وزیراعظم مودی کو ’راون‘ قراردینے پر بی جے پی کھرگے پر سخت برہم

Updated: November 30, 2022, 1:01 AM IST | new Delhi

ایک بار پھر مظلومیت کا کارڈ کھیلنے کی کوشش کرتے ہوئے اسےگجرات کی توہین بتایا،کہا، کانگریس کے موجودہ سربراہ بھی سونیا اور راہل کی زبان بول رہے ہیں

BJP is trying to take full political advantage of Congress chief Mallikarjan Kharge`s statement on the last day of election campaign in Gujarat, but Kharge is also sticking to his stand.
گجرات میں انتخابی مہم کے آخری دن کانگریس سربراہ ملکارجن کھرگے کے بیان سے بی جے پی پورا پورا سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہی ہے لیکن کھرگے بھی اپنے موقف پر قائم ہیں

گجرات میں پہلے مرحلے کیلئے انتخابی مہم کے آخری دن بی جے پی نے کانگریس سربراہ کے بیان کو موضوع بنانے اورمظلومیت کا کارڈ کھیلنے کی کوشش کرتی ہوئی نظر آئی، جس میں انہوں نے وزیراعظم مودی کو راون قرار دیا تھا۔ بی جے پی نے اسے پوری گجرات کی توہین بتاتے ہوئے کہا کہ اس کا انتقام رائے دہندگان لیں گے۔ بی جے پی نے کہا کہ کانگریس سربراہ ملکارجن کھرگے بھی سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کی زبان بول رہے ہیں۔
 یہاں پارٹی کے مرکزی دفتر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی کے ترجمان سنبت پاترا نے کہا کہ کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے وزیر اعظم مودی کیلئے جس طرح کی زبان استعمال کی ہے، وہ قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس صدر نے وزیر اعظم مودی کو گالی دی ہے جو ملک کے وزیر اعظم کیلئے کسی بھی طرح مناسب نہیں ہے۔
 خیال رہے کہ بہرام پورہ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئےملکارجن کھرگے نے وزیراعظم مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ’’وہ کہتے ہیں کہ کہیں اور مت دیکھو۔ صرف مودی کو دیکھ کر ووٹ دو لیکن کتنی بار تمہاری صورت دیکھیں؟  ہم نے کارپوریشن کے انتخابات میں آپ کا چہرہ دیکھا، ایم ایل اے کے الیکشن میں بھی دیکھا اورلوک سبھا کے الیکشن میں بھی آپ ہی کی سورت نظر آئی۔ ہر جگہ آپ ہی آپ، کیا آپ کے پاس راون  کی طرح ۱۰۰؍ چہرے ہیں؟  مجھے سمجھ میں نہیں آتا۔‘‘ بی جے پی نے اس پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف وزیر اعظم ہی نہیں بلکہ گجرات اور پورے ملک کی توہین ہے۔
  سنبت پاترا نے مظلومیت کاکارڈ کھیلنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ’’ وزیراعظم مودی گجرات کے بیٹے ہیں۔ وہ پوری دنیا میں گجرات کا فخر ہیں۔ گجرات کے بیٹے کیلئے ایسی زبان استعمال کرنا مناسب نہیں ہے۔ یہ قابل مذمت ہے اور کانگریس کی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ مودی نے ملک کے مفاد میں بہت سے کام کئے ہیں۔ وہ ہندوستان کو ترقی کی راہ پر لے جارہے ہیں۔ گجرات کی مٹی کو سلام، جس نے ایسا بیٹا دیا، جو ہندوستان کے غریبوں کو آگے لے جانے کیلئے کام کر رہا ہے۔ انہیں راون کہنا صرف مودی کی توہین نہیں ہے بلکہ یہ گجرات اور گجراتیوں کی توہین ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ کانگریس کے لیڈر اپنی لسانی مریادا کو بھول چکے ہیں۔ یہ لوگ مودی کے کاموں سے حیران اور پریشان ہو کر انہیں گھٹیا القابات سے نواز رہے ہیں۔
  سنبت پاترا نے صرف اتنے ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ۵؍ سال قبل کے انتخابات کے وقت کے بیانات کو بھی بھنانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں سونیا گاندھی نے جہاں نریندرمودی کو موت کا سوداگر کہا تھا، وہیں ان کے دوسرے لیڈروں نے وزیر اعظم مودی کو ظالم، بندر، راکشش   جیسے نہ جانے کیا کیا کہہ ڈالا تھا۔ انہوںنے گجرات کے انتخابات میں راہل گاندھی کو سونیا گاندھی کو موضوع بنانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ کھرگے کے اس بیان سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ کانگریس کے نئے صدر نے وزیر اعظم مودی کے تعلق سے جو بیان دیا ہے وہ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کا ہی بیان ہے اور انہی کے اشاروں  پر کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب سونیا گاندھی نے مودی کو موت کا سوداگر کہا تھا تو اس کا نتیجہ لوگوں نے دیکھ لیا تھا اور اب  ایک بار پھر کانگریس کو ملکارجن کھرگے کے بیان کا اثر دیکھنے کو ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کا جواب گجرات کے رائے دہندگان  ضرور دیں گے۔
 اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے بیشتر لیڈروں کو اکثر و بیشتر نشانہ بنانے والے بی جے پی کے آئی ٹی سیل کے سربراہ امیت  مالویہ  نے بھی کھرگے کے بیان پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے سربراہ گجرات میں اسمبلی انتخابات کا پریشر نہیں جھیل پارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم مودی کی قیادت میں ملک کی اقتصادی حالت بہتر ہوئی ہے۔
 اس ہنگامہ آرائی کے بعد بھی ملکارجن کھرگے اپنے موقف پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کچھ غلط نہیں کہا۔ انہوں نے گجرات میں بی جے پی حکومت پر غلط حکمرانی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اسے بے دخل کرنے کا یہ صحیح وقت ہے۔ اس حوالے سے ایک ٹویٹ میںکھرگے نے کہا کہ ’’اب تبدیلی کا وقت ہے۔ بی جے پی کے۲۷؍ سال کی غلط حکمرانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں کیونکہ  یہ گجرات کی تعمیر نو کا وقت  ہے۔‘‘

congress Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK