Updated: October 26, 2026, 1:14 PM IST
| Brasília
برازیل کے صدر لوئیز ایناسیو لولا دا سلوا نے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں کامیابی حاصل کرکے ایک بار پھر ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کا راستہ ہموار کرلیا۔ سرکاری نتائج کے مطابق انہیں۷۹ء۵۱؍ فیصد ووٹ ملے، جبکہ دائیں بازو کے امیدوار فلیویو بولسونارو ۲۱ء۴۸؍ فیصد ووٹ حاصل کرسکے۔ لولا کی یہ کامیابی اس لیے تاریخی ہے کہ وہ پہلے مرحلے میں اپنے حریف سے پیچھے رہنے کے باوجود دوسرے مرحلے میں کامیاب ہوئے۔ دوسری جانب فلیویو بولسونارو نے ووٹنگ کے اوقات میں توسیع پر اعتراض کرتے ہوئے نتائج منسوخ کرانے کے لیے قانونی کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔
لولا دا سلوا۔ تصویر: آئی این این
لاطینی امریکہ کی سب سے بڑی معیشت برازیل میں صدارتی انتخابات کے نتائج نے ملک کی سیاست میں ایک بار پھر لولا دا سلوا کی واپسی پر مہر ثبت کردی ہے۔ برازیل کی سپریم الیکٹورل کورٹ کے حتمی نتائج کے مطابق، لولا کو ۶؍ کروڑ ۴۲؍ لاکھ ۵۶؍ ہزار ۲۳۲؍ ووٹ ملے، جو درست ووٹوں کا ۷۹ء۵۱؍ فیصد ہیں۔ ان کے حریف فلیویو بولسونارو نے ۵؍ کروڑ ۹۸؍ لاکھ ۲۶؍ ہزار ۴۱؍ ووٹ حاصل کیے، جو ۲۱ء۴۸ فیصد بنتے ہیں۔ دونوں امیدواروں کے درمیان تقریباً ۴۴؍ لاکھ ووٹوں کا فرق رہا۔
۸۰؍ سالہ لولا کی یہ کامیابی کئی اعتبار سے غیر معمولی ہے۔ وہ پہلے بھی ۲۰۰۳ء سے ۲۰۱۱ء تک مسلسل دو مدتوں کے لیے برازیل کے صدر رہ چکے ہیں اور ۲۰۲۳ء میں تیسری بار اقتدار میں آئے تھے۔ اب وہ چوتھی بار، غیر مسلسل مدت کے لیے صدر منتخب ہوئے ہیں۔ اس بار ان کی کامیابی اس لیے بھی اہم ہے کہ ۴؍ اکتوبر کو ہونے والے پہلے مرحلے میں وہ فلیویو بولسونارو سے پیچھے رہ گئے تھے۔ پہلے مرحلے میں فلیویو کو تقریباً ۴۷؍ فیصد اور لولا کو ۴۵؍ فیصد ووٹ ملے تھے، لیکن کوئی بھی امیدوار ۵۰؍ فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل نہیں کرسکا، جس کے بعد دوسرے مرحلے کا انتخاب ناگزیر ہوگیا۔
یہ بھی پڑھئے: مسجد الحرام کے سربراہ کی مکہ، مدینہ پر حوثی حملوں کی مذمت
انتخابی مہم میں دونوں امیدواروں نے برازیل کے مستقبل کے لیے مختلف راستے پیش کیے۔ بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لولا نے غربت میں کمی، سماجی بہبود، روزگار اور عوامی خدمات کو اپنی مہم کا اہم حصہ بنایا۔ ان کے حامیوں نے ان کے سابقہ دورِ حکومت میں غربت کم کرنے کے اقدامات کو نمایاں کیا۔ دوسری جانب ۴۵؍ سالہ فلیویو بولسونارو نے جرائم پر قابو پانے، ٹیکسوں میں کمی اور دائیں بازو کے سیاسی نظریات کو آگے بڑھایا۔ وہ سابق صدر ژائیر بولسونارو کے بیٹے ہیں، جنہیں ۲۰۲۲ء کے انتخابات کے بعد اقتدار پر قبضے کی کوشش سے متعلق مقدمے میں سزا سنائی گئی تھی۔ فلیویو کی مہم نے اپنے والد کے سیاسی حامیوں کو متحرک رکھنے کی کوشش کی، لیکن دوسرے مرحلے میں لولا نے معمولی نہیں بلکہ تقریباً ۴۴؍ لاکھ ووٹوں کی برتری حاصل کرلی۔
انتخابی دن ووٹنگ کے اوقات میں توسیع پر بھی تنازع پیدا ہوا۔ سپریم کورٹ کے جج کرسٹیانو زانین نے بعض علاقوں میں عوامی ٹرانسپورٹ کے مسائل اور خراب موسم کے باعث ووٹنگ میں دو گھنٹے کی توسیع کی اجازت دی۔ دونوں امیدواروں کی مہمات نے بعض علاقوں میں ووٹنگ کے لیے اضافی وقت کی درخواست کی تھی، تاہم فلیویو بولسونارو نے بعد میں فیصلے کو ناقابلِ قبول قرار دیا اور نتائج منسوخ کرانے کا اعلان کیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ ووٹنگ کے اختتامی وقت میں تبدیلی سے انتخابی عمل متاثر ہوا۔ تاہم، انتخابی حکام نے نتائج کا اعلان کردیا ہے اور محض کسی امیدوار کے اعتراض سے سرکاری نتیجہ خود بخود کالعدم نہیں ہوجاتا۔
لولا نے کامیابی کے بعد اپنے حامیوں سے خطاب میں جمہوریت، عوامی شرکت اور بیرونی مداخلت کے خلاف بات کی۔ ان کے مطابق، انتخابی مہم میں ووٹ کی اہمیت اجاگر کرنے اور عوام کو جمہوری عمل میں شریک کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ برازیل کسی کا ’’پچھواڑا‘‘ نہیں ہے، جو ان کے اس مؤقف کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک کو اپنی خارجہ پالیسی اور قومی فیصلوں میں خودمختاری برقرار رکھنی چاہیے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برازیل کے امریکا کے ساتھ تجارتی اور سیاسی تعلقات، بالخصوص صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی محصولات سے متعلق پالیسیوں کے تناظر میں، اہمیت رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کا مقبوضہ مغربی کنارے کے الخلیل سے۲۰۰۰؍ فلسطینیوں کی جبری بےدخلی کا اعتراف
برازیل کی سیاست پر اس انتخاب کے اثرات ملک کی سرحدوں سے باہر بھی محسوس کیے جائیں گے۔ لاطینی امریکہ کے کئی ممالک میں حالیہ برسوں کے دوران دائیں بازو کی جماعتوں اور امیدواروں کو کامیابیاں ملی ہیں۔ ایسے ماحول میں لولا کی واپسی خطے کی سیاسی سمت کے بارے میں ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہے۔ برازیل امریکا اور چین دونوں کے ساتھ بڑے تجارتی تعلقات رکھتا ہے، اس لیے لولا کی آئندہ حکومت کو تجارت، سرمایہ کاری، موسمیاتی پالیسی اور علاقائی سفارت کاری میں متعدد ترجیحات کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔ انتخابی نتائج سے یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ بائیں بازو کی قیادت نے سخت مقابلے کے باوجود اقتدار برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کی، لیکن نئی مدت میں معاشی اور سماجی وعدوں پر عمل درآمد ان کے لیے اہم چیلنج رہے گا۔
انتخابات میں ووٹرز کی شرکت بھی قابلِ ذکر رہی۔ برازیل کے انتخابی حکام کے مطابق، دوسرے مرحلے میں ووٹ ڈالنے کے اہل ۱۵؍ کروڑ ۸۷؍لاکھ سے زیادہ شہریوں میں سے تقریباً ۱۲؍ کروڑ ۸۲؍ لاکھ نے ووٹ ڈالا۔ ووٹنگ سے گریز کی شرح تقریباً ۲ء۱۹؍ فیصد رہی، جو پہلے مرحلے میں درج ۰۸ء۲۱؍ فیصد سے کم تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آخری مرحلے میں ووٹرز کی شرکت بڑھی، اگرچہ ملک کے سیاسی اور نظریاتی اختلافات واضح طور پر برقرار رہے۔
فلیویو بولسونارو کی جانب سے نتائج منسوخ کرانے کے اعلان کے بعد اب توجہ ممکنہ قانونی درخواست اور انتخابی اداروں کے ردعمل پر رہے گی۔ ان کے اعتراضات کے باوجود برازیل کی انتخابی عدالت نے لولا کی کامیابی کا اعلان کردیا ہے۔ لولا ۵؍ جنوری ۲۰۲۷ء کو نئی مدت کے لیے حلف اٹھائیں گے، جس کے بعد ان کی حکومت کو غربت، روزگار، عوامی خدمات، جرائم اور عالمی تجارتی دباؤ جیسے مسائل پر اپنے وعدوں کو عملی شکل دینا ہوگی۔