اترپردیش میں ایک ہندوتوا کارکن کی مبینہ اشتعال انگیز تقریرکا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ریاستی پولیس کی کارروائی پر سوال اٹھ گئے ہیں، جبکہ سپریم کورٹ پہلے ہی نفرت انگیز تقاریر کے خلاف سخت ہدایات دے چکی ہے۔
EPAPER
Updated: March 16, 2026, 10:02 PM IST | Lucknow
اترپردیش میں ایک ہندوتوا کارکن کی مبینہ اشتعال انگیز تقریرکا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ریاستی پولیس کی کارروائی پر سوال اٹھ گئے ہیں، جبکہ سپریم کورٹ پہلے ہی نفرت انگیز تقاریر کے خلاف سخت ہدایات دے چکی ہے۔
اترپردیش میں نفرت انگیز تقریر کے ایک نئے تنازع نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار پر بحث چھیڑ دی ہے۔ سوشل میڈیا پر پیر کو وائرل ہونے والے ایک ویڈیو میں ہندوتوا حامی پرشانت مشرا کو مبینہ طور پر اشتعال انگیز بیانات دیتے ہوئے دیکھا گیا، جس کے بعد ریاستی انتظامیہ کی کارروائی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ وائرل ویڈیو میں پرشانت مشرا، جنہیں بعض حلقوں میں غیر رسمی طور پر ’’چھوٹا یوگی‘‘ بھی کہا جاتا ہے، مبینہ طور پر گائے کے ذبیحہ میں ملوث افراد کے خلاف تشدد کی بات کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ویڈیو میں انہیں یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے: ’’میں گائے ذبح کرنے والوں کو کھلے عام قتل کروں گا، میں مسجد پر چڑھ کر بھگوا جھنڈا لہراؤں گا۔‘‘
In Uttar Pradesh, a self-styled “Little Yogi,” Prashant Mishra, has reportedly made an alarming public statement saying: “I will kill cow slaughterers and climb atop a mosque to hoist the saffron flag.”
— Team Rising Falcon (@TheRFTeam) March 15, 2026
Such remarks amount to an open call for violence and a direct threat against… pic.twitter.com/cLGOxQ77E9
اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات نہ صرف قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔ یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت کی سپریم کورٹ پہلے ہی نفرت انگیز تقاریر کے خلاف سخت ہدایات جاری کر چکی ہے۔ اکتوبر ۲۰۲۲ء میں ایک اہم فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ نفرت انگیز تقریر ملک کے سیکولر اور جمہوری ڈھانچے کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔
جسٹس کے ایم جوزف اور جسٹس ہریشی کیش رائے پر مشتمل بنچ نے دہلی، اتراکھنڈ اور اترپردیش کی پولیس کو واضح ہدایت دی تھی کہ وہ نفرت انگیز تقاریر کے واقعات پر ازخود کارروائی کریں اور کسی باضابطہ شکایت کا انتظار نہ کریں۔ عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا تھا کہ کارروائی ملزم کے مذہب یا شناخت سے قطع نظر کی جائے اور کسی بھی قسم کی تاخیر کو توہین عدالت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایل پی جی مہنگائی پر مودی کی نقل: مدھیہ پردیش میں استاد معطل
بعد کی سماعتوں میں بھی سپریم کورٹ نے اس معاملے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ نفرت انگیز تقاریر کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات تشدد کو ہوا دے سکتے ہیں اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری اور غیر جانبدارانہ کارروائی کریں۔ مبصرین کے مطابق نفرت انگیز تقاریر کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے کا تاثر ریاست میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ کمزور کمیونٹیز کا تحفظ اور سماجی ہم آہنگی برقرار رکھی جا سکے۔