Inquilab Logo Happiest Places to Work

سائبر فراڈ کے ذریعے۳؍ سال میں ۶؍ ہزار کروڑروپے سے زیادہ کی رقم لوٹی گئی

Updated: June 12, 2026, 1:24 PM IST | Ali Imran | Nagpur

ناگپور کے آرٹی آئی کارکن کی ایک درخواست کے جواب میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے انتہائی حیران کن معلومات فراہم کیں۔

Thousands of crores of rupees are being scammed through cybercrime (file photo)
سائبر کرائم کے ذریعے ہزاروں کروڑ کا گھوٹالا ہو رہا ہے ( فائل فوٹو)

سائبر فراڈ کے ذریعے  دھوکہ دہی اب عام بات ہو گئی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ملک بھر میں اس طریقۂ کار کو اختیار کرکے جعلسازوں نے کروڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کروڑ روپے لوٹ لئے ہیں۔ ناگپور سے تعلق رکھنے والے ’ حق معلومات‘ ( آر ٹی آئی) کے سرگرم کارکن  ابھے کولارکر کی درخواست کا جواب دیتے ہوئے اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) نے دھوکہ دہی کے متعلق انتہائی حیران کن  اعداد و شمار جاری کئے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا سے فراہم کردہ معلومات میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ تین سال کے دوران سائبر مجرمین اور دھوکہ بازوں نے بینک سسٹم کا غلط استعمال کرتے ہوئے ہزاروں کروڑ روپے لوٹے ہیں۔

بینک کی طرف سے فراہم کردہ مصدقہ معلومات کے مطابق، اسٹیٹ بینک میں یکم اپریل ۲۰۲۳ء سے ۳۱؍مارچ ۲۰۲۶ ءتک تین سال کی مدت کے دوران کل ۳۰؍ ہزار ۷۴۶؍ دھوکہ دہی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں صارفین اور بینک کے مجموعی طورپر  ۶؍ ہزار ۳۱۳ء۳۵؍ کروڑ روپے لوٹے گئے۔ موبائل بینکنگ اور یو پی آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے اسے سائبر مجرموں کیلئے  ایک آسان ہدف بنا دیا ہے۔ بینک کے تین سال کے مجموعی اعداد و شمار کے مطابق، آن لائن چینل کے ذریعے کئے جانے والے فراڈ نمایاں ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ناندیڑ میں معمولی بات پر نوجوان کا قتل، مقامی باشندے ناراض، بازار بند

سب سے زیادہ ۱۲؍ ہزار ۸۶۸؍  یو پی آئی کے ذریعے کئے گئے فراڈ کےتھے، جن میں ۷۱ء۵۱ کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ انٹرنیٹ بینکنگ کا استعمال ۷۹ء۵۸ کروڑ روپے کے نقصان کے ساتھ ۸۶۵۷ صارفین کو دھوکہ دینے کیلئے کیا گیا۔ اے ٹی ایم دھوکہ دہی کے ۱۱۰۲؍ معاملات میں ۹ء۵۸ کروڑ روپے کا نقصان ہوا، جبکہ موبائل بینکنگ فراڈ کے ۲۹۶ معاملات میں ۳ء۶۶ کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ اس کے علاوہ بینک ملازمین کے ذریعہ کئے گئے اندرونی دھوکہ دہی کے ۳۰۳ ؍معاملات سامنے آئے ہیں، جن میں ۳۱۱ء۰۸ کروڑ روپے کی دھوکہ دہی شامل ہے۔ پورے ملک میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی شاخوں پر غور کریں تو دھوکہ دہی اور جرائم کے معاملے میں مغربی بنگال پہلے نمبر پر ہے۔ صرف مغربی بنگال میں دھوکہ دہی کے ۳۴۲۶؍ کیس درج کئے گئے ہیں، جس سے مغربی بنگال ریاست کے شہریوں کو ۱۴۳ء۶۷ کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ بینک نے کہا ہے کہ اس کے پاس ابھی تک ملک میں جاری ڈیجیٹل اریسٹ جیسے جدید دھوکہ دہی کے بارے میں کوئی درست معلومات نہیں ہے۔ چونکہ ڈیجیٹل دور میں بینکنگ خدمات زیادہ آسان ہو گئی ہیں، اس لئے سائبر فراڈ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اسلئے، صارفین کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنا او ٹی پی، پاس ورڈ کسی بھی نامعلوم فون کالر کو نہ دیں اور کسی نامعلوم لنک پر کلک نہ کریں تاکہ ان کا اکائونٹ محفوظ رہے۔

یاد رہے کہ ان دنوں بجلی کے بل، بینک کے قرض اور ٹکٹ بکنگ کے نام پر بھی سائبر فراڈ ہو رہا ہے۔ اس لئے اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے اپیل کی ہےکہ کسی بھی انجان کال پر بلا تحقیق کوئی بھی معلومات شیئر نہ کریں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK