Inquilab Logo Happiest Places to Work

اتر پردیش کی یونیورسٹیوں میں ’’اینٹی کنورژن سیلز‘‘ قائم کرنے کا حکم، شدید تنقید

Updated: June 12, 2026, 2:19 PM IST | Lucknow

اتر پردیش حکومت نے ریاست کی تمام سرکاری یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مذہب تبدیلی کی روک تھام کیلئے خصوصی ’’اینٹی کنورژن سیلز‘‘قائم کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام طلبہ کو مبینہ جبر اور غیر اخلاقی ذرائع سے مذہب تبدیل کرنے کی کوششوں سے بچانے کیلئے کیا جا رہا ہے، جبکہ اپوزیشن نے اسے سیاسی اور فرقہ وارانہ اقدام قرار دیا ہے۔

Uttar Pradesh Governor Anandiben Patel. Photo: INN
اتر پردیش کی گورنر آنندی بین پٹیل۔ تصویر: آئی این این

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے زیرِ اقتدار ریاست اتر پردیش کی تمام سرکاری یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کو ’’دھرمانترن روک تھام سیلز‘‘ (مذہب تبدیلی روکنے کے سیلز) قائم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ گورنر آنندی بین پٹیل کے سیکریٹریٹ کی جانب سے۲۸؍ مئی کو جاری کئے گئے ایک خط میں تمام ریاستی یونیورسٹیوں ، تعلیمی اداروں اور اعلیٰ تعلیمی مراکز، بشمول طبی تعلیمی اداروں، کے وائس چانسلرز اور ڈائریکٹرز کو ہدایت دی گئی کہ وہ مشاورتی خدمات، نگرانی کے نظام، طلبہ کی فلاح و بہبود کے انتظامات، رپورٹنگ کے طریقۂ کار اور حفاظتی اقدامات کو مزید مضبوط بنائیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: گھریلو خواتین کو ’ہوم میکر‘ نہ کہو وہ معمارِ قوم ہیں: سپریم کورٹ

خط میں کہا گیا کہ یہ اقدامات ان الزامات کے بعد کئے جا رہے ہیں جن کے مطابق بعض طلبہ کو مراعات، نفسیاتی دباؤ یا دیگر غیر اخلاقی ذرائع کے ذریعے مذہب تبدیل کرنے پر آمادہ کیا جا رہا ہے۔ گورنر کی یہ ہدایت لکھنؤ کی کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی سے متعلق گزشتہ دو برسوں کے دوران ہونے والی تحقیقات کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جن میں کیمپس سے مبینہ طور پر ایک ’لو جہاد‘ نیٹ ورک چلائے جانے کے دعوے کئےگئے تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: شتروگھن سنہا نے خاموشی توڑی، کہا ’’مشکل وقت میں ممتا کو چھوڑ کر نہیں جاؤں گا‘‘

بتا دیں کہ ’لو جہاد‘ ہندوتوا نظریے سے وابستہ ایک سازشی تصور ہے، جس کے مطابق مسلمان مرد ہندو خواتین کو محبت یا رومانوی تعلقات کے ذریعے اسلام قبول کروانے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم، ہندوستان کی مرکزی وزارتِ داخلہ پارلیمنٹ کو بتا چکی ہے کہ ملکی قوانین میں ’لو جہاد‘ کی کوئی قانونی تعریف یا شق موجود نہیں ہے۔ بی جے پی نے اس اقدام کی حمایت کرتے ہوئے اسے طلبہ کو جبر اور دباؤ سے بچانے کیلئے ضروری قرار دیا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعت سماجوادی پارٹی نے حکومت پر معاشرے کو مزید تقسیم کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے۔ سماجوادی پارٹی کے ترجمان عباس حیدر نے ہندستان ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’اگر گورنر واقعی اتنی فکر مند ہیں تو انہیں سب سے پہلے ایک اینٹی بی جے پی سیل قائم کرنا چا ہئے، کیونکہ خیرات گھر سے شروع ہوتی ہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس دونوں فرقہ وارانہ تقسیم پیدا کر رہے ہیں۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: مانسون بہار پہنچ گیا، یوپی میں بھی طوفانی بارش

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اس قسم کے اقدامات کے بجائے ریاست میں طبی تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے پر توجہ دے۔ اتر پردیش میں ملک کے سخت ترین انسدادِ مذہب تبدیلی قوانین میں سے ایک نافذ ہے۔ جولائی ۲۰۲۴ءمیں اتر پردیش اسمبلی نے ’اتر پردیش غیر قانونی مذہب تبدیلی ممانعت (ترمیمی) بل ۲۰۲۴ء‘‘منظور کیا تھا۔ ۲۰۲۱ءکے قانون میں کی گئی اس ترمیم کے تحت اب کوئی بھی شخص شکایت درج کرا سکتا ہے، جرائم کی سزاؤں میں اضافہ کیا گیا ہے اور ضمانت حاصل کرنے کیلئے مزید سخت شرائط عائد کی گئی ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK