Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی حکومت نے ہندی ادبی ایوارڈز کا نام ساورکر اور واجپئی کے نام پر رکھ دیا

Updated: June 12, 2026, 5:03 PM IST | New Delhi

دہلی حکومت نے ہندی ادبی ایوارڈز کا نام ساورکر اور واجپئی کے نام پر رکھ دیا، اس کے علاوہ سابق بی جے پی لیڈر وجے کمار ملہوترا کے نام پر نئے اعزازات بھی متعارف کروائے گئے ہیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این

دہلی حکومت کی ہندی اکیڈمی نے اپنے متعدد ادبی ایوارڈز کے نام ہندوتوا سے منسلک شخصیات کے نام پر تبدیل کر دیئے ہیں، جن میں ونائک دامودر ساورکر، پنڈت دین دیال اپادھیائے اور مدموہن  مالویہ شامل ہیں۔ ساتھ ہی سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی اور سابق بی جے پی لیڈر وجے کمار ملہوترا کے نام پر نئے اعزازات بھی متعارف کروائے گئے ہیں۔اکیڈمی کا سب سے بڑا اعزاز ’’ہندی اکیڈمی شالکا سمّان‘‘ اب ’’پنڈت دین دیال اپادھیائے شالکا سمّان‘‘کہلائے گا۔ساتھ ہی اس ایوارڈ کی نقد رقم پانچ لاکھ سے بڑھا کر سات لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’اب ہندو مسلم کی سیاست ترک کر دیجئے‘‘

اس کے علاوہ نئے قائم کردہ ’’اٹل بہاری واجپئی بھارتیہ سنسکرتی اور گیان پرمپرا سمّان‘‘ کا مقصد ہندوستانی ثقافت اور علم کی روایات کو فروغ دینا ہے، اس ایوارڈ کی رقم پانچ لاکھ روپے ہے۔اسی طرح قومی بیداری کے لیے ’’ویر ساورکر سمّان‘‘، ’’سنت روی داس ساہتیہ سمّان‘‘ اور خواتین ادیبوں کے لیے ’’رانی اہلیا بائی ہولکر سمّان‘‘ میں سے ہر ایک کی نقد رقم دو لاکھ روپے ہے۔خواتین کے ادب کا یہ اعزاز پہلے سنتوش کولی کے نام پر تھا، جو ایک انسداد بدعنوانی کارکن تھیں اور ایک سڑک حادثے میں انتقال کر گئی تھیں۔ یہ ایوارڈ عام آدمی پارٹی حکومت نے ان کی یاد میں قائم کیا تھا۔ مزید برآں اکیڈمی نے ایک لاکھ روپے کے دیگر ایوارڈز کا بھی اعلان کیا ہے، جن میں ’’پنڈت مدن موہن مالویہ ہندی ساہتیہ کار سمّان‘‘، بچوں کے ادب کے لیے ’’بابا جوراور سنگھ سمّان‘‘، ’’سوامی وویکانند یووا پرتبھا سمّان‘‘، ہندی صحافت کے لیے’’ودیا نواس مشرا سمّان‘‘ اور ہندی کے فروغ میں تعاون پر ’’ڈاکٹر وجے کمار ملہوترا ہندی سووی سمّان‘‘ شامل ہیں۔دیگر اعزازات میں ہندی ترجمہ کے لیے ’’نرمل ورما سمّان‘‘، ’’رام چندر شکلا ہندی اتکرش سمّان‘‘، لوک ادب کے لیے’’ واسودیو شرن اگروال سمّان‘‘، سائنس، معاشیات، تاریخ اور سماجیات جیسے مضامین پر تحریر کے لیے ’’دیویندر سوروپ سمّان‘‘، خواتین مصنفات کے لیے ’’مریدولا سنہا سمّان‘‘ اور ادبی اصناف میں تعاون پر’’نریندر کوہلی سمّان‘‘شامل ہیں۔دریں اثناء ہندی اکیڈمی نے تعلیمی سال ۲۰۲۲ء-۲۳ء، ۲۰۲۳ء -۲۴ء، ۲۰۲۴ء-۲۵ء اور ۲۰۲۵ء-۲۶ء کے لیے درخواستیں طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہلی-این سی آر کے اہل ادیب، شاعر اور صحافی۲۳؍ جون تک درخواست دے سکتے ہیں۔ ’’ساہتیہ کار سمّان یوجنا‘‘ کے تحت کل۱۶؍ ایوارڈ دیئے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھئے: اتر پردیش کی یونیورسٹیوں میں ’’اینٹی کنورژن سیلز‘‘ قائم کرنے کا حکم، شدید تنقید

بعد ازاں صحافی اور ایڈیٹر پنکج چترویدی نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بی جے پی نے ادبی اعزازات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اپنی ارزاںسیاست میں بی جے پی نے مصنفین اور صحافیوں کی تذلیل کرنے سے بھی گریز نہیں کیا۔‘‘ واضح رہے کہ ساورکر کو ہندوتوا کا کلیدی نظریہ داں اور ہندو مہاسبھا کے سابق لیڈر کے طور پر جانا جاتا ہے، جبکہ دین دیال اپادھیائے آر ایس ایس پرچارک اور بھارتیہ جن سنگھ (بی جے پی کے پیش رو) کے اہم مفکر تھے۔ مالویہ، بنارس ہندو یونیورسٹی کے بانی، ہندو احیائی تحریکوں سے وابستہ تھے اور ہندو مہاسبھا کے رہنما بھی رہے۔ واجپے یٰی طویل عرصے تک آر ایس ایس کے رکن، سابق جان سنگھ رہنما اور بی جے پی کے شریک بانی تھے، جبکہ ملہوترا بی جے پی کے سینئر سیاستدان اور دہلی میں پارٹی کے ممتاز لیڈروں میں سے ایک تھے۔

یہ بھی پڑھئے: گھریلو خواتین کو ’ہوم میکر‘ نہ کہو وہ معمارِ قوم ہیں: سپریم کورٹ

علاوہ ازیں یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ناقدین طویل عرصے سے بی جے پی پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ وہ ہندوتوا نظریے اور ہندو قوم پرست تحریکوں سے وابستہشخصیات کو فروغ دے کر تعلیمی، ثقافتی اور عوامی اداروں کا’’بھگوا کرن‘‘کر رہی ہے۔ جبکہ اس طرح کے الزامات پہلے بھی این سی ای آر ٹی کی نصابی کتب میں نظر ثانی، تعلیمی اداروں میں آر ایس ایس اور اس سے منسلک تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعیناتی، سڑکوں، اسکیموں اور اداروں کے نام تبدیل کرنے، اور ساورکر، دین دیال اپادھیائے اور سنگھ پریوار کے دیگر لیڈروں کو عوامی یاد داشت میں اجاگر کرنے کی کوششوں پر سامنے آتے رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK