روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ برکس کے رکن ممالک کے درمیان باہمی تجارت ۲ء۱؍ ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے گروپ کے اندر مزید گہرے اقتصادی انضمام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ برکس کی ترقی کی صلاحیت ابھی پوری طرح بروئے کار نہیں آئی ہے۔
EPAPER
Updated: September 13, 2026, 10:06 PM IST | New Delhi
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ برکس کے رکن ممالک کے درمیان باہمی تجارت ۲ء۱؍ ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے گروپ کے اندر مزید گہرے اقتصادی انضمام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ برکس کی ترقی کی صلاحیت ابھی پوری طرح بروئے کار نہیں آئی ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اتوار کو کہا کہ برکس کے رکن ممالک کے درمیان باہمی تجارت ۲ء۱؍ ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے گروپ کے اندر مزید گہرے اقتصادی انضمام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ برکس کی ترقی کی صلاحیت ابھی پوری طرح بروئے کار نہیں آئی ہے۔ نئی دہلی میں برکس کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پوتن نے کہا کہ رکن ممالک کی وسیع ہوتی داخلی منڈیاں، آبادی میں اضافہ اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی تعاون کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔
پوتن نے کہاکہ ہماری تنظیم کے اندر باہمی تجارت پہلے ہی ۲ء۱؍ ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ برکس ممالک دنیا کی مجموعی برآمدات میں تقریباً ایک چوتھائی حصہ رکھتے ہیں اور عالمی جی ڈی پی کی مجموعی ترقی میں ۴۹؍ فیصد کا حصہ ڈالتے ہیں۔ روسی صدر نے کہا کہ برکس کی سب سے بڑی غیر استعمال شدہ صلاحیتوں میں سے ایک اس کی معیشتوں کی تکمیل ہے۔ ان کے مطابق اقتصادی ڈھانچوں اور تخصات میں موجود فرق نئی پیداواری زنجیروں، ٹیکنالوجیز، خدمات اور منڈیوں کی تشکیل میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حقیقت میں ہم برکس کی ایک مشترکہ ترقیاتی بنیاد تشکیل دینے کی بات کر رہے ہیں، جو ہماری معیشتوں کے مسابقتی فوائد کو قدرتی طور پر یکجا کرے۔
یہ بھی پڑھئے:وزیراعلیٰ وجے کی سلوراسٹون میں اداکار اورریسنگ ڈرائیور اجیت کمار سے ملاقات
روسی صدر نے کہا کہ برکس میں بین الاقوامی دلچسپی مسلسل بڑھ رہی ہے اور گروپ کے اصول ان ممالک کے لیے زیادہ پرکشش ہوتے جا رہے ہیں جو سماجی اور اقتصادی ترقی کے لیے زیادہ مواقع کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برکس ایک زیادہ منصفانہ کثیر قطبی عالمی نظام کی تشکیل میں بھی فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ پوتن نے برکس نیو ڈیولپمنٹ بینک کی مالیاتی صلاحیت مزید مضبوط بنانے کی بھی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ بینک اب تک تقریباً ۴۰؍ ارب ڈالر مالیت کے ۱۲۳؍ منصوبوں کے لیے مالی اعانت فراہم کر چکا ہے، لیکن مالی وسائل کی ضرورت اس سے کہیں زیادہ ہے۔پوتن نے کہاکہ برکس نیو ڈیولپمنٹ بینک کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے اور اس کے کاروباری ماڈل کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کا کام متعلقہ اور ضروری نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بینک اب تک تقریباً ۴۰؍ارب ڈالر مالیت کے ۱۲۳؍ منصوبوں کی مالی اعانت کر چکا ہے۔ بلاشبہ یہ ایک اچھا نتیجہ ہے، لیکن مالی اعانت کی ضروریات اس سے کہیں زیادہ ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ڈسکارٹ اور موتی نے سنسنی خیز فتح کے ساتھ ٹرائیڈنٹس کے لیے پلے آف میں جگہ پکی کی
پوتن نے کہا کہ بینک کے کاروباری ماڈل کو اس طرح اپ ڈیٹ کیا جانا چاہیے کہ برکس کے رکن اور شراکت دار ممالک میں ترقیاتی منصوبوں کی مالی اعانت میں اس کا کردار مزید وسیع ہو سکے۔ روسی صدر نے برکس کے موجودہ فارمیٹ کی بھی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے برکس کے رکن ممالک، شراکت دار ممالک اور گروپ کے ساتھ تعاون میں دلچسپی رکھنے والی دیگر ریاستوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے درمیان براہ راست بات چیت کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ اس فارمیٹ میں ہونے والی ملاقات مؤثر ثابت ہوئی ہے اور یہ مکمل رکنیت رکھنے والے برکس ممالک اور شراکت دار ممالک کے ساتھ ساتھ ہماری تنظیم کے ساتھ تعاون میں دلچسپی رکھنے والی دیگر ریاستوں اور کثیر ملکی تنظیموں کے درمیان براہ راست اور کھلے مکالمے کا موقع فراہم کرتی ہے۔