ایم ایل سی الیکشن میں ناگپور سے کانگریس کےشکست خوردہ امیدوار اتل لونڈھے نے کہا کہ اخلاقی نقطہ نظر سے، یہ میری جیت ہے
EPAPER
Updated: June 23, 2026, 8:18 AM IST | Nagpur
ایم ایل سی الیکشن میں ناگپور سے کانگریس کےشکست خوردہ امیدوار اتل لونڈھے نے کہا کہ اخلاقی نقطہ نظر سے، یہ میری جیت ہے
بی جے پی امیدوار راجیو پوتدار نے ناگپور لوکل باڈی حلقہ سے قانون ساز کونسل کے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے ۔ کانگریس کے شکست خوردہ امیدوار اتل لونڈھے نے بی جے پی پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔ اتُل لونڈھے نے دعویٰ کیا ہے کہ بی جے پی نے تقریباً ۱۰۰؍ ووٹروں کو۱۰-۱۰؍ لاکھ روپے دے کر ’کراس ووٹ‘ کروایا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کانگریس اور مہاوکاس اگھاڑی کے پاس کافی تعداد ہونے کے باوجود توقع سے کہیں کم ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔
معلوم ہوکہ ناگپور ایم ایل سی سیٹ پر بی جے پی کے راجیو پوتدار نے ۶۸۲؍ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی۔ دوسری طرف کانگریس امیدوار اتُل لونڈھے کو صرف ۱۳۰؍ووٹ ملے۔ نتائج کے مطابق، کانگریس کے پاس اپنے تقریباً ۱۷۰ ؍ووٹ تھے، جبکہ مہاوکاس اگھاڑی کی مشترکہ طاقت ۲۱۱؍ ووٹوں تک پہنچ رہی تھی۔ تاہم، اصل ووٹنگ میں یہ واضح ہو گیا کہ کانگریس اور اتحادیوں کے بہت سے ووٹ تقسیم ہو گئے کیونکہ اتُل لونڈھے کو صرف ۱۳۰ ؍ووٹ ملے۔ شکست کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے اتُل لونڈھے نے براہ راست بی جے پی پر الزام لگایا۔ ان کے مطابق، بی جے پی نے بڑا لالچ دے کر کراس ووٹنگ کروائی۔ انہوں نے سنگین الزام لگایا کہ سو کے قریب ووٹرز کو دس دس لاکھ روپے دے کر مخالف کیا گیا۔‘‘ لونڈھے نے دعویٰ کیا کہ وہ شکست کے باوجود اخلاقی طور پر جیت گئے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’اگرچہ میں الیکشن ہار گیا ہوں، لیکن میں اخلاقی طور پر جیت گیا ہوں۔ میں ناگپور میں بی جے پی کے دباؤ اور ظلم کے سامنے کھڑا رہا۔ میں نے اس الیکشن کو بلا مقابلہ نہیں ہونے دیا۔ مجھے جو ۱۳۰؍ ووٹ ملے وہ کانگریس اور مہاوکاس اگھاڑی کے ایماندار ووٹروں کے تھے، جو ان نتائج سے ثابت ہوتا ہے۔" لونڈھے نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ مہا وکاس اگھاڑی اور کانگریس کے درمیان ووٹوں کی تقسیم کے بارے میں کوئی شکایت نہیں کریں گے۔ تاہم سیاسی حلقوں میں یہ بات چل رہی ہے کہ اس نتیجہ نے کانگریس کے اندر دھڑے بندی، ناراضگی اور تنظیمی کمزوری کو عیاں کردیا ہے۔ بتادیں کہ ناگپور میں کانگریس کے اپنے ۱۷۰ ؍ووٹ ہیں اور مہا وکاس اگھاڑی کے پاس کل ۲۱۱؍ووٹ ہیں، یعنی کل ۳۸۱۔ لیکن اتُل لونڈھے کو صرف ۱۳۰ ووٹ ملے۔ اس سے مہا وکاس اگھاڑی کے اندر تال میل اور مقامی سطح پر تنظیمی حیثیت پر سوال اٹھ رہے ہیں۔