آج نتائج ،تقسیم کے بعد دونوں شیو سینا، ٹھاکرے برادران اور این سی پی کے دونوں گروپس میں وقار کی جنگ ، مختلف اگزٹ پول میں مہایوتی کو سبقت ، ریاست کی دیگر بلدیہ میں بھی سخت مقابلہ متوقع
EPAPER
Updated: January 15, 2026, 10:48 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbai
آج نتائج ،تقسیم کے بعد دونوں شیو سینا، ٹھاکرے برادران اور این سی پی کے دونوں گروپس میں وقار کی جنگ ، مختلف اگزٹ پول میں مہایوتی کو سبقت ، ریاست کی دیگر بلدیہ میں بھی سخت مقابلہ متوقع
ملک کی سب سے امیر بلدیہ برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن(بی ایم سی) کے ۲۲۷؍ وارڈوں کیلئے تقریباً ۹؍سال کے طویل انتظار کے بعد جمعرات کو ووٹنگ عمل میں آئی ۔ممبئی کے ۱۰؍ ہزار ۲۳۱؍ پولنگ سینٹروں میںپر پولنگ کا عمل صبح ساڑھے ۷؍ تا شام ساڑھے ۵؍ بجے تک جاری رہا۔ ہر بار کی طرح اس مرتبہ بھی اقلیتی علاقوں میں کافی جوش و خروش کے ساتھ ووٹرس نے پولنگ میں حصہ لیا۔ جن علاقوں میں جوش و خروش دیکھا گیا ان میں بائیکلہ، دھاراوی، کرلا،باندرہ، چیتاکیمپ، گوونڈی، وڈالا ، جوگیشوری اور دیگر علاقے شامل ہیں۔ ان علاقوں میں نہ صرف نوجوانوں نے بلکہ معمر افراد، بیمار افراد اور خواتین نے بھی ووٹنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔الیکشن کمیشن کی فراہم کردہ اطلاع کے مطابق ممبئی میں شام ساڑھے ۳؍ بجے تک مجموعی طور پر ۴۱ء۰۸؍فیصد پولنگ درج کی گئی تھی۔ ممبئی سمیت ریاست کی کسی بھی کارپوریشن میں پولنگ کا حتمی فیصد خبر لکھے جانے تک موصول نہیں ہوا تھا ۔
دریں اثناء ممبئی کے ووٹروں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرتے ہوئے ۱۷۰۰؍امیدواروں کی قسمت کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین میں بندکر دیا ہے۔ ان امیدواروں میں ۸۲۲؍ مرد اور ۸۷۸؍خواتین ہیں۔ آج (۱۶؍ جنوری ) صبح ۱۰؍بجے سے شہر میں گنتی کے ۲۳؍ مراکز پر ووٹوں کی گنتی ہو گی اور توقع ہے کہ دوپہر تک یہ صاف ہو جائے گاکہ ملک کی سب سے بڑے بجٹ والی امیر ترین شہری بلدیہ کی چابی کس کے پاس رہے گی ۔
واضح رہے کہ بی ایم سی میںگزشتہ ۲۰؍ برسوں سے شیو سینا (ادھو )کا اقتدار رہا ہےلیکن شیو سینا اور این سی پی کے تقسیم ہونے کے بعد یہ پہلا بی ایم سی الیکشن ہے ۔اسی لئے اس الیکشن کو دونوں شیو سینا ( ادھو اور ایکناتھ شندے) اور دونوں این سی پی( شرد اور اجیت پوار) کے وقار کی جنگ قرار دیا جارہا ہے۔بی ایم سی انتخابات میں ادھو اور راج ٹھا کرے این سی پی (شرد) کے ساتھ اتحاد میں چناؤ لڑ رہے ہیں۔ان کا مقابلہ بی جے پی۔شیو سینا (شندے)اتحاد سے ہے جو ریاست میں برسر اقتدار ہیں۔ اس الیکشن میں کانگریس پارٹی ونچت بہوجن اگھاڑی کے ساتھ جبکہ این سی پی( اجیت ) علاحدہ الیکشن لڑرہی ہے۔
جمعرات کو ہونے والی پولنگ کے دوران مختلف قسم کی شکایتیں سامنے آئیں جن میںایک ہی خاندان کے افراد کا الگ الگ پولنگ سینٹر پر نام ، دیگر بدنظمی شامل ہے۔ اس بدنظمی سے ووٹروں کو شدید پریشانی ہوئی اس کے باوجود کئی ووٹروں نے پورے جوش کے ساتھ اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ اس دوران متعدد ایسی شکایتیں بھی ملیں جن میں الیکشن کمیشن کے ذریعے ووٹر کا پولنگ بوتھ غلط بتایا گیاکیونکہ جب ووٹر اس بوتھ پر پہنچا تو متعلقہ ووٹر لسٹ میں اس کا نام نہیں ملا جس کےبعد اسے دوسرے متوقع پولنگ سینٹر پر بھیجا گیا اسی طرح ووٹر ایک پولنگ سینٹر سے دوسرے پولنگ سینٹر گھومتے رہے۔ اس طرح کی شکایت ممبئی کے متعدد علاقوں سے ملی اور ممبئی کانگریس کی صدر ورشا گائیکواڑ نے اس کی تصدیق کی اور کانگریس کے رضاکاروں سے درخواست کی کہ وہ ووٹروں صحیح پولنگ سینٹر معلوم کر کے انہیں ووٹنگ کرنے میں مدد کرے۔ اس الیکشن میں ایسے ووٹروں کا معاملہ تنازع کا سبب تھا جن کا نام ووٹر لسٹ میں ایک سے زیادہ مرتبہ آیا ہے۔ ایسے رپیٹ ووٹر کے نام کے سامنے دو اسٹار ( **) لگا ئے گئے تھےاور جب وہ پولنگ بوتھ پر پہنچے تو ان سے پہلے حلف نامہ اور فارم پُر کروایا گیاکہ وہ اسی سینٹر پر ووٹنگ کریں گے ۔ان کے دو شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد حق رائے دہی کا استعمال کرنے کی اجازت دی گئی۔
ممبئی میونسپل کارپوریشن کے الیکشن کے ووٹوں کی گنتی کا عمل جمعہ کو صبح ۱۰؍ بجے سے مختلف مقامات پرقائم کئے گئے ۲۳؍مراکز پر ہوگا ۔گنتی کا عمل الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ہدایات کے مطابق اور ماڈل ضابطہ اخلاق کی سختی سے پیروی کرتے ہوئے مکمل کیا جائے گا