بورس جانسن کی کیٖف میں یوکرینی صدر سے ملاقات

Updated: April 11, 2022, 12:23 PM IST | Agency | Kyiv

بورس جانسن نے زیلنسکی کے ساتھ کیٖف کے کئی علاقوں کا دورہ کیا ، مقامی افراد کے ساتھ بات چیت کی

Johnson and Zelensky surveying a devastated area of Kyiv.Picture:INN
کیٖف کے ایک تباہ حال علاقے کا جائزہ لیتے ہوئے جانسن اور زیلنسکی۔ تصویر: آئی این این

 برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے یوکرین کا دورہ کرکے وہاں حالات کا جائزہ لیا ہے اور برطانیہ کی جانب سے یگانگت کا اظہار کیا ہے ۔  جانسن نے سنیچر کی سہ پہر کیٖف کا دورہ کیا اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کی۔ اپنے اس دورے کے دوران برطانوی وزیراعظم نے کیٖف شہر کے مرکزی حصے میں عام شہریوں سے بھی ملاقات کی اور ان کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔ یوکرینی صدر زیلنسکی نے بورس جانسن کے ساتھ بات چیت میں مطالبہ کیا کہ مغربی دنیا کو روس کے خلاف مزید سخت پابندیاں عائد کرنا اور یوکرین کو روسی حملوں کے خلاف اپنے دفاع کے لیے مزید ہتھیار بھی فراہم کرنا چاہئے۔ بورس جانسن نے وعدہ کیا کہ لندن حکومت یوکرین کو ۱۲۰؍بکتر بند گاڑیاں اور نئے اینٹی شپ میزائل سسٹم بھی مہیا کرے گی۔ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا کہ یہ امدادی پیکیج اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے ملک نے فروری کے اواخر سے روس کے خلاف اور یوکرین کی حمایت کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ جانسن نے ٹویٹر پر کہا کہ انہوں نے کیٖف میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کی تاکہ وہ اپنے ملک کے لیے اپنی ’غیر متزلزل حمایت‘ ظاہر کریں۔ قبل ازیں یوکرینی ایوان صدر نے سنیچر کے روز اطلاع دی تھی کہ برطانوی وزیر اعظم جانسن یوکرین کے دارالحکومت کیٖف پہنچے اور یوکرینی صدر زیلنسکی سے ملاقات کی۔ اے ایف پی کے مطابق یوکرینی صدر کے معاون آندرے سبیہا نے فیس بک پر ان دونوں  سربراہان مملکت کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ جانسن کا دورہ کیف کے دوران ان کی زیلنسکی کے ساتھ دو طرفہ ملاقات سے شروع ہوا ہے۔  ڈاؤننگ اسٹریٹ نے اعلان کیا کہ برطانوی وزیر اعظم یوکرینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کیف گئے ہیں۔ لندن نے کہا کہ جانسن زیلنسکی کے ساتھ یوکرین کو مزید دفاعی اور مالی امداد بھیجنے پر بات کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK