دنیا بھر میں ۳۰؍ کروڑ سے زائد کتابیں فروخت کرنے والے مصنف کا انتقال آخری ناول کی اشاعت سے ایک روز قبل ہوا، سیاسی زندگی قانونی مقدمے کے باعث متاثر ہوئی تھی۔
EPAPER
Updated: October 06, 2026, 12:59 PM IST | London
دنیا بھر میں ۳۰؍ کروڑ سے زائد کتابیں فروخت کرنے والے مصنف کا انتقال آخری ناول کی اشاعت سے ایک روز قبل ہوا، سیاسی زندگی قانونی مقدمے کے باعث متاثر ہوئی تھی۔
برطانوی مصنف اور سابق سیاست دان جیفری آرچر ۸۶؍ برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ ان کے ناشر ہارپرکولنز نے پیر ۵؍ اکتوبر کو بتایا کہ آرچر اپنے گھر میں “اچانک اور پُرسکون طور پر” انتقال کرگئے اور اس وقت بھی تحریری کام میں مصروف تھے۔ ان کی موت ایسے وقت ہوئی جب ان کا آخری ناول ’ایڈم اینڈ ایو‘ ۶؍ اکتوبر کو شائع ہونے والا تھا۔
ہارپرکولنز کے مطابق آرچر کی کتابیں دنیا کے ۱۱۹؍ ممالک میں ۳۰؍ کروڑ سے زیادہ فروخت ہوئیں۔ وہ تقریباً ۵؍ دہائیوں پر محیط ادبی سفر میں عالمی سطح پر مقبول فکشن لکھنے والوں میں شامل رہے۔ ان کے معروف ناولوں میں ’ناٹ اے پینی مور، ناٹ اے پینی لیس‘، ’کین اینڈ ایبل‘ اور ’کلفٹن کرانیکلز‘ شامل ہیں۔ رائٹرز کے مطابق آرچر کی کتابیں مجموعی طور پر نیویارک ٹائمز کی بیسٹ سیلر فہرست میں ساڑھے ۵؍ سال تک جگہ بناتی رہیں۔
آرچر کا ادبی سفر ۱۹۷۶ء میں شائع ہونے والے ان کے پہلے ناول ’ناٹ اے پینی مور، ناٹ اے پینی لیس‘ سے شروع ہوا، جبکہ ۱۹۷۹ء میں شائع ہونے والے ’کین اینڈ ایبل‘ نے انہیں بین الاقوامی سطح پر مزید نمایاں کیا۔ ان کی تحریروں میں تیز رفتار کہانی، اچانک موڑ اور مختلف کرداروں کے درمیان طاقت اور دولت کی کشمکش نمایاں رہی، جس نے انہیں بڑے پیمانے پر قارئین تک پہنچایا۔
آرچر کی آخری کتاب ’ایڈم اینڈ ایو‘ ان کی موت کے اگلے روز شائع ہوئی۔ موت سے صرف ایک روز قبل وہ لندن کے لیسٹر اسکوائر تھیٹر میں قارئین سے ملاقات اور کتابوں پر دستخط کرنے کی تقریب میں شریک ہوئے تھے۔ ناشر کے مطابق اس تقریب میں انہوں نے مداحوں کے لیے سیکڑوں کتابوں پر دستخط کیے تھے۔ وہ رواں ہفتے چیلٹنہم لٹریچر فیسٹیول میں اپنی نئی کتاب کے بارے میں گفتگو کرنے والے تھے۔
ہارپرکولنز یوکے کی چیف ایگزیکٹو اور آرچر کی ایڈیٹر کیٹ ایلٹن نے ان کے انتقال پر کہا، “یہ میری ادبی زندگی کے عظیم اعزازات میں سے ایک تھا کہ میں جیفری آرچر کی ایڈیٹر رہی۔ وہ ایک عظیم کہانی کار، ایڈیٹر کے لیے خواب جیسے مصنف اور غیر معمولی محنت کرنے والے شخص تھے۔” انہوں نے کہا کہ آرچر ہر مسودے کو بار بار بہتر بنانے اور ہر لفظ کو درست کرنے کے لیے انتہائی پُرعزم رہتے تھے۔
ادب کے ساتھ آرچر کی زندگی کا ایک اہم حصہ برطانوی سیاست بھی رہی۔ انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں طالب علمی کے زمانے میں کنزرویٹو پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور ۱۹۶۹ء میں ضمنی انتخاب جیت کر ۲۹؍ برس کی عمر میں رکن پارلیمنٹ بنے۔ وہ تقریباً ۵؍ سال تک کنزرویٹو رکن پارلیمنٹ رہے اور بعد میں پارٹی کے ڈپٹی چیئرمین مقرر ہوئے۔ ۱۹۸۵ء میں اس وقت کی وزیراعظم مارگریٹ تھیچر کی قیادت میں انہیں پارٹی کا ڈپٹی چیئرمین بنایا گیا۔
ان کا سیاسی سفر ۱۹۸۶ء میں اس وقت شدید متاثر ہوا جب ان کے ایک دوست مائیکل اسٹیک پول کی ایک جنسی کارکن کو ۲؍ہزار پاؤنڈ کی ادائیگی کی تصویر شائع ہوئی۔ اخبار ڈیلی اسٹار نے الزام لگایا کہ رقم جنسی تعلق کے عوض دی گئی تھی۔ آرچر نے اخبار کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا اور ۵؍لاکھ پاؤنڈ ہرجانہ حاصل کیا، تاہم بعد میں یہی مقدمہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کا مرکز بن گیا۔
۱۹۹۹ء میں آرچر کو لندن کے پہلے براہ راست منتخب میئر کے لیے کنزرویٹو امیدوار نامزد کیا گیا، لیکن اسی دوران ایک سابق دوست نے الزام لگایا کہ انہوں نے ہتک عزت کے مقدمے میں جھوٹ بولا تھا۔ معاملہ دوبارہ سامنے آنے کے بعد آرچر پر جھوٹی گواہی دینے اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات عائد ہوئے۔ ۲۰۰۱ء میں عدالت نے انہیں مجرم قرار دے کر ۴؍ سال قید کی سزا سنائی۔ انہوں نے تقریباً ۲؍ سال جیل میں گزارے اور اسی دوران ’اے پرزن ڈائری‘ تحریر کی۔
جیل سے جلد رہائی کے بعد آرچر نے سیاسی زندگی میں بھی واپسی کی۔ انہیں ۱۹۹۲ء میں ہاؤس آف لارڈز کا تاحیات رکن بنایا گیا تھا اور وہ ۲۰۲۴ء میں ریٹائر ہونے تک برطانوی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا کے رکن رہے۔
آرچر کی سیاسی زندگی میں آنے والے تنازعات کے باوجود ان کا ادبی سفر جاری رہا اور ان کی کتابوں کی عالمی فروخت میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ ہارپرکولنز نے ان کے انتقال کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایسی شخصیت تھے جنہوں نے کئی نسلوں کے قارئین کو خوشی دی۔ آرچر نے اپنی آخری تحریر بھی مکمل کی اور ’ایڈم اینڈ ایو‘ ان کی زندگی میں مکمل ہونے والی آخری کتاب کے طور پر ان کے انتقال کے اگلے ہی دن قارئین تک پہنچ گئی۔