جمعہ کو خصوصی جنرل باڈی میٹنگ دوپہر ۲؍ بجے سے رات کو ۲؍ بجکر ۲۵؍ منٹ تک ۱۲؍ گھنٹے چلی جس میں ۴۴؍ کارپوریٹروں نے مانسون سے متعلق شکایات پر بحث کی۔
گزشتہ دنوں چمبور میں درخت گرنے کے سبب بس کی یہ حالت ہوگئی ہےجس کے نتیجےمیںایک موت ہوئی تھی-تصویر:آئی این این
جمعہ کو ’برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن‘ (بی ایم سی) کی خصوصی ’جنرل باڈی میٹنگ‘ ہوئی جو دوپہر ۲؍ بجے سے رات کو ۲؍ بجکر ۲۵؍منٹ تک چلی اور اس میں بی ایم سی افسر نے یہ اعتراف کیا کہ مانسوں کی تیاری ٹھیک طرح سے نہیں ہوسکی۔ گزشتہ ہفتے کی موسلا دھار بارش کے دوران مختلف حادثات میں ۱۱؍ اموات ہوئی ہیں جس کی وجہ سے کارپوریٹروں کے مطالبہ پر بی ایم سی کی مانسون کی تیاری کے موضوع پر ایک خصوصی جنرل باڈی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا تھا۔ چونکہ تقریباً ہر وارڈ میں بارش سے متعلق کوئی حادثہ پیش آیا ہے یا دیگر کوئی پریشانی ہے ،اس لئے میٹنگ میں موجود ۴۴؍ میونسپل کارپوریٹروں نے مانسون سے متعلق مسائل پر اپنی بات رکھی۔واضح رہے کہ بی ایم سی ہائوس میں جب کارپوریٹر اپنی بات رکھ لیتے ہیں تو وہاں موجود بی ایم سی افسر میئر کے کہنے پر ان باتوں کا جواب دیتے ہیں۔ میٹنگ کے اخیر میں جب میئر ریتو تائوڑے نے بی ایم سی کے ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مغربی مضافات) وپن شرما کو جواب دینے کو کہا تو انہوں نے اعتراف کیا کہ ’’ہماری کوششیں کم پڑ گئیں۔‘‘ تاہم انہوںنے یہ بھی کہا کہ، ’’ہمیں یہ کہتے ہوئے کوئی شبہ نہیں ہے کہ ہم آنے والے دنوں میں بہتر کام کریں گے۔‘‘اس میٹنگ کے درمیانی حصہ میں وپن شرما نے کارپوریٹروں کو ان اقدامات کی تفصیلات بتائی تھیں جو سڑکوں پر سیلابی صورتحال کی روک تھام کیلئے کئے گئے ہیں۔
اس افسر نے شہر و مضافات میں ہزاروں درخت اور بڑی شاخیں گرنے کے تعلق سے بھی تفصیلات فراہم کیں۔شہر و مضافات میں تقریباً ۴؍ ہزار ۵۰۰؍ کھلے مین ہول کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ حالت بہت خراب ہیں کیونکہ بار بار مین ہول کے ڈھکن چوری ہوجاتے ہیں۔ جب ان سڑکوں پر کوئی کام ہوتا ہے تب ان کھلے مین ہول کا پتہ چلتا ہے۔ البتہ جیسے ہی کوئی مین ہول کھلا پایا جاتا ہے اس پر ڈھکن لگا دیا جاتا ہے۔
درختوں کے بڑے پیمانے پر گرنے کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ اس کی مختلف وجوہات ہوتی ہیں جن میں درختوں کے اطراف سڑکوں کو سیمنٹ کنکریٹ کا بنا دیا جانا، زیر زمین پانی کی مقدار کم ہوجانا، درختوں کی جڑوں کے پاس کنکریٹ کی پکی زمین بنا دینے سے بارش کا پانی اس جگہ زمین میں داخل نہیں ہوپاتا اور درختوں کی جڑیں کمزور ہونے سے درخت گر جاتے ہیں۔ انہوں نے بی ایم سی کمشنر اشوینی بھڈے کے ذریعہ ۳؍ جولائی کو جاری کئے گئے سرکیولر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں شہر انتظامیہ کے روڈ انجینئروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تمام درختوں کا آڈٹ کریں اور درختوں کی بنیادوں کے پاس سے کنکریٹ کے پکے کام کو ختم کردیں۔
ان کے مطابق عوام کیلئےتعمیر کئے جارہے پروجیکٹ کی وجہ سے جو درخت کاٹ دیئے جاتے ہیں ان کی جگہ دیگر مقام پر درخت لگائے جاتے ہیں۔ موجودہ حالات کے پیش نظر ’ٹری اتھاریٹی‘ ماہرین کی ایک کمیٹی بنارہی ہے جس کو یہ ذمہ داری دی جارہی ہے کہ وہ درختوں کو بچانے، مانسون میں بڑی شاخوں کو کاٹنے اور ان کے مینٹیننس کیلئے گائیڈ لائن جاری کرے گی۔انہوں نے بتایا کہ ممبئی میں بی ایم سی کی زمین پر ۱۰؍ لاکھ ۶۰؍ ہزار جبکہ نجی زمینوں پر ۱۰؍ لاکھ ۵۵؍ ہزار درخت ہیں۔ ان کے علاوہ سڑکوں کے کناروں پر ایک لاکھ ۸۵؍ ہزار درخت لگے ہوئے ہیں۔ البتہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الوقت درختوں کو شمار کرنے کا عمل جاری ہے جو آئندہ ۲؍ برسوں میں مکمل ہونے کا امکان ہے۔ ان کے مطابق اس گنتی کے بعد ممبئی میں درختوں کی تعداد میں ۲۰؍ فیصد اضافہ ہونے کا امکان ہے۔