Updated: January 15, 2026, 10:13 PM IST
| Kuala Lumpur
سنگاپور کی پارلیمنٹ نے جھوٹی گواہی دینے کی پاداش میں حزب اختلاف لیڈر پریتم سنگھ کو ان کے عہدے سے برطرف کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اگرچہ سنگھ رکن پارلیمنٹ کے طور پر برقرار رہیں گے اور ورکرز پارٹی (ڈبلیو پی) کے جنرل سیکرٹری کے طور پر اپنی کارکردگی جاری رکھیں گے۔
سنگاپور کی پارلیمنٹ نےکو قائد حزب اختلاف کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے، جو پارلیمانی کمیٹی کے روبرو جھوٹی گواہی دینے کا جرم ثابت ہونے کے بعد آیا ہے۔ یہ فیصلہ بدھ۱۴؍ جنوری کو پارلیمانی اجلاس کے دوران کیا گیا، جہاں حکمران پیپلز ایکشن پارٹی (پی اے پی) کی اکثریت ہے۔ اگرچہ سنگھ رکن پارلیمنٹ کے طور پر برقرار رہیں گے اور ورکرز پارٹی (ڈبلیو پی) کے جنرل سیکرٹری کے طور پر اپنی کارکردگی جاری رکھیں گے، لیکن وہ حزب اختلاف کے قائد کے عہدے سے وابستہ مراعات سے محروم ہو جائیں گے، جن میں اضافی الاؤنس اور مباحثوں میں ترجیحی بولنے کے حقوق شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران احتجاج: ایران کی عدلیہ نے مظاہرین کی سزائے موت کی رپورٹس کی تردید کی
دریں اثناء وزیر اعظم لارنس وونگ نے جمعرات۱۵؍ جنوری) کو کہا کہ مجرم ہونے اور پارلیمانی ووٹ کو دیکھتے ہوئے، سنگھ کا اس عہدے پر برقرار رہنا مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورکرز پارٹی کسی دوسرے رکن پارلیمنٹ کو اس عہدے کے لیے پیش کر سکتی ہے۔ سنگھ نے اس عمل میں کسی بھی غلط کاری سے انکار کیا ہے اور اصرار کرتے ہیں کہ انہوں نے حسن نیت کے ساتھ عمل کیا۔ مباحثے کے دوران، انہوں نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا کہ ان کا رویہ بے ایمانی پر مبنی تھا، یہ کہتے ہوئے کہ ان کا ضمیر صاف ہے ساتھ ہی انہوں نے رکن پارلیمنٹ کے طور پر عوام کی خدمت کے عزم کا اظہار کیا۔بعد ازاں اس عہدے سے انہیں محروم کرنے کی تحریک تقریباً تین گھنٹے کی بحث کے بعد منظور ہو گئی، جس میں ورکرز پارٹی کے تمام۱۱؍ اراکین پارلیمنٹ نے ان کے خلاف ووٹ دیا۔جبکہ پارلیمنٹ نے بعد کی تاریخ میں ورکرز پارٹی کے دو دیگر اراکین کی حیثیت کی جانچ پڑتال پر بھی اتفاق کیا۔ ہاؤس لیڈر اندرانی راجہ، جنہوں نے یہ تحریک پیش کی، نے دلیل دی کہ سنگھ کے اقدامات نے پارلیمنٹ میں عوامی اعتماد کو مجروح کیا ہے اور ان پر ذمہ داری قبول نہ کرنے پرتنقید کی۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینیوں کیلئے سزائے موت کے بل کو ابتدائی منظوری
سنگھ کا مجرم ہونا قابل ذکر ہے، کیونکہ سنگاپور میں حزب اختلاف کے موجودہ اراکین پارلیمنٹ سے متعلق فوجداری مقدمات نایاب ہیں۔ وہ قائد حزب اختلاف کے رسمی عہدے پر مقرر ہونے والے پہلے شخص بھی تھے، یہ عہدہ۲۰۲۰ء میں تخلیق کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ سنگاپور کی حکومت پر ناقدین کی جانب سے پہلے بھی یہ الزامات لگتے رہے ہیں کہ قانونی اداروں کو سیاسی حریفوں کو دبانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے،حالانکہ ایسے الزامات کو حکام مسلسل مسترد کرتے آئے ہیں۔حالانکہ ورکرز پارٹی نے کہا کہ وہ اس معاملے پر غور کرے گی اور بعد میں جواب جاری کرے گی۔ پارٹی فی الحال پارلیمنٹ کی۱۰۸؍ میں سے۱۲؍ سیٹوں پر قابض ہے اور اس نے کہا ہے کہ وہ سنگھ کے اقدامات کی اپنی داخلی جانچ پڑتال کر رہی ہے۔