• Fri, 16 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جامعہ تجویدالقرآن اینڈ نورمہر ہائی اسکول کی سلور جوبلی تقاریب کا شاندار انعقاد

Updated: January 15, 2026, 10:42 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

تقاریب میںجامعہ کے ۲۵؍سالہ تعلیمی سفر کا احاطہ کیا گیا۔ ممبئی ،تھانے ،پال گھر اوررائے گڑھ کے دینی اداروں کے ۴۲۱؍طلبہ کے مابین مسابقۃ القرآن منعقد کیا گیا۔ علماء اوراہم شخصیات کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی خدمت میں گرانقدر ایوارڈ بھی پیش کیا گیا

Maulana Sufyan Qasmi, Jamia head Syed Ali Hussain, Mufti Muhammad Shafiq Barodvi, Mufti Ansar Qasmi and Mufti Huzaifa Qasmi, etc. are seen at the silver jubilee celebrations of the university (above).
جامعہ کی سلور جوبلی تقریبات میں(اوپر)مولانا سفیان قاسمی ،جامعہ کےسربراہ سید علی حسین ،مفتی محمدشفیق بڑودوی ، مفتی انصار قاسمی اورمفتی حذیفہ قاسمی وغیرہ نظر آرہے ہیں

جامعہ تجویدالقرآن اینڈ نور مہر ہائی اسکول،مہاڈا کالونی ،ملاڈ ،ممبئی دینی اورعصری علوم کا حسین امتزاج ہے ۔ جامعہ کے قیام کے ۲۵؍سال مکمل ہونے پر سلور جوبلی تقاریب کا انعقاد کیا گیاجن میں ادارہ کی  ۲۵؍سالہ تعلیمی خدمات پرروشنی ڈالی گئی۔ نور مہر چیریٹیبل ٹرسٹ کے زیر انتظام ۲۰۰۱ء میں اس ادارہ کا قیام عمل میں آیاتھا۔سلور جوبلی پرحفاظ کی دستار بندی اور ایس ایس سی میں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کوانعامات سے نوازا گیا۔ تقریب کا دوسرا مرحلہ ۱۰؍اور۱۱؍ جنوری کو مسابقۃ القرآن، قرأت قرآن،  اذان، خطبہ ٔجمعہ ، حمد ونعت ، اردو، انگریزی اور مراٹھی زبانوں میں تقاریر پر مشتمل تھا۔ اس میںمجموعی طور پر ممبئی، تھانے، پال گھر اور رائے گڑھ کے تقریبا۸۰؍ دینی اداروں کے۴۲۱؍ طلبہ نے حصہ لیا۔
 گزشتہ ۲۵؍سال میں یہاں تربیت حاصل کرنے والے ہربیچ سے ایک ایک طالب علم اورمجموعی طور پر۲۷؍ طلبہ نے ’میں مدرسہ ہوں‘ کے عنوان پرمنفرد انداز میں اظہار خیال کیا ۔ہر طالب علم مخصوص ٹی شرٹ پہنے ہوئے تھا جس پر سنِ فراغت نمایاں کیاگیا تھا۔اس موقع پر جامعہ کی جانب سے ۲۵؍سالہ کارکردگی ، طلبہ کی کامیابی اور ۱۹۱؍ حفاظ طلبہ اور ایس ایس سی میں کامیاب ہونے والے۱۱۹؍ طلبہ کی تصویر کے ساتھ ، علماء، اہم سیاسی وسماجی شخصیات اور پولیس آفیسر کی نیک خواہشات پر مبنی سوینیر کا بھی اجراء عمل میں آیا اور جامعہ کی کارکردگی اور اس کی خدمات کا احاطہ کرتے ہوئے ایک ڈاکیومنٹری بھی پیش کی گئی۔
  اس تقریب کا ایک اہم مرحلہ وہ تھا جب ادارے کے سربراہ سید علی حسین کی تین صاحبزادیوں کے ذریعے بھجوایا گیا گلدستہ اور اس کے ساتھ ایک پیغام پڑھا گیا۔ اس میں لکھا تھا کہ ’’پاپا، ہمیں آپ پر فخر ہے، ۲۵؍سال کا یہ سفر آپ کی محنت، قربانی ، یکسوئی اور لگن کا ثمرہ ہے۔ ہم سب اس موقع پر آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم آپ کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں۔‘‘
 ادارے کے قیام کا مقصد اور آئندہ کے عزائم کے تعلق سے سید علی حسین سے نمائندۂ انقلاب کے استفسار پر ان کا کہنا تھاکہ ’’ والدین کے درجات کی بلندی ، دین کی خدمت اور قوم کے نونہالوں کی دینی اور عصری علوم کے ذریعے تربیت بنیادی مقصد ہے۔ آئندہ کے لئے ہمارا ارادہ یہ ہے کہ اپنے کاموں کو مزید توسیع دی جائے تاکہ مزیدطلبہ کی تربیت کانظم ہوسکے۔‘‘ انہوں نےیہ بھی بتایاکہ’’اس ادارے کو پروان چڑھانے میں ہماری اہلیہ کی کاوشوں کا خاص دخل ہے۔ وہ ادارے میںزیرتعلیم ۱۶۰؍طلبہ کو اپنی اولاد کا درجہ دیتے ہوئے ان کی تعلیم و تربیت، کھانے پینے اور رہائش وغیرہ کے تئیں ہمہ وقت فکرمندرہتی ہیںاوربلا ناغہ جامعہ آکرنظام کا جائزہ لیتی ہیں۔ ‘‘ سیدعلی حسین کے مطابق ’’جامعہ میںتعلیم کے تعلق سےنظام الاوقات اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ طلبہ دینی اور عصری علوم آسانی سے حاصل کرسکیں۔‘‘
جامعہ میںحسن انتظام اورطریقۂ تدریس قابل ستائش ہے
  مسابقۃ القرآن میں مہمان خصوصی کے طور پردارالعلوم (وقف) دیوبند کے مہتمم مولانا محمد سفیان قاسمی نے شرکت کی۔اس موقع پر مولانا نےاظہارخیال کرتے ہوئے ادارے کی کارگردگی، جامعہ کے سربراہ سید علی حسین عرف علی بھائی کی محنت، حسن انتظام اور دینی اور عصری علوم کے حسین امتزاج کے تعلق سے شب وروز کی ان کاوشوں کی ستائش کی اور کہا کہ ’’علم کی تقسیم نہیں کی جاسکتی،علم کی دو ہی قسم ہے علم نافع اور علم غیر نافع۔‘‘ مولاناسفیان قاسمی کے مطابق ’’سید علی حسین نے جو کوشش کی ہے اور جس طرح طلبہ نے دونوں علوم پر مشتمل اپنی بہترین صلاحیت اورعمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا وہ یقینا ًخوش آئند اوردور رس نتائج کا حامل ہے ۔ موجودہ دَور میں اس طرح کے اداروں کی اہمیت اور ضرورت سے کسی کو انکار نہیں ہوناچاہئے۔‘‘
  سلور جوبلی تقاریب میںمفتی عبدالرشید قاسمی (گجرات)  نے دستار بندی کے موقع پر، مفتی محمد حذیفہ قاسمی، مفتی محمد شفیق بڑودوی، مولانا محمد سجاد قاسمی، (دیوبند)، مفتی خواجہ معین الدین نذیری سبیلی اور مولانا زاہد خان قاسمی نے مسابقۃ القرآن میں اظہار خیال کیا ۔مفتی عبدالرشید قاسمی نے قرآن کریم سے حقیقی معنوں میں تعلق مضبوط کرنےپرزور دیا اور کہا کہ قرآن حکیم اللہ کا وہ مقدس کلام ہے جو زندگیوں کو تبدیل کردیتا ہے۔
 اس موقع قاری محمد طارق انور (چنئی)، قاری محمد خالد میواتی اور قاری بدر عالم نے قرأت کی جبکہ نظامت کے فرائض مولانا شمیم اختر ندوی نے انجام دی۔مسابقۃ القران، تقسیم انعامات اور دیگر تقاریب کے موقع پر مفتی عزیز الرحمن فتحپوری، قاری محمد صادق خان، مولانا عبدالسلام قاسمی، مفتی انصار قاسمی، مفتی حشمت اللہ، مولانا نوشاد صدیقی اور مولانا محمد رضوان قاسمی وغیرہ بھی اسٹیج پرجلوہ افروز تھے۔
طلبہ اور اداروں کو انعامات
 جامعہ کی سلور جوبلی تقاریب محض صلاحیتیوں کے اظہارتک ہی محدود نہیںتھی بلکہ طلبہ کو گراں قدر انعامات سے بھی نوازا گیا۔نور مہر چیریٹیبل ٹرسٹ کی جانب سے آل راؤنڈ پرفارمنس میں اول پوزیشن حاصل کرنے والے دارالعلوم سلیمانیہ (میراروڈ )کو ایک لاکھ روپے، دوسری پوزیشن حاصل کرنے والے جامعہ تجوید القرآن کو ۷۵؍ ہزار روپے اورتیسری پوزیشن حاصل کرنے والے دارالعلوم امام ربانی (نیرل) کو ۵۰؍ ہزار روپے نقد انعامات اور ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس موقع پرتعلیمی، سماجی اور دوسرے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو بھی نور مہر چیریٹیبل ٹرسٹ کی طرف سےایوارڈ سے نوازا گیا۔’نور مہر کار نامۂ حیات ایوارڈ‘ عائشہ احمد فاؤنڈیشن کی جانب سے مولانا عبدالقدوس شاکر حکیمی کودیا گیا ،یہ ایوارڈ ۷۵؍ ہزار روپے نقدرقم پر مشتمل تھا۔ اسکے ساتھ دوسرا ’نور مہر خدمات مدرسہ ایوارڈ‘مصطفیٰ خان زمیندار میموریل کی جانب سے مولانا نذیراحمد ندوی کو دیا گیا، یہ ایوارڈ ۲۵؍ ہزار روپے نقد رقم پر مشتمل تھا۔ اس کے علاوہ اول ،دوم اورسوم پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کے علاوہ اردو کا فروغ، طبی اور تدریسی خدمات کے علاوہ انگلش،اردو اور ڈیجیٹل میڈیا کے سینئرصحافیوں کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی۔ 
 جامعہ کے قیام کے ساتھ ہی ۲۰۰۱ء میں رجسٹریشن کرایا گیا اور باقاعدگی سے چیئریٹی کمیشن میں حساب کتاب پیش کئےجاتے ہیں ۔ادارہ کے سالانہ اخراجات پرخطیر رقم صرف ہوتی ہے مگر اس کیلئے عمومی چندہ نہیںکیا جاتا بلکہ جامعہ کےبانی، ان کے اہل خانہ اوراعزہ زکوٰۃ وصدقات اور عطیات کے ذریعے خصوصی تعاون کرتے ہیں اور ریاستی حکومت کی مدرسہ موڈرنائزیشن اسکیم سے بھی استفادہ کیاجاتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK