• Mon, 26 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں، سیکڑوں فلسطینی بے گھر

Updated: October 26, 2026, 2:18 PM IST | Agency | Ramallah

فلسطینیوں کے حملے میں ۲؍ اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت پر کارروائیاں کئی دنوں تک جاری رکھنے کا اعلان۔ اس میں تلاشی مہم اور عمارتوں کو مسمار کرنا شامل ہوگا۔

Israeli soldiers are demolishing Palestinians` homes in the West Bank. Photo: INN
اسرائیلی فوجی مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے گھروں کو مسمارکررہے ہیں۔ تصویر: آئی این این

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج نے ہفتے کے اختتام پر بڑے پیمانے پر کارروائی کی  جس کے دوران سیکڑوں فلسطینی بے گھر ہوئے اور ان کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں۔اسرائیلی فوج کے مطابق یہ کارروائیاں جمعہ کو الخلیل شہر میں ہونے والے اس حملے کے بعد کی گئیں جس میں ۲؍ اسرائیلی فوجی ہلاک اور ۳؍ زخمی ہوئے تھے۔ اسرائیلی فوج نے جمعہ سے مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک فوجی کارروائی شروع کی جس کے بارے میں کہا ہے کہ یہ کئی دنوں تک جاری رہے گی۔ اس کارروائی میں تلاشی مہم اور عمارات کو مسمار کرنا شامل ہو گا۔

اسرائیلی فوج اور داخلی  سیکوریٹی ایجنسی شِین بیٹ کے ایک مشترکہ بیان کے مطابق افواج الخلیل (ہیبرون) میں اہداف کی تلاشی اور مشتبہ افراد سے تفتیش کر رہی ہیں تاکہ ’دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کا پتہ لگا کر اسے ختم کیا جائے‘۔ حکام کا بیان ہے کہ حملہ آور اسی علاقے سے آئے تھے۔بیان میں کہا گیا کہ افواج ’وہ غیر قانونی تعمیرات بھی مسمار کر رہی ہیں جو تصادم کے مقام پر سیکوریٹی کیلئے خطرہ بن سکتی ہیں‘ نیز یہ کہ درجنوں مقامات پر ’انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں‘ جاری ہیں۔الخلیل میں مقیم اے ایف پی کے ایک فوٹوگرافر جو کسی اور کام سے ایک جگہ جا رہے تھے، نے فرش الھویٰ چوکی پر اسرائیلی فوجیوں اور دو فلسطینیوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ دیکھا۔ فلسطینیوں کے پاس ایک ہینڈ گن اور ایک خودکار رائفل موجود تھی۔آخرِ کار اسرائیلی افواج نے حملہ آوروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

یہ بھی پڑھئے:سربیا: طلبہ تحریک نے ووچیچ کے ۱۴؍ سالہ اقتدار کو ہلا دیا، پارلیمانی انتخابات میں شکست

دورۂ الخلیل کے دوران وزیر اعظم نے کہاکہ ’’میں اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز ’یہودہ و سامریہ (مغربی کنارے) میں اسرائیلی فوج کے ایک انتہائی وسیع آپریشن‘ پر غور کر رہے ہیں جو۱۹۶۷ء کی جنگ کے بعد سے نہیں ہوا۔انہوں   نےیہ بھی کہاکہ اس کارروائی کے پہلے مرحلے میں اسرائیلی افواج اس علاقے میں داخل ہوں گی جہاں سے دہشت گرد آئے تھے، وہاں کے رہائشیوں کو نکالیں گی، گھر گھر تلاشی لیں گی اور دہشت گردی کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کر دیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوج وہ ماڈل نافذ کرے گی جو پہلے شمالی مغربی کنارے کے پناہ گزین کیمپوں میں استعمال کیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا۔ 

انسانی حقوق کے اسرائیلی گروپ بتسلیم نے اس کے خلاف فوری بین الاقوامی دباؤ کا مطالبہ کیا تاکہ اسرائیل کو ’اجتماعی سزاؤں اور جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے والے اقدامات‘ سے روکا جائے۔ انتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ جو وزارتِ دفاع میں بھی ایک عہدہ رکھتے ہیں، نے مغربی کنارے میں ’بالکل غزہ کی طرح‘ بڑی فوجی کارروائی کا مطالبہ کیا۔مشیر برائے قومی سلامتی اتمار بین گویر نے فلسطینی اتھاریٹی کو ختم کر دینے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ حملے میں اتھاریٹی کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے۔ نیتن یاہو نے ’حماس کے دہشت گردوں کا ہر جگہ تعاقب‘ کرنے کا عزم کیا اور   کہاکہ ’’آپ کے  پاس چھپنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔‘‘ حماس نے ذمہ داری قبول کئے بغیر ۲؍ اسرائیلی فوجیوں پر ہونے والے مہلک حملے کو ایک ’بہادرانہ عمل‘ قرار دیا اور اپنے حامیوں سے مزید ایسے حملے کرنے کی اپیل کی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK