دو مرتبہ کی اولمپک تمغہ یافتہ بیڈمنٹن اسٹار پی وی سندھُو نے ایران۔اسرائیل تنازع کے دوران دبئی میں پھنس جانے کے اپنے خوفناک تجربے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ بالآخر آل انگلینڈ اوپن بیڈمنٹن چیمپئن شپ میں شرکت پر حفاظت کو ترجیح دینی پڑی۔
EPAPER
Updated: March 04, 2026, 1:25 PM IST | Dubai
دو مرتبہ کی اولمپک تمغہ یافتہ بیڈمنٹن اسٹار پی وی سندھُو نے ایران۔اسرائیل تنازع کے دوران دبئی میں پھنس جانے کے اپنے خوفناک تجربے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ بالآخر آل انگلینڈ اوپن بیڈمنٹن چیمپئن شپ میں شرکت پر حفاظت کو ترجیح دینی پڑی۔
دو مرتبہ کی اولمپک تمغہ یافتہ بیڈمنٹن اسٹار پی وی سندھُو نے ایران۔اسرائیل تنازع کے دوران دبئی میں پھنس جانے کے اپنے خوفناک تجربے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ بالآخر آل انگلینڈ اوپن بیڈمنٹن چیمپئن شپ میں شرکت پر حفاظت کو ترجیح دینی پڑی۔ سندھُو نے بتایا کہ وہ ۲۸؍ فروری کو دوپہر تقریباً ایک بجے آئرلینڈ جاتے ہوئے دبئی پہنچی تھیں، لیکن چند ہی منٹ بعد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث پروازیں معطل کر دی گئیں اور فضائی حدود بند کر دی گئی۔
انہوں نے کہاکہ ’’میڈیا کے بہت سے لوگوں نے پیغامات بھیج کر میری خیریت دریافت کی، یہ ان کی مہربانی تھی۔‘‘ ان کے مطابق ایئرپورٹ کی صورت حال تیزی سے افراتفری میں بدل گئی۔ سندھُو نے کہاکہ ’’میں ایک بجے اتری اور ڈیڑھ بجے تک تمام پروازیں معطل ہو چکی تھیں۔ پہلے تاخیر کا کہا گیا، پھر بتایا گیا کہ فضائی حدود بند ہیں۔ ہمیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ وہ لمحہ انتہائی دباؤ والا تھا۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ ان کے چند ساتھی کھلاڑی، جن میں ڈبلز اور سنگلز کے پلیئرز شامل تھے، چند گھنٹے پہلے دبئی سے گزرے تھے اور بحفاظت برمنگھم پہنچ گئے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’’بس وہی چند گھنٹوں کا فرق تھا۔ اگر میں پہلے روانہ ہوتی تو پہنچ جاتی۔‘‘فضا کو کشیدہ اور غیر یقینی قرار دیتے ہوئے سندھُو نے کہا کہ مسافروں کو کئی گھنٹوں تک انتظار کروایا گیا، پھر بتایا گیا کہ انہیں ٹرانزٹ ہوٹل منتقل کیا جائے گا۔ امیگریشن کاؤنٹر عارضی طور پر بند تھے اور ایئرپورٹ ٹرینیں بھی نہیں چل رہی تھیں۔مختلف ممالک کی پروازیں منسوخ ہو چکی تھیں۔ ہر طرف افراتفری تھی۔
یہ بھی پڑھئے:’’سیارہ‘‘ کے وائرل آئی وی ڈرپ کلپ پر آہان پانڈے کا ردعمل
سندھُو نے بتایاکہ اسی دوران ان کے کوچ نے ایئرپورٹ کے قریب ایک زور دار آواز کی اطلاع دی۔ انہوں نے فون کر کے بتایا کہ ایک زوردار دھماکے جیسی آواز آئی - معلوم نہیں دھماکہ تھا، ملبہ تھا یا ڈرون۔ وہ تقریباً سو میٹر کے فاصلے پر تھا۔ وہ لمحہ واقعی خوفناک تھا۔‘‘ہوٹل میں قیام کے دوران بھی موبائل فون پر ہنگامی الرٹس موصول ہوتے رہے جن میں مہمانوں کو کمرے کے اندر رہنے اور کھڑکیوں سے دور رہنے کی ہدایت دی گئی۔ پانچ یا چھ مرتبہ ہم نے تیز آوازیں سنیں۔ ہر روز کہا جاتا کہ آج ایئرپورٹ بند ہے، کل بھی بند رہے گا۔ یہ سب بہت خوفناک تھا۔
یہ بھی پڑھئے:میسور:شاندار تاریخ اور عمدہ محلات کا حامل شہراپنی مثال آپ ہے
سابق عالمی چیمپئن نے بتایا کہ انہوں نےآل انگلینڈ اوپن بیڈمنٹن چیمپئن شپ میں شرکت کے لیے لندن پہنچنے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن کوئی پرواز دستیاب نہ ہو سکی۔ انہوں نے کہا ’’ایک طرف میرا ٹورنامنٹ چھوٹ رہا تھا اور دن گزرتے جا رہے تھے، لیکن دوسری طرف حفاظت سب سے اہم ہے۔ میں نے لندن پہنچنے کے ہر ممکن راستے تلاش کیے، مگر کامیابی نہیں ملی۔‘‘سندھُو نے آخر میں کہاکہ ’’افسوس ہے کہ میں کھیل نہ سکی، مگر جیسا کہ میں نے کہا، حفاظت پہلے ہے۔ میں اب بحفاظت ہندوستان واپس آ چکی ہوں اور سب کچھ ٹھیک ہے۔‘‘