مہاراجہ ہری سنگھ پارک میں خطاب کے دوران وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے گزشتہ۲۱؍ ماہ کے دوران صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا لیکن اس کی خاموشی کو کمزوری سمجھ لیا گیا۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ جمو ںمیں جلسے کے دوران ۔تصویر:پی ٹی آئی
جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے یہ کہتے ہوئے کہ ’اب بہت ہو چکا‘، ریاستی درجہ کی بحالی کے مطالبے میں شدت لانے کیلئے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران ۲۰؍ جولائی سے ’دہلی چلو ‘تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کے عوام اب مزید اس بات کا انتظار نہیں کر سکتے کہ مرکز اپنا وعدہ کب پورا کرے گا۔جموں کے مہاراجہ ہری سنگھ پارک میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے گزشتہ۲۱؍ ماہ کے دوران صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا لیکن اس کی خاموشی کو کمزوری سمجھ لیا گیا۔انہوں نے کہا ’’کشمیر کے بعد آج جموں میں بھی اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم اب مزید ریاستی درجہ کی بحالی کا انتظار نہیں کر سکتے۔ ہماری خاموشی کو معمول سمجھ لیا گیا لیکن اب بہت ہو چکا ۔‘‘
وزیر اعظم نریندر مودی کے ریاستی درجہ کی بحالی سے متعلق وعدے کا حوالہ دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے مرکز کی بی جے پی حکومت پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا’’آپ کو وزیر اعظم مودی کا اپنا وعدہ پورا کرنا چاہئے جنہوں نے کہا تھا کہ یہ مودی کا وعدہ ہے۔ ہم خاموش رہے لیکن ہماری شرافت کو کمزوری سمجھا گیا، اس لیے اب ہم اپنے حقوق کیلئے سڑکوں پر آنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ جب بھی نیشنل کانفرنس نے ریاستی درجہ کی بحالی کیلئے کوئی وقت مقرر کرنے کا مطالبہ کیا تو ہر بار یہی جواب ملا کہ مناسب وقت پر ریاستی درجہ بحال کر دیا جائے گا۔عمر عبداللہ نے کہا کہ ہم جب بھی پوچھتے ہیں کہ ریاستی درجہ کب بحال ہوگا تو جواب ملتا ہے کہ مناسب وقت پر ہوگا لیکن وہ مناسب وقت آخر کب آئے گا، یہ کوئی نہیں بتاتا۔
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ریاست کا مکمل درجہ جلد از جلد بحال کرنے کا مطالبہ دوہراتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر کے عوام اپنے آئینی اور جمہوری حقوق کے مستحق ہیں اور ریاستی درجہ بحال ہونے تک جدوجہد جاری رہے گی۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے لیڈر یہ کہہ رہے ہیں کہ دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کرنے سے ریاستی درجہ حاصل نہیں ہوگا۔ اس پر طنزیہ انداز میں عمر عبداللہ نے کہاکہ اگر جنتر منتر پر احتجاج سے ریاستی درجہ نہیں ملے گا تو کیا ہم امریکہ کے وائٹ ہاؤس جا کر ڈونالڈ ٹرمپ سے ریاستی درجہ مانگیں؟عمر عبداللہ نے کہا کہ چونکہ یہ معاملہ ہندوستان کے آئین اور وفاقی نظام سے متعلق ہے، اس لیے احتجاج بھی ملک کے دارالحکومت نئی دہلی میں ہی کیا جائے گا اور وزیراعظم نریندر مودی سے جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔عمر عبداللہ نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’’حد بندی کا عمل جمہوری نمائندگی کو مضبوط کرنے کے بجائے پچھلے دروازے سے حکومت کرنے میں مدد کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ بی جے پی ’آپریشن لوٹس‘ کے ذریعہ ملک بھر میں اپوزیشن پارٹیوں کو کمزور کرنے اور توڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘‘