• Tue, 08 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

برطانیہ کا ایران پر جوہری خدشات کے پیش نظر مزید سخت پابندیوں کا اعلان

Updated: September 08, 2026, 10:01 PM IST | London

برطانیہ نے منگل کو ایران پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کے لیے نئی قانون سازی کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت تجارت، مالیات اور بحری جہاز رانی پر پابندیوں کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔ یہ اقدامات تہران کے جوہری پروگرام اور ان دیگر سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں جنہیں برطانیہ معاندانہ قرار دیتا ہے۔

Iran And Britain.Photo:INN
ایران اور برطانیہ۔ تصویر:آئی این این

برطانیہ نے منگل کو ایران پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کے لیے نئی قانون سازی کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت تجارت، مالیات اور بحری جہاز رانی پر پابندیوں کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔ یہ اقدامات تہران کے جوہری پروگرام اور ان دیگر سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں جنہیں برطانیہ معاندانہ قرار دیتا ہے۔
وزیر مملکت اسٹیفن ڈاؤٹی نے پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے کہاکہ آج ہم ایسی قانون سازی پیش کر رہے ہیں جو ایرانی جوہری سرگرمیوں اور ایران کی دیگر معاندانہ سرگرمیوں سے نمٹے گی۔  برطانوی پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد یہ قانون سازی ان شعبوں پر عائد متعدد پابندیاں دوبارہ نافذ کرے گی جنہیں ۲۰۱۵ء کے ایران جوہری معاہدے کے تحت ختم کر دیا گیا تھا۔
برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ۲۸؍ اگست ۲۰۲۶ء کو اقوام متحدہ کے  اسنیپ بیک  طریقہ کار کو فعال کیا تھا، جس کے تحت ایران کے خلاف بین الاقوامی پابندیاں دوبارہ نافذ کی گئیں۔ اسنیپ بیک ۲۰۱۵ءکے معاہدے میں شامل ایک خصوصی طریقہ کار ہے، جس کے تحت ایران کی جانب سے جوہری وعدوں کی خلاف ورزی کی صورت میں سابقہ مالی اور تجارتی پابندیاں بحال کی جا سکتی ہیں۔
ڈاؤٹی نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام میں شفافیت کی کمی کئی برسوں سے بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بنی ہوئی ہے اور تہران بین الاقوامی خدشات دور کرنے میں ناکام رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے بارہا دیکھا ہے کہ ایران نے ان خدشات کو دور کرنے کے لیے نیک نیتی سے اقدامات نہیں کیے۔  انہوں نے کہاکہ ۲؍ دہائیوں سے زیادہ عرصے سے عالمی برادری ایران کے جوہری پروگرام کی نوعیت کے بارے میں وضاحت اور یقین دہانی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو ایسے طریقوں سے وسعت دی ہے جن کا کوئی قابلِ اعتبار پُرامن شہری جواز موجود نہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:سمیع اور مکیش نے جنوبی زون کو دیے جھٹکے، تلک ورما پر بڑی اننگز کی ذمہ داری

ڈاؤٹی نے ایران کی جانب سے ۴۰۰؍ کلوگرام سے زائد یورینیم کو ۶۰؍ فیصد تک افزودہ کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ایران واحد ایسا ملک ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہیں لیکن وہ یورینیم کو اس سطح تک افزودہ کر رہا ہے۔  نئی قانون سازی،  ایران (پابندیاں) (ترمیمی) ضوابط ۲۰۲۶ء کے ذریعے برطانیہ کے موجودہ پابندیوں کے ضوابط میں ترمیم کی جائے گی اور مختلف شعبوں پر اضافی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ 
ڈاؤٹی نے کہاکہ ان ضوابط کے تحت شعبہ جاتی اقدامات متعارف کرائے جا رہے ہیں جو بڑی حد تک ان پابندیوں سے مماثل ہیں جنہیں مشترکہ جامع منصوبہ عمل (جے سی پی او اے) کے تحت ختم کیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس قانون سازی کے ذریعے ایران کے جوہری عزائم کو محدود کرنے کے لیے برطانیہ کی کوششوں کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔نئے اقدامات کے تحت اضافی اشیا، ٹیکنالوجی اور خدمات پر تجارتی پابندیاں عائد کی جائیں گی، جن کا تعلق توانائی، سافٹ ویئر، دھاتوں، سونے، بحری جہاز رانی، انشورنس اور بینکاری سمیت اہم شعبوں سے ہے۔
ڈاؤٹی نے کہاکہ مالیاتی اقدامات برطانیہ کے مالیاتی نظام تک ایرانی حکومت کی رسائی اور اس کے جوہری پروگرام کی معاونت کے لیے فنڈز جمع کرنے کی صلاحیت کو مزید محدود کریں گے۔  برطانیہ مزید ایسی اشیا اور ٹیکنالوجی کی برآمد بھی ممنوع قرار دے گا جنہیں وہ ایران کی روایتی ہتھیاروں اور جوہری صلاحیتوں کے لیے اہم سمجھتا ہے۔ قانون سازی کے ذریعے برطانیہ کے ایران سے منسلک بحری جہازوں پر پابندیاں عائد کرنے کے اختیارات میں بھی توسیع کی جائے گی۔
برطانوی حکومت نے کہا کہ ان اقدامات سے ایسے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی اس کی صلاحیت مضبوط ہوگی جو  ایران کے جوہری پروگرام اور اس کے نقصان دہ اور عدم استحکام پیدا کرنے والے رویے کو ممکن بنانے اور اس میں سہولت فراہم کر رہے ہیں۔  ایرانی طیاروں کو بھی برطانیہ میں اترنے کی اجازت نہیں ہوگی، سوائے ان مخصوص صورتوں کے جن پر استثنا لاگو ہوگا۔ یہ اقدام برطانیہ کی موجودہ پابندیوں کو مزید وسعت دیتا ہے اور  ۲۰۲۵ءمیں ایران کے ساتھ برطانیہ کے دو طرفہ فضائی سروس انتظامات کے خاتمے کے بعد سامنے آیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:رمی یوسف اور ہیام عباس کی نئی غزہ سنیما اکیڈمی کو حمایت

برطانیہ نے کہا کہ اس نے یکم اکتوبر ۲۰۲۵ء کو متعلقہ پابندیوں کے ضوابط نافذ کرکے ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کے اسنیپ بیک کے نفاذ کے ذریعے اپنی اقوام متحدہ کی ذمہ داریاں پوری کیں۔ بعد ازاں برطانیہ نے مزید اقدامات کرتے ہوئے ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک۷۱؍افراد اور اداروں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا، جن میں مالیاتی ادارے اور توانائی کی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔
نئی قانون سازی میں عام اجازت نامے بھی شامل ہوں گے جن کے ذریعے آذربائیجان میں شاہ دنیز گیس فیلڈ کی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔ یہ گیس فیلڈ یورپی ممالک کو توانائی فراہم کرتا ہے۔ ڈاؤٹی نے کہاکہ یہ طویل عرصے سے جاری پالیسی کا تسلسل ہے اور اس سے ہم یورپی یونین اور امریکہ کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے ہیں، جنہوں نے شاہ دنیز سے متعلق سرگرمیوں کے لیے اسی نوعیت کی چھوٹ دے رکھی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK