Inquilab Logo Happiest Places to Work

حکومت کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف کارروائی ، ایل پی جی بکنگ میں کمی

Updated: March 16, 2026, 9:05 PM IST | New Delhi

ایل پی جی کی دستیابی کے بارے میں لوگوں میں خدشات کم ہونے اور حکومتوں کی جانب سے ریاستوں میں ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف مہم چلانے کے باعث ایل پی جی سلنڈر کی بکنگ کی تعداد میں کمی دیکھی گئی ہے۔

Gas Supply.Photo:INN
گیس سپلائی۔ تصویر:آئی این این

ایل پی جی کی دستیابی کے بارے میں لوگوں میں خدشات کم ہونے اور حکومتوں کی جانب سے ریاستوں میں ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف مہم چلانے کے باعث ایل پی جی سلنڈر کی بکنگ کی تعداد میں کمی دیکھی گئی ہے۔ یہ معلومات پیر کے روز جاری کیے گئے ایک سرکاری بیان میں دی گئی۔پی آئی بی انڈیا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ۱۴؍ مارچ کو ۷۷؍ لاکھ ایل پی جی سلنڈروں کی بکنگ ہوئی  جبکہ ۱۳؍ مارچ کو یہ تعداد ۸ء۸۸؍ لاکھ تھی۔
پوسٹ میں مزید کہا گیاکہ ’’ایل پی جی سلنڈر کی بکنگ میں آن لائن بکنگ کا حصہ بڑھ کر ۸۷؍ فیصد ہو گیا ہے، جو پہلے ۸۴؍ فیصد تھا۔ اس کے ساتھ ہی کسی بھی ایل پی جی ڈسٹری بیوٹر کے پاس گیس ختم ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔‘‘
ایل پی جی کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کو روکنے کے لیے ملک بھر میں چھاپے مارے جا رہے ہیں اور ۲۲؍ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے کنٹرول روم قائم کیے گئے ہیں۔بیان میں صارفین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ گھبراہٹ میں آ کر بکنگ نہ کریں، ڈیجیٹل بکنگ پلیٹ فارمز کا استعمال کریں اور ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کے پاس غیر ضروری طور پر جانے سے گریز کریں۔

یہ بھی پڑھئے:ماتربھومی: سلمان خان نے اپنی فلم ’’بیٹل آف گلوان‘‘ کا نام کیوں بدلا؟

اس دوران پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت گھریلو صارفین کے مفادات کو ترجیح دینا جاری رکھے ہوئے ہے اور ایل پی جی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنا رہی ہے، خاص طور پر گھروں، اسپتالوں اور تعلیمی اداروں جیسے ترجیحی شعبوں کے لیے۔ ایل پی جی کی طلب کو پورا کرنے کے لیے حکومت مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:اروندھتی ریڈی اور فاطمہ ثناآئی سی سی ویمن پلیئر آف دی منتھ کے لیے نامزد

ہندوستانی پرچم بردار دو ایل پی جی بردار جہاز شیوالک  اور نندا دیوی  جن میں تقریباً۹۲۷۱۲؍میٹرک ٹن ایل پی جی لدی ہوئی ہے، ہفتے کے روز آبنائے ہرمز عبور کر چکے ہیں اور اس وقت ہندوستان  کی طرف روانہ ہیں۔ توقع ہے کہ یہ پیر کو مندرا بندرگاہ اور منگل کو کاندلا بندرگاہ پہنچیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK