فلسطینی چرچ کمیٹی نے دنیا بھر کے گرجا گھروں کو اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں سے تحفظ کیلئے مدد کی اپیل کی ہے۔ کمیٹی نے عالمی سطح پر گرجا گھروں کو ایک خط لکھا، جس میں اسرائیلی آباد کاروں کے بڑھتے حملوں کا ذکر کیا ہے۔
EPAPER
Updated: February 03, 2026, 1:47 PM IST | Istanbul
فلسطینی چرچ کمیٹی نے دنیا بھر کے گرجا گھروں کو اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں سے تحفظ کیلئے مدد کی اپیل کی ہے۔ کمیٹی نے عالمی سطح پر گرجا گھروں کو ایک خط لکھا، جس میں اسرائیلی آباد کاروں کے بڑھتے حملوں کا ذکر کیا ہے۔
فلسطین کی ایک چرچ کمیٹی نے اتوار کو خبردار کیا ہے کہ گرجا گھروں اور عیسائیوں پر اسرائیلی آبادکاروں کے حملے بڑھتے جا رہے ہیں اور عیسائیوں سمیت فلسطینی شہریوں کے تحفظ کیلئے دنیا بھر کے گرجا گھروں کو فوری اقدامات کی تاکید کی ہے۔ فلسطینی صدارتی اعلیٰ کمیٹی برائے چرچ امورنے ایک خط میں دنیا بھر کے تمام گرجا گھروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی کنارے کے متعدد علاقوں برزیت، طیبہ اور عین عریک میں غیر قانونی آباد کاروں کی تعداد اور ان کے حملے حد سے زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ کمیٹی نے کہا کہ ان حملوں میں جسمانی حملے اور زمینوں پر زبردستی قبضے شامل ہیں، جن کا مقصد آباد کاروں کی توسیع، غیر قانونی چوکیوں میں اضافہ، علاقے کو جغرافیائی اعتبار سے تبدیل کرنا اور مکینوں کو زبردستی بے گھر کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بلوچستان میں شدید جھڑپیں، پاکستان کا ہندوستان پر الزام، ہندوستان کی سخت تردید
کمیٹی نے کہا کہ یہ کوئی علاحدہ واقعہ نہیں ہے بلکہ ان حملوں کو اسرائیلی فوجیوں کی حمایت حاصل ہے۔ کالونائزیشن اینڈ وال زیزسٹنس کمیشن کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کمیٹی نے کہا کہ غیر قانونی آباد کاروں نے ۲۰۲۵ء میں ۴؍ ہزار ۷۲۳؍ سے زیادہ حملے کئے تھے۔ یہ تنبیہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں وسیع پیمانے پر اسرائیلی کارروائیوں کے درمیان کی گئی ہے، جس میں غزہ میں گھروں کی مسماری، نقل مکانی اور فوجی کارروائیاں شامل ہیں، جسے کمیٹی نے اجتماعی تشدد اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ واضح ہو کہ یہ کمیٹی ۲۰۱۲ء میں صدارتی حکم نامے کے ذریعے قائم کی گئی تھی اور یہ تنظیم آزادی فلسطین سے وابستہ ہے۔ فلسطینیوں کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۲۴ء کے آخر تک مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں کی تعداد ۱۸۰؍ سے زائد بستیوں اور ۲۵۶؍ بستیوں میں ۷؍ لاکھ ۷۰؍ ہزار تک پہنچ گئی۔ اقوام متحدہ نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں اور دو ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کی بندرعباس بندرگاہ پردھماکے کے بعد ایرانی نیول کمانڈر کے قتل کی افواہیں
فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اب تک اسرائیلی افواج اور غیر قانونی آباد کاروں نے مشرقی یروشلم سمیت مغربی کنارے میں کم از کم ایک ہزار ۱۱۰؍ فلسطینیوں کو ہلاک اور کم از کم ۱۱؍ ہزار ۵۰۰؍ کو زخمی کیا ہے۔ عالمی عدالت انصاف نے جولائی ۲۰۲۴ء میں ایک تاریخی رائے میں فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کے قبضے کو غیر قانونی قرار دیا اور مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں تمام بستیوں کو خالی کرنے کا مطالبہ کیا۔