۹؍ لاکھ ۱۲؍ ہزارکروڑ کے بجٹ میں کئی نئی اسکیمیں بھی شامل،اقلیتوں کیلئےبجٹ میںمعمولی اضافہ، ایس پی نے بی جے پی کا الوداعی بجٹ بتایا
EPAPER
Updated: February 12, 2026, 5:59 AM IST | Hamidullah Siddiqui | Lucknow
۹؍ لاکھ ۱۲؍ ہزارکروڑ کے بجٹ میں کئی نئی اسکیمیں بھی شامل،اقلیتوں کیلئےبجٹ میںمعمولی اضافہ، ایس پی نے بی جے پی کا الوداعی بجٹ بتایا
اتر پردیش اسمبلی میں۹؍ لاکھ ۱۲؍ ہزار ۶۹۶؍کروڑ کا بجٹ پیش کیا گیاجو گزشتہ سال کے مقابلے میں ۱۲ء۹؍ فیصد زیادہ بتایا جا رہا ہے۔ بجٹ میں۴۳؍ ہزار۵۶۵؍ کروڑ۳۳؍ لاکھ روپے کی نئی اسکیمیں بھی شامل کی گئی ہیں۔وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں ریاست کا یہ دسویں مرتبہ بجٹ پیش کیا گیا، جس کے بارے میں حکومت کا دعویٰ ہے کہ بغیر کوئی نیا ٹیکس عائد کئے ریاستی بجٹ کا حجم تین گنا سے زائد بڑھ چکا ہے۔ تاہم اپوزیشن نےبجٹ کو کاغذی اور جھوٹ کا پلندہ قراردیا ہے،بالخصوص اقلیتوں کیلئے مختص فنڈ میںمعمولی اضافہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اتر پردیش کے وزیر خزانہ سریش کھنہ نے بدھ کو اسمبلی میں بجٹ پیش کیا، جس میں تعلیمی اور زرعی شعبوں پر خصوصی توجہ دے کر معاشی ترقی کو رفتار دینے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔بجٹ پیش کرتے ہوئے کھنہ نےزور دے کر کہا کہ ریاستی حکومت مالی نظم و نسق اور قرضوں پر قابو پانے کیلئے پوری طرح پُرعزم ہے۔اہم شعبوں کیلئےمختص رقوم کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعلیم کیلئے کل بجٹ کا ۱۲ء۴؍فیصد اور صحت کیلئے۶؍ فیصد مختص کیا گیا ہے جبکہ زراعت اور متعلقہ خدمات کیلئے ۹؍ فیصد رقم رکھی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی معیشت کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے، تاہم ریاست کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا اور انہیں ہنر مند بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ ان کے مطابق تکنیکی مہارت یا کسی پیشے میں مہارت رکھنے والا فرد بے روزگار نہیں رہتا۔ اسی مقصد کے تحت بڑے پیمانے پر روزگار پر مبنی تربیتی اور ہنر افزائی پروگرام مشن موڈ میں ترجیحی بنیادوں پر چلائے جائیں گے۔ رسمی تعلیم کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی مہارتوں کو مضبوط بنانے کے انتظامات کئے جائیں گے۔ موجودہ اسکل ڈیولپمنٹ مراکز کی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے گا اور ریاست بھر میں نئے مراکز قائم کئے جائیں گے۔اس مہم میں نجی شعبے کی شمولیت بھی یقینی بنائی جائے گی۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت مختلف اضلاع میں اسکل ڈیولپمنٹ اور روزگار فراہمی مراکز قائم کئے جائیں گے جبکہ خواتین کی افرادی قوت میں شرکت بڑھانے کیلئے علاحدہ مراکز بھی قائم کئے جائیں گے۔
اکھلیش یادو نے بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ بجٹ کا حجم۹؍ لاکھ کروڑ سے زیادہ دکھایا جا رہا ہے، لیکن زمینی حقیقت میں یہ عوامی توقعات پر پورا نہیں اترتا۔پارٹی کے ریاستی ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران اکھلیش یادو نے کہا کہ جب منہ کھولا تو برا بولا، یہ الوداعی بجٹ ہے اور اب بی جے پی کی رخصتی طے ہے۔ مایاوتی نے بجٹ کو عوام کو لبھانے والا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں عوام کے حقیقی فلاح و بہبود اور ہمہ جہت سماجی ترقی کی جھلک معدوم نظر آتی ہے۔ کانگریس نے اسے ناکام بجٹ قرار دیا۔