سیاسی بحران کےدرمیان برطانوی وزیراعظم بورس جانسن مستعفی

Updated: July 08, 2022, 11:18 AM IST | Agency | London

عوام سے خطاب کیا ، اپنے دور حکومت کی حصولیابیوں کو ذکر کیا ، کہا : کابینہ کے اراکین کو مطمئن کرنے میں ناکام رہا لیکن وزیراعظم کی تبدیلی درست فیصلہ نہیں ہوگا۔‘‘ پارٹی کے ذریعہ منتخب کئے جانے والے نئے لیڈر کی حمایت کا وعدہ ۔ فوری طور پر حکمراںجماعت کی قیادت سے استعفیٰ دیا لیکن نئےوزیر اعظم کے انتخاب تک بطور وزیر اعظم اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں گے

British Prime Minister Boris Johnson addresses.Picture:INN
بر طانوی وزیر اعظم بورس جانسن خطاب کرتےہوئے۔۔ تصویر: آئی این این

برطانیہ میں جاری سیاسی بحران کے دوران  وزیراعظم بورس جانسن نے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا ہے ،حالانکہ ان کا کہناہےکہ وہ نئے وزیراعظم کے آنے تک وزارتِ عظمیٰ کے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔ حالانکہ انہوں نے حکمراں جماعت کی قیادت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔  جمعرات کو اپنے خطاب میں بورس جانسن نے کہا،’’ واضح ہے کہ پارلیمانی پارٹی ایک نئے لیڈر اور ایک نئے وزیراعظم کو منتخب کرنا  چاہتی ہے۔  میں نے پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے استعفیٰ کا فیصلہ کیا ہے۔ ۱۹۲۲ءکمیٹی کے چیئرمین سر گراہم بریڈی کو اپنے استعفیٰ سے متعلق آگاہ کردیا ہے۔‘‘ان کا یہ بھی کہنا تھا،’’۱۹۸۷ء کے بعد کنزرویٹیو پارٹی نے کسی بھی انتخاب میں میری قیادت میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں۔ ان کے مطابق میں کابینہ کے اراکین کو مطمئن کرنے میں ناکام رہا لیکن وزیراعظم کی تبدیلی درست فیصلہ نہیں ہوگا۔‘‘  بورس جانس  نے یہ بھی کہا ،’’ مجھے اپنے دور  حکومت کی حصولیابیوں پر  نازہے۔ بریگزٹ کی تکمیل، کورونا بحران سے ملک کو نکالنا اور مغربی ممالک کو یوکرین میں روسی جارحیت کیخلاف اکٹھا کرنا  میر ی بڑی کامیابیاں ہیں۔‘‘ بورس جانسن کا کہنا تھا :’’ اعتراف کرتا ہوں کہ سیاست میں کوئی بھی شخص  ہمیشہ کیلئے نہیں ہوتا لیکن برطانوی عوام سے کہنا چاہتا ہوں کہ دنیا کی بہترین’ جاب‘ چھوڑنے پر انتہائی افسوس ہے۔‘‘
 انہوں نے وعدہ کیا کہ پارٹی جو بھی نیا لیڈر منتخب کرے گی اس کی مکمل حمایت کروں گا۔ خیال رہے کہ بورس جانسن کی سیاسی جماعت کنزرویٹیو پارٹی کو اپنے ہی لیڈروں کی جانب سے بغاوت کا سامنا کرنا پڑا اور  جمعرات تک یکے بعد دیگرے تقریباً۵۰؍ وزرا ء اور عہدیدار مستعفی ہوگئے تھے جس سے بورس جانسن پر بھی استعفیٰ کا دباؤ  تھا، حالانکہ جمعرات کی دوپہرتک  ان کے قریبی ذرائع آخر تک یہی کہتے رہے کہ بو رس جانسن وزیر اعظم رہیں گے۔ وہ  استعفیٰ نہیں دیں  گے ،کیونکہ انہیں عوام نے منتخب کیا ہے لیکن  جمعرات کی شام کو انہوں نے وزارت عظمیٰ سے بھی استعفیٰ دینے کا اعلان کردیا۔ برطانوی نشریاتی ادارے   بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بورس جانسن  استعفیٰ کے بعد بھی  اکتوبر تک وزیر اعظم کے عہدے پر برقرار رہیں گے۔
بحران کا آغاز کب ہوا؟
 بورس جانسن کی کرسی پر بحران اس وقت شروع ہوا تھا جب ۵؍ جولائی کو وزیر خزانہ رشی سنک نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس کے بعد وزیر صحت ساجد جاوید بھی مستعفی ہو گئے تھے۔ خبر لکھے جانے تک۴؍ کابینی وزیر مستعفی ہو چکے ہیں جن میں رشی سونک اور ساجد جاوید کے علاوہ سائمن ہارٹ اور برینڈن لوئس شامل ہیں۔بورس جانسن کیخلاف بغاوت کرس پنچر کو چیف وہپ مقرر کئے جانے کے بعد ہوئی تھی۔ دراصل کرس پنچر پر جنسی استحصال کے الزام ہیں۔ ایک برطانوی اخبار نے۳۰؍ جون کو دعویٰ کیا تھا کہ کرس پنچر نے دو افراد کو قابل اعتراض طریقہ سے چھوا تھا۔یہ رپورٹ شائع ہونے کے بعد کرس پنچر نے استعفیٰ دے دیا لیکن ان کی ہی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کا الزام تھا کہ جانسن کو کرس پر عائد الزامات کا علم تھا اس کے باوجود انہوں نے ان کا تقرر کیا تھا۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق دو دنوں کے اندر ۴؍ کابینی وزراء،۲۲؍  وزراء، پارلیمنٹ کے۲۲؍ پرسنل سیکریٹری اور۵؍ دیگر اہم عہدوں پر فائز افراد نے استعفیٰ دے دیا۔
 بور س جانسن کی کر سی  پہلے بھی خطرے میں تھی
  بورس جانسن کی کرسی اس سے پہلے ’پارٹی گیٹ‘ کے سامنے آنے کے بعد بھی خطرے میں تھی اور ان کے خلاف پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کی تحریک بھی پیش کی گئی تھی لیکن اس وقت  انہوں نے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا تھا۔ پارٹی گیٹ  معاملہ میں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ۲۰۲۰ء میں کورونا کے سخت لاک ڈاؤن کے باوجود جانسن پارٹی کر رہے تھے۔ اس پارٹی میں۳۰؍ افراد شامل ہوئے تھے جبکہ اس وقت لاک ڈاؤن کے سبب کسی بھی تقریب میں صرف دو افراد کو  شریک ہونے کی اجازت تھی۔ لاک ڈاؤن کے اصولوں کی خلاف ورزی پر جانسن پر جرمانہ عائد کیا گیا تھا اور انہوں نے پارٹی میں معذرت بھی کی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK