑ دیئے، اور ان کی تصویروںپر کالک پوت دی۔ اس دوران ان دونوں لیڈران کے خلاف جم کر نعرے بازی کی گئی۔ کچھ افراد نے اپنا جسم پر پٹرول ڈال کر خودسوزی کی دھمکی بھی دی۔ یہ دونوں سینئر لیڈران دفتر میں داخل نہیں ہو پا رہے تھے۔
خاتون نے لیڈر کو تھپڑ رسید کر دیا
اس دوران دھکا مکی روکنے کیلئے کچھ مقامی لیڈران آگے بڑھے۔ انہوں نے مشتعل کارکنان کو روکنے اور سمجھانے کی کوشش کی۔ انہی میں سے ایک بی جے پی کی اورنگ آباد شہر جنرل سیکریٹری چھایا کھوجیکر کے شوہر راجو کھوجیکر بھی تھے جو خود بھی پارٹی کارکن ہیں۔ انہوں نے ایک خاتون کو وزیر کی جانب جانے سے روکنے کی کوشش کی تو خاتون نے انہیں تھپڑ رسید کر دیا۔ اس کا ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہا ہے۔ ، بی جے پی خاتون کارکن دیویا مراٹھے جو گادیا وہار علاقے میں وارڈ نمبر ۲۰؍ سے ٹکٹ کی خواہشمند تھیں نے عین پارٹی دفتر کے اندر بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔ انہوں نے ٹکٹ ملنے تک بھوک ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ حالانکہ فارم جمع کروانے کی آخری تاریخ گزر چکی ہے۔ احتجاج کرنے والی خواتین نے دفتر کے اندر ہی دھرنا دیتے ہوئے ٹکٹ تقسیم میں وفادار کارکنان کو نظرانداز کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے نعرہ لگایا کہ ’’جب تک انصاف نہیں ملتا یہاں سے نہیں اٹھیں گے۔‘‘ بی جے پی کو الیکشن کے دوران ناکوں چنے چبانے پڑ سکتے ہیں۔