بی جے پی حکومت میں فوجی پر حملہ کی ۳؍سال تک ایف آئی آر بھی درج نہیں ہوئی تھی

Updated: September 14, 2020, 12:27 PM IST | Staff Reporter | Mumbai

فوجی پر حملے پر سیاست کرنے والی بی جےپی کی پول کھولتے ہوئے کانگریس نےکہا کہ فرنویس حکومت میں فوجی پر حملے کی ایف آئی آر ۳؍ سال تک درج نہیں کی گئی تھی۔

Sachin Sawant
سچن ساونت

فوجی پر حملے پر سیاست کرنے والی بی جےپی کی پول کھولتے ہوئے کانگریس نےکہا کہ فرنویس حکومت میں  فوجی پر حملے کی ایف آئی آر ۳؍ سال تک  درج نہیں کی گئی تھی۔
  اس سلسلے میں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی ( ایم پی سی سی )کے سیکریٹری اور ترجمان سچن ساونت نے کہاکہ ’’  ہمارے سابق فوجی سونو ہمت مہاجن (چالیس گاؤں)کے  خاندان پر جلگاؤں میں ۲۰۱۶ء  میں حملہ کیا گیا  تھا۔سونو پر تلوار سے حملہ کیا گیا  تھا ۔  اس حملے میں بی جے پی کا لیڈر ملوث تھا۔ آج ایک فوجی پر حملہ کرنے پر واویلا مچانے والی بی جےپی کی  اس وقت فرنویس  سرکارتھی، اس کے باوجود  حملے کے۳؍ سال تک نہ تو کوئی کارروائی  کی گئی اور   نہ ہی ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ وہ فوجی انصاف کیلئے  در در بھٹکتا رہا  ۔ اس کا الزام تھاکہ اس وقت کے بی جےپی کے رکن اسمبلی بھی اس حملے میں ملوث تھے۔جب پولیس سے فوجی کو انصاف نہیں ملا تو وہ ہائی کورٹ گئے اور عدالت کے حکم دینے کے بعد اس معاملہ میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ ۲۰۱۹ء میں ایف آئی آر درج ہونے کے بعد بھی ملزمین کے خلاف کوئی  کارروائی نہیں کی گئی۔ اس طرح فوجی در در بھٹکتا رہا  ۔ فوجیوں کے تئیں بی جے پی کایہی  اصل چہرہ  ہے ۔‘‘سچن ساونت کے مطابق کسی بھی فوجی پر حملہ ہوتو اسے انصاف ملنا چاہئے لیکن اگر ایف آئی آر کیلئے در در بھٹکنا پڑے تویہ بہت افسوس کی بات ہے۔ نوڈل افسر پر جو حملہ کیاگیا ہے ،ہم اس کی مذمت کرتے ہیں لیکن اس معاملے میں ایف آئی آر تو درج ہوئی  جبکہ بی جے پی کی حکومت میں تو ایف آئی آر بھی درج نہیں کی گئی تھی۔ اس لئے ہم امید کرتے ہیں کہ وزیر داخلہ جلد از جلد سونو مہاجن کو  انصاف دلانے کی کوشش کریں گے ۔
  اس سلسلے میں  سابق فوجی سونو ہمت مہاجن نے ایک ویڈیو جاری کر کے کہا کہ ’’ مجھ پر بی جے پی لیڈر نے ۲؍ جون ۲۰۱۶ء کوتلوار سے حملہ کیا تھا۔پی جے پی کا رکن حملہ میں ملوث تھا اس لئے الٹے میرے ہی خلاف معاملہ درج کیا گیا اور اسپتال سے پولیس تحویل میں لے جایا گیاتھا۔یہاں تک کہ مجھے ۵؍  مہینے تک جلگاؤں جیل میں رکھا گیا تھا۔ ضمانت ملنے کے بعد ۵؍ اضلاع سےشہر بدر کر دیا گیا تھا۔ ہم نے اورنگ آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی تھی اور عدالت نے انصاف کرتے ہوئے ۲۰۱۹ء میں حملہ آوروں کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی  لیکن اب بھی چالیس گاؤں پولیس اسٹیشن مجھے انصاف نہیں دے رہا ہے بلکہ معاملہ واپس لینے کیلئے دباؤ ڈال ر ہا ہے۔ ‘‘مذکورہ سابق فوجی نے وزیر داخلہ سے انصاف دلانے کی درخواست کی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK