ممتا بنرجی کا سنسنی خیز الزام ، جھارکھنڈ میں بنگالی مزدور کی موت پر مرشد آباد میں پُرتشدد مظاہروں پرتحمل کی اپیل کی ، مہاجر مزدوروں کے اہل خانہ کی مدد کا وعدہ بھی کیا
EPAPER
Updated: January 17, 2026, 8:39 AM IST | Kolkata
ممتا بنرجی کا سنسنی خیز الزام ، جھارکھنڈ میں بنگالی مزدور کی موت پر مرشد آباد میں پُرتشدد مظاہروں پرتحمل کی اپیل کی ، مہاجر مزدوروں کے اہل خانہ کی مدد کا وعدہ بھی کیا
جھارکھنڈ میں بنگالی مزدور کی موت کے خلاف مرشد آباد میں پُرتشدد احتجاج کے بیچ جمعہ کو مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے متنبہ کیا کہ بی جےپی بنگال میں فساد بھڑکا کر اسمبلی الیکشن جیتنا چاہتی ہے۔اس کےساتھ ہی انہوں نے الزام لگایا کہ بنگال کے مہاجر مزدوروں کو بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں میں صرف اس لئے تشدد اور ہراسانی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ وہ بنگالی بولتے ہیں۔ شمالی بنگال میں انتظامی پروگرام میں شرکت کیلئے روانہ ہوتے ہوئے ممتا بنرجی نے مرشدآباد کے بیل ڈانگا میںاحتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے اقلیتی برادری کے غم و غصے کو ’’جائز‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج مہاجر مزدوروں کے خلاف ملک بھر میں بار بار تشدد کی وارداتوں کا نتیجہ ہے۔بیل ڈانگا سے تعلق رکھنے والے ۳۰؍ سالہ علاء الدین شیخ جو جھارکھنڈ میں پھیری کرتے تھے، کی لاش ان کے کمرے میں چھت سے لٹکتی ہوئی ملی ہے ۔ جھاکھنڈ میں علاء الدین کی اس موت کو ان کے اہل خانہ اور بیل ڈانگہ کے مقامی افراد خود کشی ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ پہلے علاء الدین کومارا پیٹا گیا اور جب ان کی جان نکل گئی تو قتل کا الزام چھپانے کیلئے لاش کو پھندہ سے لٹکا دیاگیا۔
کولکاتا ایئر پورٹ پر صحافیوں سے بات چیت میں ایک سوال پرممتا بنرجی نے کہا کہ ’’بنگال کے مہاجر مزدوروں کو صرف بنگالی زبان بولنے کی وجہ سے بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں اذیت دی جا رہی ہے۔ یہ غیر قانونی ہے اوریہ جاری نہیں رہ سکتا۔ ہم ان کے خاندانوں کے ساتھ ہیں جن کے اہل خانہ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘‘ انہوں نے مرشد آباد کے مظاہروں کے پس منظر میں عوام سے امن برقرار رکھنے اور اشتعال انگیزی میں نہ آنے کی اپیل بھی کی۔بیل ڈانگا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے بنرجی نے الزام لگایا کہ بدامنی جان بوجھ کر بھڑکائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ’’آپ جانتے ہیں کہ بیل ڈانگا میں کون اشتعال دلا رہا ہے۔ میں کسی کا نام نہیں لینا چاہتی۔ میں سب سے اپیل کرتی ہوں کہ پرسکون رہیں اور اشتعال میں نہ آئیں۔‘‘ عوامی احتجاج کو جائز ٹھہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’وہ(مسلمان) جمعہ کو جمع ہوتے ہیں، جو ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔ ہماری درگا پوجا اور شیوراتری میں بھی بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوتے ہیں۔ کیا میں اسے روک سکتی ہوں؟ ان کا غصہ قابلِ فہم ہے۔ میں خود بھی بنگالی مزدوروں کو مسلسل نشانہ بنائے جانے سے پریشان ہوں۔ ہم تمام مذاہب کے درمیان ہم آہنگی پر یقین رکھتے ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ مرشدآباد میں مظاہرین نے جمعہ کو روز قومی شاہراہ نمبر ۱۲؍ کو بلاک کر دیا اور ٹائر نذرِ آتش کئے جس سے گاڑیوں کی آمدورفت متاثر ہوئی۔ اس کے علاوہ مظاہرین نے بیل ڈانگا ریلوے اسٹیشن پر ٹرینوں کی آمدورفت بھی متاثر کی۔مظاہرین نے ریل کی پٹریوں پر بیٹھ کر گھنٹوں احتجاج کیا۔ ممتا بنرجی نے کہاکہ ’’ہم نے اس واقعہ کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ مقدمےدرج ہوئے ہیں ۔ مہاجر مزدوروں کی مدد بھی کی جارہی ہے۔‘‘